تازہ تر ین

کا شانہ لاہور شادی کی آڑ میں لڑکیوں کو باہر بھیجنے اور زیادتی کا انکشاف

لاہور (لیڈی رپورٹر‘ خصوصی رپورٹر) سپرنٹنڈنٹ کاشانہ لاہور افشاں لطیف کو حراست میں لے لیا گیا۔ افشاں لطف کو سرکاری رہائش گاہ پر قبضہ کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ یہ ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی خبریں چینل۵ نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ اس حوالے سے وزیر قانون راجہ بشارت نے خبریں چینل ۵ سے خصوصی طور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہ یہ خاتون الزام لگا رہی ہیں آج سے ڈیڑھ ماہ پہلے چیف منسٹر انسپکشن ٹیم نے اس خاتون کو ٹرانسفر کا کہا مگر یہ مسلسل چارج نہیں چھوڑ ہی تھی۔ آج جب چیف منسٹر انسکپشن ٹیم ان کے آفس گئیں تو انہوں نے اندر سے تالے لگا لئے بعد میں خواتین آفیسر نے پولیس اہلکاروں کو بلوایا کہ دروازہ کھلوائیں تاکہ ہم چارج سنبھال سکیں۔ تفصیلات کے مطابق سپرنٹنڈنٹ کاشانہ لاہور کو سرکاری رہائش گاہ پر قبضہ کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ افشاں لطیف نے آتے ہی ادارے کی ڈی جی کرن امتیاز پر الزامات لگائے۔ افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ کرن امتیاز کم عمر لڑکیوں پر شادی کیلئے دباﺅ ڈالتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق خاتون افسر کے ساتھ شوہر کو بھی حراست میں لے کر رہائش خالی کرائی گئی ہے۔ خاتون افسر پر تبادلے کے باوجود رہائش گاہ خالی نہ کرنے کا الزام تھا۔ افشاں لطیف کا ویڈیو میں کہنا ہے کہ ادارے کی بچیاں میری بیٹیوں کی طرح ہیں۔ کاشانہ لاہور میں بچوں کی عزت پر آنچ نہیں آنے دوں گی۔ ویڈیو میں انکشاف کئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب تحقیقات کریں۔ افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ مجھے ہٹانے کا مطلب شواہد کو غائب کرنا ہے جن رازوں سے پردہ اٹھایا انہیں سامنے لانا ضروری ہے۔ رازوں کے اصل حقائق سامنے لائے بغیر نہیں جاﺅں گی۔ دوسری جانب معائنہ ٹیم نے افشاں لطیف کے الزامات بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات میں ان کا اپنا کر دار مشکوک نکلا ہے۔ تبادلے سے بچنے کیلئے افشاں لطیف نے الزامات عائد کئے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کاشانہ لاہور کی وائرل ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری سوشل ویلفیئر پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے معاملے کی ہر پہلو سے انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ الزامات کی چھان بین کرکے حقائق سامنے لائے جائیں۔ تحقیقات میں جو بھی قصور وار ہوا بلا امتیاز کارروائی ہوگی جبکہ وزیر قانون راجہ بشارت نے خبریں چینل ۵ سے خصوصی طور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نہ ہی کوئی گرفتاری ہوئی ہے اور نہ ہی کچھ اور میرا خود رابطہ ہوا ہے۔ ان خاتون سے اور میں نے کہا ہے آپ کو جو مسئلہ ہے آپ آکر بات کریں جبکہ چیف منسٹر نے انسپکشن ٹیم کے ذریعے پیغام بھی بھجوایا ہے مگر صرف ایک ٹرانسفر رکوانے کے لئے کبھی یہ اخباروں میں اپنے کالم چھپواتی ہیں اور کبھی سوشل میڈیا کا سہارا لیتی ہیں اور ان کا یہ مسئلہ اب سے نہیں چل رہا بلکہ بطور وزیر قانون میں نے چارج سنبھالا یہ مسئلہ اس وقت سے ہے اور اب آکر انہوں نے الزام تراشی شروع کر دی ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved