تازہ تر ین

طلبہ تنظیموں پر پابندی لڑائی جھگڑوں سے لگی ،بحالی پر امن کی ضمانت کون دیگا ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی جمعیت طلباءکے ناظم اعلیٰ محمد عامر نے کہا ہے کہ 9 فروری 1984ءکے ڈکٹیٹر ضیاءالحق نے طلباءیونینز پر پابندی لگائی کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کے ساتھ تعلیمی پالیسیوں پر اپنے حقوق کی بات کریں اور ملک آزاد جمہوری معاشرے کی جانب بڑھے۔ اسی باعث اس آئینی ادارے کو ختم کیا گیا اور ملک بھر میں طلباءیونینز پر پابندی لگا دی گئی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بعد میںآنے والی تمام جمہوری حکومتوں نے بھی پابندی کو بحال رکھا۔ تمام سیاسی جماعتوں فیملی لمیٹڈ ہیں اس لئے انہیں جمہوریت کی مضبوطی اچھی نہیں لگتی۔ پاکستان میں جمہوریت کا نظام چلنا ہے تو طلباءیونینز کو بحال کئے بغیر گزارا نہیں ہوسکتا۔ ماضی میں تمام طلباءتنظیمیں خرابیوں میں ملوث رہی ہیں۔ معاشرے میں بھی چلن رہا کہ جسے بھی اختیار ملتا وہ اس کا غلط استعمال کرتا تھا تاہم اب ہمیںآگے بڑھنا ہے۔ ہمارے یہاں سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر جمہوری کلچر موجود نہیں‘ ادارے مضبوط نہیں ہیں ہر وقت ڈر رہتا ہے کہ بساط ہی نہ لپیٹ دی جائے۔ مثبت مائنڈ سیٹ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ تمام طلباءتنظیموں سے رابطے میں ہیں جس طرح سیاسی لیڈر شپ نے غلطیوں سے سیکھا اسی طرح نوجوانوں کو بھی ماضی کی غلطیاں بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا۔ طلباءیونینز کے ہونے یا نہ ہونے پر نہیں بلکہ اس کے ضابطہ اخلاق پر بحث ہونی چاہیے۔ 16 دسمبر کو اسلام آباد میں نیشنل کنسلٹیشن فورم بلا رہے ہیں جس میں تمام سیاسی قیادت میڈیا وکلاءاور طلبہ تنظیموں کو بلایا ہے تاکہ طے کریں کہ کیا قواعد وضوابط ہونگے۔ سیاسی قیادت کی کیا ذمہ داریاں ہوں گی کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبا کا ضابطہ اخلاق محدود ہے۔ اسے سپریم کورٹ میں بھی پیش کرچکے ہیں۔ طلباءمتحدہ محاذ کے سامنے پیش آیا۔ یوسف رضا گیلانی اور بلاول بھٹو نے طلبہ یونینز کی بحالی کا بیان دیا ہے تاہم الیکشن کا اعلان نہ کیا۔ اب سندھ حکومت نے بھی بحالی کا اعلان کیا ہے تاہم ابھی تک الیکشن شیڈول جاری نہیں کیا۔ اب اعلانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ مشترکہ ضابطہ اخلاق تیار کرنے کیلئے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں تمام سیاسی جماعتیں بھی ساتھ دیں۔ طلباءیونینز پر پابندی کا جواز تشدد ہے تو کیا 36 سال میں تشدد میں کوئی کمی آئی ہے۔ یونیورسٹیوں کی فیس غریب کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہے۔ 1984ءمیں پنجاب اور کراچی یونیورسٹی دنیا کی بہترین جامعات میں شامل تھیں۔ آج دنیا میں ٹاپ کی 334 یونیورسٹیاں ہیں۔ ایک بھی پاکستانی یونیورسٹی شامل نہیں ہے۔ طلباءیونینز پر پابندی تعلیمی معیار بھی نیچے آیا کہ اساتذہ نے اپنی اکیڈمیاں بنا لیں۔ تعلیم کو بزنس بنا دیا گیا۔ عمران خان کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی میں جو واقعہ پیش آیا افسوسناک تھا اس کا پس منظر بھی سب کو معلوم ہے کہ ایمرجنسی نافذ تھی ۔ مشرف نے ساری سیاسی قیادت کو جیلوں میں بند کر رکھا تھا۔ عمران خان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے تھے۔ اس واقعہ میں تمام ادارے ملوث تھے اور پنجاب یونیورسٹی سے گرفتاری کرنا چاہتے تھے۔ جن لوگوں نے یہ غلطی کی انہیں جمعیت نے نکال دیا تھا اور اظہار افسوس بھی کیا تھا۔ اس پنجاب یونیورسٹی میںذوالفقار بھٹو‘ مولانا مودودی سمیت تمام سیاسی قائدین یونین کی دعوت پر خطاب کرتے رہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں ڈر خوف کا ماحول نہیں ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو طلباءکو آگے بڑھنا ہوگا۔ ہماری نیت ٹھیک ہے۔ فورم موجود ہیں جہاں بات کرسکتے ہیں۔ جن سکول کی طلباءیونینز کی تعریف ہوتی ہے ان کا صدیوں پرانا جمہوری کلچر ہے۔
انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر ارسلان چودھری نے کہا ہے کہ جمہوریت کی نرسری طلباءتنظیمیں یا لوکل باڈی الیکشن میں ایک پر پابندی دوسرے کا حال سامنے ہے۔ طلباءیونینز میں نوجوانوں کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے ان کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ طلباءتنظمیوں پر پابندی کو36 برس گزرچکے اب وقت آگیا ہے کہ پابندی ختم کی جائے۔ ملک میں ایک وژنری لیڈر شپ موجود ہے۔ پارلیمنٹ میں بحث ہوئی۔ وزیر اعظم کا موقف سامنے آیا ہے۔ طلباءیونینز کے قواعد وضوابط کے حوالے سے حکومت کام کرے گی اور انہیں بحال کیا جائے گا۔ طلباءتنظیموں اور طلباءیونینز میں بڑا فرق ہے۔ طلباءیونین کا مطلب ہے تعلیمی ادارے کے کیمپس میں طلباءکے تمام حقوق حاصل ہوں ان کے مسائل اجاگر کرنے اور حل کیلئے طلباءکے اپنے نمائندے موجود ہوں۔ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے 12 سالہ دور میں کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ ہمارے نوجوانوں نے کسی پر تشدد کیا یا بھتہ لیا ہو یا کیمپس لاک ڈاﺅن کیا ہو۔ اس پلیٹ فارم سے سیاسی قیادت بھی ابھری ہے۔ دو تین وزیر اور ارکان پارلیمنٹ کا تعلق آئی ایس ایف سے رہا ہے۔ ہم تشدد کے بالکل خلاف ہیں اس لئے تعلیمی اداروں میں برداشت کے کلچر کو فروغ دیا۔ تقریری سوسائٹیاں اور بلڈ ڈونر ادارے بنائے۔ ہم عالمی سطح کی یونیورسٹیوں میں قائم یونینز کو سامنے رکھتے ہوئے قواعدوضوابط مرتب کریں گے۔ تمام طلبا تنظیموں سے رابطے میں ہیں۔ ماضی کی غلطیاںدہرانے کا وقت نہیں ہے اور نہ ہی ان کی وجہ سے طلباءیونینز پر پابندی ہونی چاہیے۔ متحدہ طلباءمحاذ میں جے یو آئی سمیت تمام جماعتوں کی تنظیمیں شامل ہیں۔ اس بار اس کی صدارت کی باری ہماری ہے۔ طلباءیونینز ہر قسم کے سیاسی لسانی نظریات سے بالا ہونی چاہیے صرف طلباءکے مفادات کیلئے ہونی چاہیے۔ اس میں بیرونی عناصر کی مداخلت کی قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ طلباءچب اپنے حقوق کیلئے خود بات کرتے ہیں تو ان میں اعتماد آتا ہے وہ مستقبل میں بہتر سیاسی قیادت بن کر سامنے آسکتے ہیں۔ ضابطہ اخلاق کے حوالے سے مشاورتی عمل جاری ہے۔ مشترکہ مسودہ سامنے لایا جائے۔ ابھی سرکاری سطح پر اس کیلئے کوئی ضابطہ اخلاق نہیں بنایا گیا تاہم حکومت اس پر کام کر رہی ہے۔ تمام طلباءتنظیمں اپنا اپنا مسودہ پیش کرینگے۔ کیمپس کے اندر سیاسی ومذہبی قیادت کو نہیں جانا چاہیے۔ ایسا ضابطہ اخلاق بنانا ہوگا جو سب کیلئے قابل قبول ہو۔ اسے میڈیا کے سامنے رکھا جائے تو طالب علم اس پر بات کریں۔ طلباءتنظیموں پر پابندی کے بعد تشدد کم کے بجائے زیادہ ہوگا۔ زیادہ قتل وغارت اور مسائل سامنے آئے۔ عمران خان کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی میں جو سلوک ہوا وہ ایک سیاسی تھا اس میں جمعیت ملوث تھی جس نے بعد میں معذرب بھی کی۔ اب تمام تعلیمی اداروں میں نوگو ایریاز ختم ہوچکے ہیں۔ آئی ایس ایف نے محبت قائم کرکے انصاف اور برداشت کے نعرے کو بلند کرکے نوگو ایریاز ختم کئے ہیں۔ ہمارا منشور سب کے سامنے ہے۔ طلباءکی مذہبی تعداد ہمارے ساتھ ہے کسی تعلیمی ادارے میں نو گو ایریا یا اپنے نظریات زبردستی ٹھونسنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ لڑائی تو سیاسی جماعتوں میں بھی ہوتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ادارہ ہی ختم کر دیا جائے۔ اس وقت وکلائ‘ اخبار فروش اساتذہ کی تنظیمیں موجود ہیں یہ طلبا یونینز کیوں نہیں ہوسکتی۔ کیمپس میں اسلحہ کلچر‘ تشدد‘ اینٹی سٹیٹ نظریات یا اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ تمام چیزیں صرف اچھے ضابطہ اخلاق کے تحت ممکن ہیں۔ ہمیں خوف سے باہر نکلنا ہوگا۔ سابق ادوار میں حکمرانوں نے قومی ادارے تباہ کر دیئے۔ عمران خان نے ڈیڑھ سال میں بنیادی اصلاحات کرانے کی کوشش کی ہے تعلیم پر خاص طور پر کام ہورہا ہے۔ کئی پروگرامز شروع کئے گئے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved