تازہ تر ین

عوام کو سستی اشیا فراہم ،مہنگائی کر نیوالوں کے خلاف کاروائی کی جائے،عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں آن لائن آرڈر کے نظام کو پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے بڑے شہروں میں رائج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ صوبائی سیکرٹریز نے بتایاہے کہ حکومت کی جانب سے پاسکو ذخائر سے  صوبوں کو گندم کی فراہمی سے گندم کی صورتحال تسلی بخش ہے ۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں وزیربرائے فوڈ سیکورٹی  صاحبزادہ محبوب سلطان،  وزیر برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چودھری، وزیرِ خوراک خیبر پختونخواہ حاجی قلندر خان لودھی،  وفاقی سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکورٹی  ڈاکٹر محمد ہاشم،  صوبائی چیف سیکریٹریز و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے ۔ اجلاس میں ملک بھر میں اشیائے ضروریہ خصوصا ً آٹے، گھی، چینی و دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں کی موجودہ صوتحال اور ان اشیاءکی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ۔ صوبائی چیف سیکرٹری  صاحبان کی جانب سے صوبوں میں آٹے کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو بریفنگ دی گئی ۔صوبائی چیف سیکرٹریز کی جانب سے بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے پاسکو ذخائر سے  صوبوں کو گندم کی فراہمی سے گندم کی صورتحال تسلی بخش ہے اور ملک کے کسی حصے میں گندم کی قلت کی شکایت نہیں ہے۔ اجلاس کے دوران  چیف کمشنر اسلام آباد نے مختلف اشیاءکی قیمتوں کے بارے میں عوام کو آگاہی فراہم کرنے، آن لائن آرڈرز اور ان اشیا کی عوام کی دہلیز تک فراہمی کے سلسلے میں بنائی جانے والی اپلی کیشن درست دام کے حوالے سے بریفنگ دی۔وفاقی دارالحکومت میں رائج کئے جانے والے اس نظام کو پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے بڑے شہروں میں رائج کرنے اور خیبر پختونخواہ میں ایبٹ آباد، پشاور، مردان اور ڈی آئی خان جبکہ پنجاب میں راولپنڈی، ملتان اور لاہور میں اس نظام کو فوری طور پر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوری کے تدارک کے لئے انتظامی اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر تحصیل میں کاشت کاروں کو حکومت کی جانب سے جگہ میسر کی جائے گی جہاں وہ بغیر کسی فیس یا اخراجات اپنی اجناس فروخت کر سکیں گے۔صوبائی انتظامیہ کی جانب سے ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف موثر اقدامات کے ساتھ ساتھ ہر ضلع کی شہری اور دیہی تحصیل میں اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاو¿ کی روزانہ اورہفتہ وار تجزیاتی رپورٹ بھی وزیرِ اعظم آفس کو بھجوائی جائے تاکہ قیمتوں کی اصل صورتحال پر نظر رکھی جا سکے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ موسمیاتی اثرات کی وجہ سے اجناس کی دستیابی کا مناسب وقت پر تعین کیا جائے تاکہ اجناس کی قلت نہ پیدا ہو سکے۔ اجلا س میں عوام تک  صحیح اور مناسب  قیمتوں میں اشیائے ضروریہ کی  فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ملک بھر میں پھیلے یوٹیلیٹی سٹورز کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ گندم، آٹے اور فائن میدے کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے بارڈر مینجمنٹ کو مزید موثر بنایا جائے،اسمگلنگ میں ملوث عناصر اور انکی معاونت کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم کو گھی کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال اور خاص طور پر ایکسل لوڈ پر عمل درآمد کو موخر کرنے کے حکومتی فیصلے کے بعد گھی کی قیمتوں میں کمی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایکسل لوڈ کو موخر کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد کے بعد گھی کے قیمتوں میں کمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ عوام کے استعمال میں آنے والی  ضروری اشیا ءکے حوالے سے موجودہ و مستقبل کی طلب و رسد کے تخمینوں  کے نظام کو ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے فوری طور پر وزارتِ فوڈ سیکورٹی میں ایک مخصوص سیل تشکیل دیا جائے تاکہ مستقبل میں طلب و رسد کے تخمینوں کی بنیاد پر بر وقت فیصلے کیے جائیں۔ وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کے استعمال میں آنے والی ضروری اشیاءکی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے ہر ممکنہ انتظامی و دیگر اقدامات کیے جائیں۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ منڈی اور مارکیٹ میں قیمتوں کے فرق کو کم کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کو برو¿ے کار لایا جائے اور اس فرق کا تدارک کیا جائے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو اشیائے خوردونوش کی دستیابی کو یقینی بنائے۔ اس ضمن میں ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ کوءبھوکا نہ سوئے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے شہروں کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہماری توجہ شہروں کے پھیلا کی بجائے بلند عمارتیں بنانے پر مرکوز ہے۔اسلام آباد میں 3 روز ساتویں ریجنل ایشیائی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں گھنے جنگلات، طویل صحرا، بلند ترین پہاڑی سلسلے ہیں، شہروں میں رہنے والے زیادہ تر پاکستانی پاکستان کی خوبصورتی کو نہیں دیکھ پاتے۔وزیراعظم یہاں 12 ایکولوجیکل زونز ہیں صحرا سے لے کر ہمالیہ تک پاکستان قدرتی وسائل اور خوبصورتی سے مالا مال ملک ہے،ہمیں مستقبل کی نسلوں کا احساس کرکے فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میں ان خوش قسمت پاکستانیوں میں شامل ہوں جو پاکستان کے تمام علاقے گھوم چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے جلد ہی قدرتی ماحول کو پہنچنے والے نقصانات کا احساس ہوگیا تھا، میں نے آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہونے والی تباہی کو دیکھا لیکن حکومتوں نے بھی اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔عمران خان نے کہا کہ جب میں پیدا ہوا اس وقت پاکستان کی آبادی 4 کروڑسے کم تھی اور آج پاکستان کی آبادی 22 کروڑ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 2013 میں خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے کے بعد ہم نے بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیا تھا، پہلی مرتبہ کسی حکومت نے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تحفظ کے لیے اقدام اٹھایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بلین ٹری سونامی میں مقامی آبادی کو بھی شامل کیا گیا اور ہم نے اب ملک گیر سطح پر 10 بلین ٹری سونامی کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کرنے کے بعد خیبرپختونخوا میں ٹمبر مافیا کی صورت میں بڑے چیلنج کا مقابلہ کیا اور ٹمبر مافیا سے مقابلے میں 10 فارسٹ گارڈز نے جانوں کا نذرانہ دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے شہروں کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہماری توجہ شہروں کے پھیلا کی بجائے بلند عمارتیں بنانے پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں فضائی اور آبی آلودگی پر قابو پانے کی طرف توجہ نہیں دی گئی، ایک وقت میں نئی دہلی بہت صاف شہر ہوا کرتا تھا اب آلودگی سے بہت متاثر ہوچکا ہے۔ایسا ہی لاہور میں ہورہا ہے لاہور کا شمار آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے میں لاہور میں پلا بڑھا جس کی آب و ہوا بہت صاف ستھرا تھا لیکن اب لاہور ایک بہت بڑا شہر بن چکا ہے اور 10 سال میں 70 فیصد سے زائد درخت کاٹے جاچکے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ تمام مذاہب انسانیت کی فلاح و بہبود کا درس دیتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں مستقبل کی نسل کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے‘ ماحولیاتی تبدیلی ہمارے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، اس کے لئے ہنگامی بنیادوں پر دنیا کو کام کرنے کی ضرورت ہے‘ پاکستان قدرتی خوبصورتی اور حسن سے مالا مال ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں مستقبل کی نسلوں کا احساس کرکے فیصلے کرنے ہوتے ہیں جبکہ میں ان خوش قسمت پاکستانیوں میں شامل ہوں جو پاکستان کے تمام علاقے گھوم چکا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان قدرتی خوبصورتی اور وسائل سے مالا مال ملک ہے پاکستان میں گھنے جنگلات‘ طویل صحرا‘ بلند ترین پہاڑی سلسلے ہیں جبکہ شہروں میں رہنے والے زیادہ تر افراد پاکستان کی قدرتی خوبصورتی کو نہیں دیکھ پاتے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved