تازہ تر ین

شرکا ءدھرنا مارچ کو بارش کے حوالے کر کے ،قائدین غائب سوشل میڈیا پر تنقید

اسلام آباد (اے پی پی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت کے آزادی مارچ اور دھرنے کے شرکاءکو شدید بارش اور سردی کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خود غائب ہو جانے کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے سی ڈی اے کو ھرنے کے شرکاءکی مشکلات کے حل کے لئے اقدامات کرنے کے حکم کوان کا بڑا پن قرار دیتے ہوئے سراہا جارہا ہے ‘ شدید بارش اور سردی کے باعث دھرنے کے شرکاءشدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ پارٹی کی سینئر قیادت دھرنے اور کنٹینر سے غائب ہوگئی ہے۔اس صورتحال پر ایک سینئر صحافی نے ٹویٹ کیا کہ ”مولانا ہم آپ سے یہ نہیں کہتے کہ آپ رات کھلے آسمان تلے گزاریں ‘ اس وقت اسلام آباد میں شدید بارش ہے، پلیز پشاور موڑ پر کھڑے اپنے کنٹینر میں ہی آج رات گزارلیں‘ آپ کے کارکنان آپ کے لئے آئے ہیں آپ بھی ان سے اظہار یکجہتی کریں“۔ ایک صارف نے لکھا کہ ”اسلام آباد میں بارش دوبارہ شروع ہوگئی ہے دھرنے کے شرکاءگرم کپڑوں سے بھی محروم ہیں‘قائدین ان کے لئے کچھ تو بندوبست کریں‘ یا کم از کم اس بارش میں کنٹینر پر آئیں تاکہ ان شرکاءکی کچھ تو حوصلہ افزائی ہو“۔ ایک اور ٹویٹرصارف نے تبصرہ کیا کہ ” مولانا کی منصو بہ بندی کا یہ حال ہے ‘ غریب دھرنے والوں کا خیال کریں ‘ بارش کے پیش نظر کوئی بندوبست کیا ہوتا‘ کدھر ہیں وہ کروڑ پتی اور ارب پتی اپوزیشن لیڈر جو عوام کے غم میں دن رات لوٹ مار کرتے رہے اور اس وقت سب غائب ہیں۔ ایک صارف نے طنزیہ ٹویٹ کیا کہ ”مولانا صاحب سو رہے ہیں ‘ تنگ مت کریں“۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ مولانا لیڈر ہوتے تو دھرنے کو لیڈ کرتے“۔ ایک شہری نے ٹویٹ کیا کہ ”فکر نہ کریں ‘ عمران خان نے انتظامیہ کو ہدایت کردی ہے کہ ان لوگوں کا پورا خیال کریں“۔ صارفین نے شدید سردی کے باوجود کھلے آسمان تلے دھرنے کے لئے آئے شرکاءکے جذبے کو سراہا اور دعا کی کہ ”اللہ تعالیٰ دھرنے کے شرکاءکے لئے آسانیاں پیدا کرے اور ملک و قوم کے لئے بہتر فیصلہ ہو“۔دھرنے کے شرکاءکے ریلیف اور مدد فراہم کرنے کے لئے شدید بارش اور سردی کے پیش نظر ضروری اقدامات کرنے کے حکم کو عوام نے بے حد سراہا ہے ۔ ایک صارف نے ٹویٹ کیا ہے کہ وزیراعظم نے جے یو آئی (ف) کے کارکنوں کو شیلٹر فراہم کرنے کی ہدایت کرکے بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ ”وہ اس سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں اور وہ ان کو شامیانے ‘ کمبل اور دوائیں دے رہا ہے۔ ایک سینئر صحافی نے سوال کیا کہ ”مولانا صاحب ! کیا انسانیت بھی مذہب کا تقاضا ہے‘ آپ کے دھرنے کے شرکاءبارش اور سردی میں کس بات کی سزا کاٹ رہے ہیں۔واضح رہے کہ دھرنے میں جب شرکاءشدید سردی میں کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار پڑے تھے تو جے یو آئی کے قائد کنٹینر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved