تازہ تر ین

کیسے ممکن ہو گا کہ طلبہ تنظیموں کی حامی سیاسی جماعتیں انہیں استعما ل نہیں کریں ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہنہ مشق صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ طلبہ یونینوں کی بحالی ونے کی بات ہو رہی ہے تو رانا ارشد صاحب آپ کی حکومت شہباز شریف کی 10 سال رہی ہے تو انہوں نے کیوں نہیں ان کو بحال کیا اور کیا آپ ان کی بحالی کے حق میں ہیں۔ آپ نے جو گفتگو کی میرا سوال ابھی تک پینڈنگ ہے کہ اگر طلبہ یونینوں کی بحالی جو تھی آپ اس کے حق میں ہیں تو پھر آپ کے اپنے دور جو 35 سال پر محیط ہے جس میں شہباز شریف صاحب کا دور 10 سال کا ہے، جب وہ پاور فل چیف منسٹر تھے انہوں نے کیوں اس کو بحال نہیں کیا۔ آپ نے بھی ان کے ساتھ کام کیا تو آپ اس نے اس وقت اس مسئلہ کو کیوں نہ اٹھایا۔ عامر اسماعیل صاحب، رانا ارشد صاحب جو کہہ رہے ہیں مسلم لیگ نواز کے پاس بہتت وقت تھا اور بہت اختیارات بھی تھے اس کے باوجود طلبہ یونین بحال نہ ہو سکیں اب کس لئے یہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد یہ بحث شروع ہوئی ہے اس کا کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ جو بھی آپ کہیں سپریم کورٹ کو جاتا ہے۔ ہمارے دوست رانا ارشد صاحب نے کئی مرتبہ نوازشریف صاحب اور شہباز شریف صاحب کا ذکر کیا۔ ایم ایس ایف کی ملحقہ سیاسی پارٹی ہے جس میں ان کی قیادت کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اس طرح سے انجمن طلباءاسلام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جے یو آئی سے متاثر ہے۔ آپ نے اپنی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان اور ان کے آزادی مارچ اور اسلام آباد دھرنے کا ذکر نہیں کیا۔ کیا یہ اسلامی طرز فکر کے نوجوانوں کی تنظیم ہے اس کا کسی مسلک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ رانا صاحب! اب تو آپ کی عمر گزر گءاسی دشت کی سیاحی میں آپ ابھی تک ایم ایس ایف کے صدر ہیں جبکہ اس کا صدر کسی طالب علم یا تازہ تازہ تعلیم سے فارغ ہونے والے صاحب کو ہونا چاہئے تھا۔ آپ تو براہ راست مسلم لیگ کی طلبہ ونگ کے سربراہ ہیں۔ رانا صاحب اگر آپ اب بھی دوبارہ کسی یونیورسٹی میں داخلے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں آپ کی بات بالکل صحیح ہے مگر کچھ وجوہات نہیں کچھ اسباب تھے جن کی وجہ سے پورے ملک میں شعور ما یہ تعلیمی اداروں کا ماحول حراب ہو رہا ہے اس کے بعد یہاں تک کہ والدین کو تشویش ہوتی تھی کہ بچہ کالج یا یونیورسٹی گیا ہے شام کو واپس آتا ہے یا نہیں۔ طلبہ سیاست میں جو کلچر آیا وہ اپنے ساتھ کلاشنکوف لے کر آیا اس کے بعد ااخر میں اسلامی جمعیت طلباءکے ناظم اعلیٰ آئے تھے تو میں ان سے پوچھا کہ آپ نے تو انتہا کر دی کہ آپ کے دور میں پنجاب یونیورسٹی میں وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد 6 سال تک یونیورسٹی میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ میں خود جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں پڑھتا رہا ہوں مجھے یہ معلوم ہے کہ لسٹیں آ جاتی تھیں مختلف طلبہ تنظیموں کی طرف سے کہ یہ ہمارا آدمی ہے اسسٹنٹ پروفیسر کی دو آسامیاں ایک ہمارا ہو گا ایک کسی اور کو دینا ہے تو دے دیں۔ تعلیمی انحطاط اور طلباءکلچر میں تشدد کا رجحان بھی یہی تنظیمیں لے کر آئیں۔ اور انہی کی وجہ سے زمینوں کے پٹے جو ہیں پنجاب یونیورسٹی کے جماعت اسلامی کے دفتر میں طے ہوتے تھے۔ ان تنظیموں نے تعلیم میں کیا رول ادا کرنا تھا۔ آپ یہ بتائیں کہ اب کون سے سیف گارڈز ہیں جن کو سامنے رکھ کر ضابطہ اخلاق بنانے پر عمل کیسے ہو گا۔ طالب علموں کو کون روکے گاا فلاں کام کرنا ہے فلاں نہیں کرنا۔ کس طرح آپ یقینی بنائیں گے کہ طلبہ تنظیموں کی بحالی ہو جائے لیکن وجوہات کی بنا پر طلبہ یونینیں ختم کی گئی ہیں وہ وجوہات تعلیمی اداروں میں نہ آنے پائیں۔ عامر اسماعیل صاحب جن نکات کی طرف رانا ارشد صاحب نے توجہ دلائی ہے اس پر آپ کے ذہن میں کیا تحفظات ہیں۔ آپ یونینز بحالی کے حق میں ہوں گے۔ کس طرح سے ان خرابیوں کو جو پابندی کا باعث بنیں۔ یہ باتیں تو اچھی لگتی ہیں کہ سیاستدانوں کو یونیورسٹیوں سے دور رکھا جائے۔ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن ہو یا پی ایس ایف یا ایم ایس ایف ہو اس لئے اپنے سیاسی قائد کو یونیورسٹی سے دور رکھنا ممکن نظر نہیں آتا۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان طلبہ تنظیموں کے پیچھے بیٹھی ہوئی جماعتیں انہیں استعمال نہ کریں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved