تازہ تر ین

مولانا کیا انٹر نیشنل گارنٹی کے منتظر ہیں؟

پچھلے 72 گھنٹے میں مولانا فضل الرحمن نے جو دھرنے کے دوران تقاریر کی ہیں ان کی ٹون بدلتی رہی ہے۔مولانا کے7 روزہ دھرنے کے دوران پہلے دو دن کافی سختی آئی۔ پھر نرمی آئی اور بعد ازاں گزشتہ روز مزید سختی آ ئی۔ حکومت کے مولانا سے اصل مذاکرات رہبر کمیٹی سے نہیں پرویز الٰہی کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ رات گئے مولانا فضل الرحمان کو پرویز الٰہی نے حکومت کی طرف سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ٹی او آر طے کرنے کی ذمہ داری سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو سونپی جائے گی جو 2018ءکے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا پتہ لگائے گا۔ اس پر مولانا فضل الرحمان نے فی الحال ہاں یا ناں میں جواب نہیں دیا البتہ مذاکرات کر کے وہ سیدھا پنڈال میں گئے وہاں جلسہ گاہ میں کہا کہ تجاویز بہت ہو گئیں اب ہم صرف استعفے پر بات کریں گے اصل خبر یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں جو بات ہوئی وہاں کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مولانا کسی انٹرنیشنل گارنٹی کے منتظر ہیں کہ ان کو کوئی انٹرنیشنل گارنٹی دی جائے جو کسی دوست مسلم ملک کی طرف سے ہو۔ جس میں جوڈیشل کمیشن بنانے کے حوالہ سے پورا طریق کار طے کیا جائے اور یہ بھی گارنٹی ہو کہ یہ جوڈیشل کمیشن غیر جانبدار ہو گا۔ مولانا کچھ دن پہلے فوج کے حوالہ سے سخت بیان دے رہے تھے جس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کو بیان دینا پڑا اور واضح کرنا پڑا کہ فوج غیر جانبدار ادارہ ہے اور پورے پاکستان کی فوج ہے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان نے بیان دیا جس میں پاک فوج اور ترجمان کی تعریف کی۔ ہمیں خوشی ہے اللہ کرے وہ اسی استقامت سے اس بیان پر قائم رہیں۔ اگر دیکھا جائے کہ کیوں وہ انٹرنیشنل گارنٹی مانگ رہے ہیں تو سب کو معلوم ہے کہ تین چار مسلم ممالک سے پاکستان کے بہت قریبی روابط ہیں۔ جو ہر مشکل میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مولانا کے ذاتی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی جو بات چیت چل رہی ہے اس میں غالباً سعودی پرنس کراﺅن محمد بن سلمان یا دیگر سربراہان ہیں ان کی گارنٹی چاہتے ہیں کہ جو حکومت سے جو مذاکرات ہوں وہ مکمل طور پر اور مفصل لائحہ عمل سامنے آئے جس کی بنا پر وہ دھرنے کے خاتمے کا اعلان کر سکیں۔ مسلم لیگ ن کو ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ ان کے قائد جو جیل میں تھے وہ اب گھر شفٹ ہو گئے گھر میں علاج معالجہ چل رہا ہے۔ مریم نواز کو بھی ضمانت مل گئی اسی طرح آصف زرداری کی طبیعت نوازشریف سے زیادہ خراب ہے ان کا بھی ڈاکٹرز بورڈ بنا کر علاج کر رہے ہیں دونوں پارٹیوں کو ریلیف مل رہا ہے اس لئے وہ دھرنے میں شریک نہیںہوئے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved