تازہ تر ین

کیا ٹرمپ الیکشن سے پہلے امریکی فوج لے جائینگے ؟ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ چند روز پہلے بڑا بحران نظر آ رہا تھا کہ علوم ہوتا تھا کہ پتہ نہیں ہمارے اداروں میں آپس میں لڑائی نہ شروع ہو جائے اور ملک کے حالات ایسے ہیں ہم اس قسم کے اندرونی تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ خدا کا شکر ہے کہ چیف جسٹس صاحب اور دوسرے جج صاحبان نے بہت معاملہ فہمی سے اور نہایت دانشمندی سے اس مسئلے کا حل نکالا اور اس سے یہ بات طے ہو گئی کہ جو قانون موجود نہیں ہے اس کے لئے قانون بنے گا اور آرمی چیف بارے انہوں نے ایک دن پوچھ لیا تھا کہ ان کی مدت ملازمت کے کتنے دن باقی ہیں تو ان کو بتایا گیا کہ کل رات کے بعد وہ فارغ ہو جائیں گے تو انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ کل ہی فیصلہ کرنا پڑے گا پرسوں انہوں نے کہاتھا۔ کل ہی انہوں نے فیصلہ کر دیا 6 مہینے ان کو دے دیئے اور چھ ماہ کے اندر متبادل قانون سازی جو ہے وہ کرنے کے بعد معاملہ حل ہو جائے گا۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ جو ہے اس میں آئین میں تبدیلی کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی کیونکہ سادہ اکثریت سے قانون بن سکتا ہے۔ سادہ اکثریت عمران خان کے پاس قومی اسمبلی میں ہے۔ قانون بن گیا اور 3 سال ہی قانون میں رکھے تو 3 سال کی توسیع مل سکتی ہے گویا مذاق میں لوگ کہہ رہے تھے جی باجوہ صاحب کے خلاف جو طاقتیں سرگرم عمل تھیں۔ ہمارے بہت سے سیاست میں بھی لوگ تھے جیسے مولانا فضل الرحمن ہیں یا دوسرے ہیں ان کو تو فائدہ ہو گیا کہہ رہے ہیں کہ ان کو تو فائدہ ہو گیا۔ 6 مہینے بعد 3 سل کی اور مل جائے گی ان کو تو ساڑھے تین مل گئے۔ میں نے کہا کہ اڑھائی سال دیں گے اگر وہ قانون منظور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ وقتی طور پر جو بحران تھا وہ ختم ہو گیا۔ اس بحران نے ایک سبق دیا ہے کہ ہمارے ہاں جو آپس میں تصادم کی فضا ہے وہ اتنی زیادہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ملکی اتحاد جو ہے اس میں ہم یکسو نہیں ہیں اور ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے سے متصادم قوم کو بڑا مشکل ہوتا ہے چلانا۔ ہم سے ہر ایک کو چیف جسٹس صاحب اور دوسرے جج صاحبان نے موقع دیا ہے کہ جس طرح سے انہوں نے حکومت کو موقع دیا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لے جو صحیح طریقہ ہے کوئی قانون موجود نہیں ہے تو قانون تیار کر لے اس طریقے سے سیاستدانوں کو بھی موقع دیا ہے کہ آپ بھی سوچ لیں کہ اگر اس قسم کا کوئی کرائسز سامنے آتا ہے تو آپ کا اندرونی اتحاد پارہ پارہ نہ ہو جائے۔ میرا خیال ہے کہ حکومت قانون بنانے میں کامیاب ہو جائے گی کیونکہ میری معلومات کے مطابق تو پیپلزپارٹی بھی کہہ چکی ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت کی توسیع کے معاملے میں وہ مخالف نہیں ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ فوج کی آئندہ الیکشن میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے ہو سکتا ہے اس وقت حکومت کے ساتھ کچھ طے ہو جائے۔ آج جو خبر آئی ہے کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے اس قانون سازی کے لئے اپوزیشن کو اعتماد میں لیں گے۔ امریکہ صدر ٹرمپ نے اچانک افغانستان کا دورہ کیا ہے اور 19 گھنٹے وہاں گزارے ہیں اور کہا ہے کہ ہم جب تک معاملات کلیئر نہیں ہو جاتے افغانستان نہیں چھوڑیں گے اس سوال کے جواب میں ضیا شاہد نے کہا کہ پاکستان کے لئے بہت بڑی خبر ہے کہ جب لیٹ نائٹخبر آئی تو صرف دو ایک اخباروں میں چھوٹی سرخی کے ساتھ چھپ سکی ہے کہ ٹرمپ اچانک کابل پہنچ گئے۔ آج اس کی تفصیلات معلوم ہوئی ہیں کہ وہ 19 گھنٹے کابل میں رہے اس دوران میں ضروری ملاقاتیں کی ہیں اور امن مذاکرات کی غیر مشروط طور پر بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پچھلے مذاکرات میں جو مشکل امور تھے وہ صدر ٹرمپ نے خود آ کربات چیت کے بعد کسی نتیجے پر وہ پہنچے ہوں گے البتہ یہ بات انہوں نے صحیح کہی ہے کہ ہم خود بھی یہ چاہتے ہیں کہ جب تک کوئی تصفیہ نہ ہو جائے اچانک افغانستان چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے۔ پہلے بھی امریکہ کا مفاد ختم ہو گیا تھا اور وہ چھوڑ کر چلے گئے تھے بعد میں متحارب فریقوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی تھی۔ میں نے کابل دیکھا ہے۔ کابل شہر کو آپ دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک وہ ہے جسے آپ بھوتوں کا شہر کہہ سکتے ہیں جہاں پر مکان گرا ہوا ہے۔ اس طرح سے ہوا تھا مختلف دھڑے لڑ پڑے اور ایک دوسرے پر سامنے رکھ کر گولہ باری کی جس سے بے تحاشا جانی نقصان ہوا اور پراپرٹی تباہ ہو گئی۔ صدر ٹرمپ کو زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنے الیکشن سے پہلے وہ کسی نتیجے پر پہنچ جائیں اور وہاں سے انخلا ہو سکے اور کوئی معاہدہ ہو سکے۔ ٹرمپ نے پچھلے انتخابات میں وعدہ کیا تھا کہ افغانستان سے فوجیں لے آئیں گے اب یہ ان کے لئے ایک چیلنج ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اس دورے کی کوئی ڈھول نہیں پیٹے گئے بڑی خاموشی سے رازداری سے وہ آئے جو ضروری بات کرنا تھا جس سے بھی بالمشافہ ملاقات کرنا تھی کیونکہ حساس نوعیت کی باتیں آمنے سامنے ہی ہو سکتی ہیں۔ جہاں مذاکرات اگر رک گئے تھے ضروری تھا کہ ان رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ اب امن مداکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان نظر آئے گا۔ امریکہ میں صدارتی الیکشن سر پر ہیں اس لئے افغانستان میں امن بحال کرانے اور فوجی انخلا بارے صدر ٹرمپ سنجیدہ نظر آتے ہیں، الیکشن سے قبل وہ طالبان سے صلح نامہ ضرور کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس کی بنیاد پر کمپئن کروائی ٹرمپ کی پوزیشن مضبوط ہے ان کے پاس بھاری وسائل اور مضبوط گروپ موجود ہے تاہم اصل فیصلہ تو عوام کریں گے۔ صدر ٹرمپ کو مواخذے کا بھی سامنا ہے اور کانگریس نے پوچھ گچھ کیلئے انہیں بلا لیا ہے۔ کاشانہ لاہور میں بچیوں سے جسم فروشی کرانے کی خبر افسوسناک ہے۔ اس سے قبل بھی لوگ دارالامان بارے دبے الفاظ میں بتاتے رہے ہیں کہ وہاں معاملات بہت خراب ہیں تاہم یہ معاملہ خواتین سے متعلق ہے اس لئے اس بارے مکمل تحقیقات کے بعد بات ہونی چاہئے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved