تازہ تر ین

فضل الرحمن ،ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کرایے پر دھرنا دے رہے ہیں ،غلام اکبر

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں سینئر صحافی روزنامہ الاخبار کے ایڈیٹر انچیف غلام اکبر نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا”رینٹ اے دھرنا“ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایماءپر ہے، منتخب وزیراعظم کو مجمع لے کر گھر سے اٹھانے کی بات بغاوت سے بھی آگے کی ہے۔ مارچ اور دھرنا ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے جب کہ پاک فوج مغربی اور مشرقی بارڈر پر مصروف ہے دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد میں الجھایا گیا ہے اور اس مارچ یا دھرنے کا فائدہ صرف اور صرف پڑوسی ملک کو ہی ہے۔ان کا ضیا شاہد کے ساتھ مکمل مکالمہ سوالاً جواباً پیش خدمت ہے۔
ضیا شاہد: کیا منتخب وزیراعظم کا مجمع اکٹھا کر کے استعفیٰ مانگنا کیا درست اقدام ہے۔
غلام اکبر: میں اس سوال کا جواب آپ سے سوال کی صورت میں دوں گا کیا آپ کو کوئی ایسا ملک پوری تاریخ میں موجود ہے جس میں حکومتی رٹ کے لئے شہریوں نے اس انداز میں مارچ کیا ہو اس انداز میں ان سب کا ایک تشخص ہو کہ قبائلی پاکستان پر حملہ آور ہو گئے ہیں۔ میں تو سٹیٹ فارورڈ یہ بات کروں گا کہ یہ مارچ جمہوریت کے نام رپ اس مارچ کا جو امیج بنا ہے وہ حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا گیا ہے۔ وزیراعظم ریاست کی رٹ کی پہچان ہوتا ہے اس کا استعفیٰ مانگنے کے لئے آپ اسلام آباد پر حملہ آور ہوں اور یہ کہیں کہ ہم اسے گرفتار بھی کر سکتے ہیں۔ سٹارٹ آپ نے یہاں سے لیا اور اسکے بعد یہ بھی کہا کہ اسلام آباد کو کیچر کے لئے یہی لوگ کافی ہیں حالانکہ میرے قافلے اور بھی آ رہے ہیں۔ یہ بات ہمارے لئے دنیا میں شرمندگی کی باعث بنی ہے دنیا بھر میں۔ اس کی سب سے بڑی خوشی ہمارے پڑوسی ملک کو ہو رہی ہو گی۔ اس کا طول پکڑنا ہمارے لئے چیلنج بن گیا ہے کہ حکومتی رٹ بحال کیسے کرنی ہے۔
سوال: اس دھرنے کو یہ کہنا کہ یہ درست نہیں اس اعتبار سے درست نہیں کہ خود عمران خان صاحب جو آج کل وزیراعظم ہیں اپنے وقت کے وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کیخلاف دھرنا دیا تھا اورنوازشریف سے استعفیٰ مانگا۔ اگر عمران خان کا اقدام درست تھا تو اس وقت کیسے غلط ہو سکتا ہے۔
جواب: دونوںکو الگ الگ تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ اقدام ایک جیسا لگتا ہے۔ پہلی بات میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مولانا کا مارچ ملک کے ایک کونے سے شروع ہوا اور ان کا مطالبہ ایک تھا کہ وزیراعظم استعفیٰ دے اور نئے انتخابات کرائے جائیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جس پارٹی نے یہ مارچ لانچ کیا اس کی پارٹی میں پارلیمنٹ میں نمائندگی ہی نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کا ووٹ کا تناسب کیا تھا۔ شکایت کیا تھی الیکشن کو ایک ڈیڑھ سال ہو گیا ہے ابھی تک وائے اس کہ مولانا نے اپنی سیٹیں ہاری ہیں عمران خان کی جدوجہد 2013ءمیں الیکشن ہوئے اور الیکشن کے بعد انہوں نے مسلسل ڈیمانڈ کرتے رہے۔ انہوں نے کمیشن کی ڈیمانڈ کی۔ بالآخر انہوں نے کہا کہ ہمارے 4 حلقے کھول دیں ہمیں جو بھی نتیجہ آئے گا وہ ہمیں قبول ہو گا۔ وہ مختلف صورت حال تھی اس میں انتہائی قدم اٹھایا گیا لیکن وہ نہیں ہونا چاہئے لیکن اس وقت بھی حکومت کو بڑا دل رکھنا چاہئے تھا اس وقت بھی اگر وہ کمیشن بٹھا دیتے تو میرے خیال میں یہ دھرنا مارچ نہ ہوتا۔ وہ اس طرح کا مارچ نہیں تھا اس میں پورے معاشرے کی نمائندگی تھی پوری سوسائٹی حصہ لے رہی تھی۔ اگر فضائی جائزہ تو یہ لگتا ہے کہ خاص قسم کی نسل لوگ اسلام آباد پر حملہ آور ہو گئی ہے۔ وہ ہمارے بھائی ہیں ہم ان کی عزت کرتے ہیں۔ لیکن ہمارا جو بین الاقوامی امیج بلڈ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ دین کے نام پر دہشت گردی کرتے ہیں اور یہ حکومت پاکستان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ عمران خان کا جو دھرنا تھا اس میں باقاعدہ انہوں نے لاٹھی چارج کیا تھا۔ گوجرانوالہ میں حملہ ہوا جہلم میں حملہ ہوا اس کے باوجود پہنچا۔ اس کے بعد بھی ٹھیک ہے اس انتہائی اقدام ہوا تھا اس میں مولانا طاہرالقادری بھی ساتھ تھے اور وہ مارچ ناکام ثابت ہوا تھا اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا تھا جو کچھ حاصل ہوا بعد میں حاصل ہوا۔ پانامہ پیپرز کے بغیر ممکن نہیں ہونا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ نے میاں نوازشریف کے خلاف سو موٹو لیا تھا اس میں کوئی بھی حکومت نہیں ہٹائی جا سکتی۔ اس میں ہم نے دنیا کو تصویریں فراہم کی ہیں پاکستان کے خلاف ایف اے ٹی ایف کا کیس آپ کے سامنے ہے مودی نے اپنی توجہ کشمیر کے علاوہ انڈیا کے مسلمانوں کے ساتھ جو آر ایس ایس کے بدمعاش کر رہے ہیں ادھر سے ہٹ گئی ہے وہ یہ کہنے کی پوزیشن میں اا گئے ہیں کہ یہ آر ایس ایس ہے تو آپ کے یہ لوگ کون ہیں یعنی جو انصار الاسلام کر رہی ہے بدقسمتی سے اس کی شہادت مجھے اس رنگ سے ملتی ہے جس رنگ میں آر ایس ایس کے لوگ سامنے آتے ہیں۔ یہ ایک امیج نازی تحریک مودی نے کھڑا کیا ہے ہمارے فضل الرحمن نے بھی کھڑا کیا ہے اور یہ پاکستان کی رٹ کے خلاف ہے۔ میں سمجھتا ہوں عمران خان نے جو دھرنا دیا تھا وہ صرف 9 نشستوں کو کھلوانے کے لئے نوازشریف کو بڑا ٹائم دیا تھا۔ حالانکہ میاں نوازشریف اس سے پہلے عمران خان کے گھر بھی گئے تھے۔
سوال:وزیراعظم کو مہرہ قرار دیا اور کہا کہ اس کے پیچھے مواصل قوت ہے اس کے خلاف بات کر رہے ہیں کہ اس کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے، آئندہ کسی بھی الیکشن میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے اور فوج الیکشن سے الگ رہے۔
جواب: یہ فوج پاکستان کی فوج ہے اور یہ پاکستانی شہری ہیں یہ ہم نے باہر سے امپورٹ نہیں کی، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ فوج غیر ملکی ہے جو پاکستان کے انتخابات کو مانیٹر کرتے ہیں۔ یہ غلط بات ہے اتفاق سے تینوں چاروں الیکشن جو پچھلے ہوئے ہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ تھا۔ پیپلزپارٹی کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ فوج کی نگرانی میں انتخابات ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ کبھی بھی الیکشن کی شفافیت پر اعتماد نہیں ہوتا۔ 1970ءکے انتخابات تھے وہ فوج نے کرائے تھے جسے ہم کہتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ شفاف الیکشن تھے۔ وہ نہ فضل الرحمن نے کرائے تھے نہ نوازشریف نے کرائے تھے۔ اسی فوج نے کرائے تھے جس کو یہ گالیاں دے رہے ہیں۔ بہرحال اس سے بری بات ہم سب کے خلاف نہیں ہو سکتی کہ آپ اپنی فوج پر عدم اعتماد کا اظہار کریں یہ بات سوچنا بھی ریاست پاکستان کے خلاف جرم ہے۔
سوال: مولانا نے جوش جذبات میں یہ کہہ دیا کہ اس وقت جو لوگ جمع ہیں اگر ان کو میں بنی گالا سے جا کر عمران خان کو گرفتار کر لوں تو بھی میں اس کی طاقت رکھتا ہوں۔ اس پر معروف قانون دان بابر اعوان کا کہنا ہے کہ یہ آئین سے بغاوت ہے۔
جواب: وزیراعظم چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے اور وہ سٹیٹ کی علامت ہوتا ہے۔ یہ کہتے ہیں سلیکٹڈ تھا تو آپ نے بائیکاٹ کیوں نہیں کیا۔ آپ نے ووٹ کیوں ڈالا۔ آپ نے لیڈر آف دی اپوزیشن کیں منتخب کرایا۔ جسے وہ سبھی پارلیمنٹ کہہ رہے ہیں اس کا حلف اٹھائے۔ ووٹ دیئے۔ منتخب وزیراعظم کو مجمع کے ذریعے گرفتار کرنے کی بات بغاوت سے بھی بڑی بات ہے۔ یہ ذاتی دشمنی ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہودی ایجنٹ ہیں۔ ایک یہی الزام ثابت نہ کریں تو ان کو پھانسی ملنی چاہئے۔ کسی مسلمان کو اتنی بڑی گالی دینا۔ اس سے بڑی گالی کیا ہو سکتی ہے کہ ایک آدمی جس کی سیاست میں آنے سے پہلے بھی پہچان پاکستان کے ہیرو کے طور پر تھی آپ سیاسی اختلاف کریں۔ عمران خان کرپشن کے خلاف ایجنڈا لے کر سیاست میں آئے اور ان کے الزامات کو پاناما نے عدالت نے درست ثابت کیا۔
سوال: ن اور پیپلزپارٹی ایک طرف کہتے ہیں ہم مولانا کے ساتھ ہیں دوسری طرف کہتے ہیں کہ ہم دھرنے میں شامل نہیں۔ کیا وہ صرف اپنے مقاصد کے لئے نام نہاد حمایت کرتے ہیں۔
جواب:یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی دشمن رہی ہیں۔ ان میں ون پوائنٹ ایجنڈا تھا کہ عمران خان ان کا مشترکہ دشمن ہے۔ یہ دھرنا پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے رینٹ کیا ہے۔ یہ دونوں سیاسی پارٹیاں نہیں پرائیویٹ لمیٹڈ پارٹیاں ہیں۔ ان کے سربراہ بوڑھے ہو گئے کسی کا گردہ نہیں کسی کا دل نہیں لیکن انہوں نے حکومت پاکستان پر ضرور کرنی ہے۔ دنیا میں کہیں کسی سیاستدان کو شبہ بھی ہو جائے کہ بڑی بیماری ہے چونکہ وہ کمانڈر انچیف بھی ہوتا ہے اس کو اگر جان لیوا بیماری ہو جائے تو اس کو اقتدار کے قریب نہیں بھٹکنے دیتے۔ شاید نقطہ نظر ہے کہ حکومت طاقت کا استعمال کرے اور ان کو ایک دو لاشیں مل جائیں اور وہ حکومت کو بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچا سکیں۔ مولانا نے ایک ذہانت کی بات کی ہے وہ آگے بڑھنے کی ضد نہیں کی۔ انہوں نے جگہ بھی ایسی سلیکٹ کی ہے جہاں سے ان کے لئے واپسی کا راستہ ہے۔ اگر عمران خان ان کو قبول کر لے تو مولانا ان کے پاس چلے جائیں گے۔
سوال:دونوں فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، شجاعت درمیانی راستہ تلاش کر رہے ہیں ابھی تک کامیاب نہی ںہوئے، کیا دھرنا ختم ہو گا؟
جواب:درمیانی راستہ ممکن ہی نہیں ہے، تحریک انصاف نے چھوٹی جماعتوں کو ملا کر حکومت بنائی ہے جن کی پنی خواہشات ہیں، عمران خان کا وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونا ناممکن بات ہے، ابھی تک تمام تر پروپیگنڈے کے باوجود عمران خان کا کوئی نقصان ہوتا نظر نہیں آتا، شکایت کی جاتی ہے کہ ٹیم اچھی سلیکٹ نہیں کی لیکن ٹیم تو موجود افراد سے ہی بنانا تھی، عمران خان مکمل پراعتماد ہیں ان کا کہنا ٹھیک ہے کہ ریاست پر حملہ کریں گے تو اس کا دفاع کرنا فوج کی ذمہ داری ہے ان کا نہیں۔
سوال: گزشتہ ادوار کی نسبت مہنگائی زیادہ ہوئی، مختلف پیشوں سے منسلک لوگوں کے معاشی مسائل میں اضافہ ہوا، کیا معاشی ٹیم کمزور ہے اس کی ترجیحات ٹھیک نہیں؟
جواب: عوام نے تبدیلی کیلئے ووٹ دیئے، مشرف نے لیگی حکومت کا تختہ الٹا تویہی کہا جا رہا تھا کہ ملک دیوالیہ ہونے والا ہے۔ اس بار نوازشریف گئے تو شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بنے انہیں پتہ تھا کہ اگلی حکومت عمران کی ہے اس لئے جان بوجھ کر ایسا بجٹ دیا کہ ملک چل ہی نہ سکے، پھر بھی عمران خان نے یہ سخت چیلنج قبول کیا ملک ملک دیوالیہ ہوا بلکہ عالمی سطح پر بڑی ادائیگیاں بھی کی گئیں، دھرنے کے باوجود اسٹاک ایکسچینج میں 890 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جو مثبت اشارہ ہے۔
سوال: کہا جا رہا ہے کہ دھرنے کے باعث مسئلہ کشمیر دب گیا ہے ایک طرح سے بھارتی ایجنڈا کامیاب ہوا کہ پاکستان اندرونی مسائل میں الجھ جائے اور کشمیر کو نظر انداز کرنا پڑے؟
جواب: مرچ اور دھرنا شعوری طور پر ایسے وقت میں دیا گیا جب کشمیر ایشو گرم ہے۔ عمران خان نے عالمی پلیٹ فارمز پر مسئلہ کو اٹھایا، یو این کے پلیٹ فارم پر پہلی بات کسی پاکستانی وزیراعظم نے نبی پاک اور اسلامی اتحاد کی بات کی، عمران خان کو الجھا دیا گیا ہے کہ اس موقع پر جب مسئلہ کشمیر عروج پر ہے غیر ملکی دورے نہ کر سکیں۔ مسئلہ کشمیر پہلی بار عالمی سطح پر اس انداز سے اٹھا ہے اب یہ ختم نہیں ہو گا۔ پاکستان کو پہلے مشرقی اور مغربی سرحدوں پر الجھایا گیا اب اسلام آباد میں بھی الجھا دیا گیا ہے۔
سوال: اخباری صنعت اور چینلز شدید بحران کا شکار ہیں سرکاری اشتہارات کم ہو گئے، نجی سیکٹر کے حالات بھی خراب ہیں اس صورتحال میں اخبارات اور چینلز کیسے چل سکتے ہیں، آپ کا صاحبزادہ بھی پابند سلاسل ہے حالات میں سلجھاﺅ کیسے آئے گا؟
جواب: نواز اور پی پی حکومت میں وہ خود سب سے بڑی ایڈورٹائزر تھیں وہ ایسی پرفارمنس کو بیچتے تھے جو حقیقت میں نہیں ہوتی تھی۔ میرے بیٹے کی کلائنٹ پیپلزپارٹی تھی میں نہیں سمجھتا کہ اس نے کوئی ایسا جرم کیا یہ جو دیگر ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں نے نہ کیا ہو۔ حکومت کی میڈیا بارے پالیسی ٹھیک نہیں ہے جس کا ذمہ دار فواد چودھری کو سمجھتا ہوں جس نے ایسا تاثر دیا کہ سوشل میڈیا دور میں اشتہاروں کی ضرورت نہیں۔ حکومت کو اپنی امیج بلڈنگ پر خرچ کرنا چاہئے، میڈیا انڈسٹری کی سپورٹ کرنا چاہئے، عالمی اور ملکی سطح پر بہت سے مسائل ایسے ہیں جنہیں ایڈورٹائز کیا جا سکتا ہے۔ فردوس عاشق ان مسائل کو سمجھتی ہیں انہیں اس پر بات کرنی چاہئے۔
سوال: آزادی مارچ ہفتہ چلے گا مہینہ چلے گا کب ختم ہو گا؟
جواب: ملک کی سلامتی سے وابستہ ادارے جن میں حکومت فوج اور عدلیہ شامل ہے دو تین دن میں دیکھیں گے کہ اس سے معاشی سرگرمیاں کتنی متاثر ہو رہی ہیں اس کے بعد کوئی فیصلہ ہو گا۔ اگر احتجاج دھرنے کے پیچھے عالمی سطح پر پیسہ بھی ملوث ہوا تو دھرنا طول پکڑ سکتا ہے ایسی صورتحال میں یہ پاک فوج کیلئے چیلنج ہو گا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved