تازہ تر ین

ٹرمپ کی چوتھی بار ثالثی پیشکش اہم ، اب مسئلہ کشمیر پر ڈنڈی نہیں مارسکتے :ضیاشاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلہ بارے زیادہ تر قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ فیصلہ میں ابہام رکھا گیا جس سے مودی سرکار کو فائدہ مل سکتا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ کیس کے مدعی سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کیلئے جاتے ہیں یا خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ بھارتی عدلیہ نے فیصلہ میں قومی مفاد کی پخ لگا کر اسے خود ہی منسوخ کر دیا ہے کیونکہ مودی کے نزدیک تو کرفیو لگانا ہی قومی مفاد ہو گا۔ بھارتی حکومت نے فیصلہ کے بعد ابھی تک کرفیو ختم نہیں کیا جس کا مطلب ہے کرفیو نہیں اٹھایا جائے گا۔ امریکی صدر کا مسئلہ کشمیر پر چوتھی بار ثالثی کی پیش کش کرنا اہم ہے۔ دنیا کے محتلف ممالک میں کشمیریوں کی بڑیت عداد موجود ہے ان کو بھارتی سپریم کورٹ میں جان اور پٹیشن دائر کرنی چاہئے۔ کشمیر مسئلہ پر حکومت اور اپوزیشن میں اتحاد دکھائی نہیں دیتا۔ ن لیگ، پیپلزپارٹی، اے این پی جے یو آئی ف اور بلوچستان کی بعض جماعتیں کشمیر کے معاملہ پر یکجا نہیں ہیں۔ اپوزیشن کو اس معاملہ پر حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تھا وہ کردار ادا کرنا چاہئے تھا جو 65ءمیں اپوزیشن نے ادا کیا۔ مسئلہ کشمیر پر تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ اعلامیہ جاری ہونا چاہئے تھا۔ وزیراعظم عمران خان کشمیر کے معاملہ پر اے پی سی بلائیں تا کہ جو اس میں شامل نہ ہو وہ بے نقاب ہو جائے، حکومت روٹھا رویہ اپنانے کے بجائے خود آگے بڑھ کر دعوت دے صدر ٹرمپ نے ثالثی کی بات یونہی نہیں کی وہ کشمیر کے معاملہ پر ڈنڈی نہیں مار سکتے کشمیر عالمی ایشو بن چکا ہے ٹرمپ اس کا حل کر کے کریڈٹ لینے کی کوشش ضرور کریں گے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved