تازہ تر ین

زمین کے تنازع پر وڈیرے کا خاتون پر تشدد ،ظلم کی انتہا پولیس تماشا دیکھتی رہی ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) مظفر گڑھ کی اربن واٹر سپلائی سکیم کو ضلع کونسل مظفر گڑھ یا میونسپل کارپوریشن کے والے کرنے کی متعدد بار کوشش کر چکے ہیں جبکہ روزنامہ خبریں نے نامکمل سکیم کو حوالے کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ آغا باقر نے کہا ہے کہ مظفر گڑھ جیسے علاقوں کو فنڈز ٹرانسفر ہونے چاہئیں اگر 42 کروڑ کے فنڈز اگر ٹرانسفر ہو بھی گئے تو اب بنیادی حقوق کے تحت بڑے اور چھوٹے شہروں کے درمیان نہیں ہونا چاہئے۔ پانی کی جب باات کرتے ہیں تو آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت سپریم کورٹ کے فیصلے اس پر موجود ہیں کہ کسی بھی شخص کی زندگی ہے اور اس کی آزادی ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی علاقے کو یا کسی شہری کو پانی مہیا نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اس کی زندگی چھین رہے ہیں۔ پانی بنیادی ضرورت ہے۔ جمشید دستی اس طرح سامنے نہیں آتے جس طرح آتے تھے جنہوں نے یہ سکیم منظور کروائی تھی اور 42 کروڑ ہضم کر کے اور دس سال بعد پائپوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ راﺅ قاسم ٹرانسفر ہو گئے نیب انکوائریاں ہوں گی وہ کہے گا گرفتار کر لیں۔ بالآخر جتنے فنڈز ہوں گے وہ دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ کس سے فریاد کریں گے کسی سے منصفی چاہیں گے۔اس قوم کے ساتھ یہ حادثہ ہے کہ یہ پہلی سکیم نہیں ہے۔ ایسے منصوبے میں جب پیسہ جاری نہیں ہوتا تو منصوبے رک جاتے ہیں اور لگا پیسہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ آغا باقر نے کہا کہ آئین تو آرٹیکل 4 میں ہے! کسی کی جائیداد نہیں چھینی جا سکتی زمین کے تنازعہ کا فیصلہ کرنا پولیس کا نہیں عدالت کا کام ہے۔ انسانی حقوق کی صورتحال بہت خراب ہے اس کیس میں مظلوم خاتون کے نازک اعضا کو نشانہ بنایا جاتا انتہائی ظالمانہ فعل ہے۔ سی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر معین بڑی اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں ان سے ذاتی درخواست کروں گا کہ اس کیس کو دیکھیں اور انصاف دلائیں۔ یہ مظلوم عورت بلک بلک کر خود یہ ہونے والے ستم کی کہانی سنا رہی ہے پولیس نے ملزمان کو بیگناہ قرار دے دیا عدالتوں میں بھی خوار ہو گی اور ہر چند پیسے دے کر اسے خاموش کرا دیا جائے گا یہی ہمارا نظام ہے۔ اس فیوڈل نظام میں غریب کی جان و مال پر اس کا اپنا ہی اختیار نہیں ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے تبدیلی کی بات کرنے والے حکومت کو جواب دینا چاہئے یہاں لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک تو آج بھی جاری ہے۔
ضیا شاہد نے کہا ہے کہ 42 کروڑ کی لاگت سے بننے والی اربن واٹر سپلائی سکیم 10 سال میں بھی نہ بن سکی۔ پائپ ناکارہ ہو گئے۔ یہ بدانتظامی کے ایک بڑی مثال ہے اس ملک کے ہر ادارے میں، ہر محکمے میں موجود ہے۔ موجودہ حکومت نے کوشش ہے یہ جو تبدیلیاں کی ہیں گزشتہ روز کے اخبارات کی یہ سرخیاں ہیں۔ ایک اخبار نے لکھا ہے کہ سونامی آ گیا تبادلوں کا۔ ایک نے لکھا تبادلوں کا جھکڑ آ گیا۔ یہ اس لئے ہے کہ سمجھا جاتا ہے کہ پہلے افسر کام صحیح نہیں کرتے تھے اس لئے نئے افسر لے آئے ہیں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہی افسر ہیں ان کو ایک کو اے کو بی، بی کو سی کی جگہ رکھا گیا ہے نہ تو کسی چکرٹ کو سزا دی جاتی ہے نہ پکڑا جاتا ہے احتساب کا لفظ صرف ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہ فلاں اتنے پیسے رشوت کھا گیا۔ یہ بھی احتساب ہے کہ ایک آدمی جس کی ڈیوٹی تھی جس کی اس کو تنخواہ دی جا رہی تھی اس نے کیا کیا۔ یہ جو آرمی چیف کی توسیع میں جو ڈرامہ ہوا اس میں آپ دیکھیں تیسری دفعہ سمری بنی اس میں پے درپے غلطیاں ہوئیں اور ججوں نے مذاق اڑایا کہ یہ حکومت کی کارکردگی ہے۔ یہ تو نئے ہیں کہ انکوائری جائے گی کب پتہ چلے گا۔ نتیجہ آنے پر زیادہ سے زیادہ ایک آدمی کو تبدیل کر کے دوسری جگہ بھیج دیا جائے گا وہ بھی جا کرسٹے لے لے گا۔ اس سٹوری کو مثال بنا کر خصوصی انکوائری ہونی چاہئے۔ لمبا انکوائری کو نہیں کھینچنا چاہئے۔ خواہ وہ لوگ وہاں سے جاب چھوڑ چکے ہیں ریٹائر ہو چکے ہہوں۔ جس عرصہ میں کوئی بدانتظامی ہوئی ہے دس سال بعد وہ شخص ذمہ دار ہے۔ رپورٹر نے سٹوری میں نام تک لکھے ہیں وہ لکھتا ہے کہ ریلوے کو 10 کروڑ دے دیئے گئے جبکہ درمیان میں ریلوے لائن آتی ہی نہیں تھی جس کو کراس کرنا مقصود ہوتا یہ جنگل کا قانون ہے۔ میں تو اس سٹوری کو بھی شک کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ یہ جو پانی کے پائپ ہوتے ہیں جو زیر زمین بچھائے جاتے ہیں اس میں بھی رپورٹر نے ایک جملے میں کہہ دیا ہے کہ دس سال میں بغیر استعمال کئے زیر زمین پائپ ضائع ہو گیا۔ ٹھیک ہے پانی چلتا ٹھیک ہے ورنہ زنگ آ جاتا ہے۔ مبالغہ بھی بہت ہوتاہے کہ لوہے کے پائپ جو سپیشل میٹریل کے ہوتے ہیں وہ گل گئے یا ختم ہو گئے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ نامکمل سکیمیں حوالہ کرتے ہیں تا کہ ہمارا چیک بن جائے۔
علی پور چٹھہ میں زمین کے تنازعہ پر وڈیرے نے ساتھیوں کے ہمراہ خاتون کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، نازک اعضاءپر ضربیں لگاتے رہے۔ تیار فصل اٹھا کر لے گئے پولیس کارروائی کے بجائے ملزمان کی سرپرست بن گئی مدرسہ چٹھہ کی رہائشی ریحانہ فردوس زوجہ ناصر عباس نے بتایا کہ جاگیر ولد محمد خان ولد مظفر چٹھہ، ساتھی محسن ولد محمد اکبر اور ساتھی خواتین نے ان کی زرعی زمین ہتھیانے کیلئے آتشیں اسلحہ سمیت ان کے ڈیرے پر ہلہ بول دیا پولیس کی موجودگی میں وحشیانہ تشدد کیا گیا، ایس ایچ او فرحت نواز چٹھہ اے ایس آئی افضل گجر نے انکوائری کیلئے تھانہ بلوا کرشوہر اور بیٹے کو حوالات میں بند جبکہ ملزمان کو اڑھائی لاکھ روپے رشوت لے کر بے گناہ قرار دے دیا۔ زمین ذاتی ملکیت ہے جس پر نو سال سے کاشتکاری کر رہے ہیں ریکارڈ محکمہ مال میں موجود ہے۔ اس کیس پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ ظلم کی داستان ہے، یہ زمین کا تنازع ہے تاہم تشدد کسی صورت نہیں کیا جا سکتا، ہمارے پسماندہ دیہاتی علاقوں میں سب سے زیادہ بے وقعت خواتین ہیں۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ اگر میرے بنائے پاکستان میں غریب کو روٹی اور چھت مظلوم کو انصاف نہیں ملتا تو ایسا پاکستان نہیں چاہئے۔ آج پاکستان میں ایک خاتون اس طرح رو رو کر انصاف مانگ رہی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں انسانی حقوق کی کیا صورتحال ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved