تازہ تر ین

کاشانہ سکینڈل ،معاملہ ختم کرنے کے لیے دھمکیاں دی گئیں ،افشاں لطیف فیصلہ اب عدالت میں ہو گا ،اجمل چیمہ

لاہور (صدف نعیم سے) سابق سپرنٹنڈنٹ کاشانہ دارالامان افشاں لطیف نے خبریں سے کرتے ہوئے کہا کہ 6اپریل 2019ءکو ادارے کا چارج سنبھالا ڈائریکٹر جنرل افشاں کرن امتیاز کا عمل دخل بہت زیادہ تھا۔ جون میں اس نے ایک صائمہ نامی خاتون کو وارڈن کے طور پر دو بچیوں کے ہمراہ چھوڑا۔ اس وارڈن کی رہائش دی گئی تھی صائمہ زبانی احکامات پر رہتی تھی اس کے بھائی اور شوہر کو بھی ملازمت دینے کیلئے دباﺅ ڈالا اس کے بعد کہنا شروع کیا کہ یہاں پر جتنی کم سن بچیاں ہیں ان کی شادیوں کا انتظام کریں 2013ءمیرے شوہر نے ن لیگ کی پارٹی چھوڑ دی تھی وہ کچھ نہیں کرتا میں اپنے گھر کی واحد کفیل ہوں۔ جب میں نے زبانی جاکر سیکرٹری سے بات کی تو طوفان مچ گیا۔ اس کے بعد پوری انتظامیہ کو ہنگامی طور پر بدل دیا گیا۔ اس سے پہلے سوشل ویلفیئر پوسٹ پر کام کررہی تھی۔ پھر ادارے کی چابیاں صائمہ کو دے دیں اس کے پیچھے ایجنڈا کم سن بچیوں کی شادی کروانا تھا۔ صوبائی وزیر اجمل چیمہ نے مجھے رمضان کے مہینے میں منسٹر بلاک اپنے آفس طلب کیا جہاں وہ سابقہ سپرنٹنڈنٹ خوشنود جمیل بھی موجو د تھیں۔ اور ڈویژنل ڈائریکٹر فیض نعیم بھی موجود تھے۔ وہاں پر انہوں نے سابقہ سپرنٹنڈنٹ کی طرفداری کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کو ٹھنڈا کرو ورنہ تمہارا معاملہ ٹھنڈا کردوں گا۔ کیونکہ میں بار بار تیس مارچ 2019ویڈیو پر استفسار کرتی تھی کیا بنا اور وہ کون شخص تھا جو دارالامان میں رات کو چار بجے آیا تھا۔ اس کے بعد مجھ پر دباﺅ ڈالا گیا کہ جتنی کم سن بچیاں ہیں ان کی شادیاں کرواﺅں اور وہ بھی ان کے احکامات کے مطابق اور ساتھ ہی ان کے کمروں کو سجانے کے احکامات بھی دیئے گئے۔ میں نے دس اگست کو اپنی سیکرٹری امبرین رضا کو پورے دباﺅ سے آگاہ کیا۔ جس سے اگلے دن اجمل چیمہ 11اگست کو بغیر اطلاع ادارے میں آئے اور میری کرسی پر بیٹھ گئے جارحانہ رویہ اختیار کیا بچیوں سے جاکر اکیلے رہائشی کمروں میں ملاقات کی اور ان کے پورے معاملے کے بارے میں پوچھا جس کے بعد وہ دوبارہ آفس میں آئے اور مجھ سے دوبارہ معاملہ پوچھا اور پھر مجھے دھمکیاں دیں اور کہا دور دراز کے علاقے جام پور میں ٹرانسفر کروادوں گا۔ پھر تمہیں عقل آئے گی۔ اس سے اگلے روز 12جولائی کو میں نے اپنی شکایت بمعہ بچیوں کے سیکرٹری امبرین رضا کو بیان کیں۔ امبرین رضا اور ان کے ہمراہ ڈپٹی سیکرٹری کاشانہ آئیں اور سب بچیوں کے بیان لئے میرا بیان لیا سٹاف کا بیان لیا۔ اور صائمہ سے ملاقات کی اور اسے استفسار کیا کہ وہ افشاں کرن امتیاز کی کیا لگتی ہیں۔ سی ایم آئی ٹی انسپکشن کا رویہ جارحانہ تھا جو اس پورے معاملے کی انکوائری کررہے تھے۔ مجھے 16اگست کو ان کے کہنے پر معطل کردیا گیا۔ ان کے احکامات پر ادارے میں بچیوں کا کھانا پینا ادویات، تعلیم اخراجات بند کروادیئے۔ بچیاں سردی میں گرم کپڑوں کے بغیر رہتی رہیں 25نومبر کو میں نے سی ایم آئی ٹی چیئرمین ڈاکٹر پرویز احمد خان کو خط لکھا اس کے فوری بعد مجھے گرفتار کروایا گیا میں کرایے کے گھر پر رہتی تھی اور میں نے کرائے کے گھر پر ہی جانا ہے۔ میری تین بیٹیاں جن کی عمر 2سے 7 سال ہے۔ اور ایک بیٹا 2سال کا ہے۔ جوحالات ہیں ان حالات میں میں گھر نہیں ڈھونڈ سکتی ۔ اور نہ ہی گھر سے کہیں جاسکتی ہوں۔ اب عدالت میں رٹ دائر کی ہے۔ اور 12دسمبر کو عدالت نے طلب کیا ہے۔ میں اپنا فیصلہ اللہ کے بعد عدالت پر چھوڑتی ہوں۔ مجھے کاشانہ کی بچیوں کی عزت ان کی سکیورٹی اور وہ کسی قسم کے استحصال کا نشانہ نہ بنےں۔ پرخدشات ہیں اور ساتھ ہی حراساں کرنے کا پورا امکان ہے۔ اب اپیل کا وقت گزر گیا اور میں عدالت کے فیصلے کا انتظار کررہی ہوں۔ میری بھی بیٹیاں ہیں اور میں چاہتی ہوں اللہ سب کی بیٹیوں کو محفوظ رکھے۔ میں نے جو درخواست 25ستمبر کو دی تھی اس میں لکھا تھا کہ صرف کاشانہ ہی نہیں ماڈل چلڈرن ہوم جو سوشل ویلفیئر کا ہی ادارہ ہے۔ اور ساتھ ہی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے معاملات کو بھی دیکھا جائے اس میں فریق ہوں جو مجید غوری (رکشا یونین) کی طرف سے دائر کی گئی ہے مگر میں اب اپنی طرف سے بھی دائر کروں گی۔ اس سے خبریں چینل ۵ کی ٹیم نے کاشانہ کی موجودہ سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کرنے کی کوشش کی تو عملے نے صاف منع کردیا کہ میڈم ڈانٹتی ہیں کسی کو میرا نہ بتایا جائے اس حوالے سے جب خبریں کی ٹیم نے صوبائی وزیر اجمل چیمہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے خبریں سے گفتگو کرتے ہوئے ان باتوں کی تردید کی اور کہا کہ یہ سب افشاں لطیف کی بے بنیاد کہانی ہے۔ یہ سارے الزامات ہیں۔ وہ یہ سارے الزامات اب ثابت کریں۔ اب ہم سارے عدالت کا رخ کرچکے ہیں۔ اب فیصلے عدالت میں ہوںگے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کی جوڈیشل انکوائری ہو تاکہ اس کا فیصلہ حقیقت پر مبنی ہو۔ اس خاتون نے بہت سارے گناہ کئے ہیں ان اداروں کو بدنام کیا ہے۔ وہ گورنمنٹ ملازم ہیں ان کو زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ میڈیا پر آکر ایسے بیانات دیتیں جب تک اس کو اعتماد نہ ہوجاتا کہ مجھے کہیں بھی انصاف نہیں ملنے والا پھر جہاں مرضی جاتی میں سمجھتا ہوں اب یہ ادارے کی انکوائری ہے۔ ادارے کو اس نے بدنام کیا ہے۔ مجھے پانچ مہینے ہوگئے ہیں۔ میں نے وہ وزارت چھوڑ دی۔ اب ادارہ اس کا وزیر اور اس کے آفیسر دیکھیں گے۔ یہ جو الزام لگارہی ہیں۔ کیا وہی کچھ ہوتا تھا پہلے ہوتا تھا یا میرے دور میں ہوتا تھا یہ سب ان کی کہانی ہے۔ مجھے بس یہ پتہ ہے کہ یہ خاتون اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ گورنمنٹ ملازم رہ سکے۔ میں حکومت سے درخواست کروں گا کہ اس کو فوری طور پر وہاں سے سے نکالا جائے اور بچیوں کے پاس بالکل نہ رہنے دیا جائے۔ اور جوڈیشل انکوائری کروائی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجائے۔جو گناہ گار ہے وہ خاتون ہی بتاسکتی ہیں۔ اس کے کس کے ساتھ جائز او رناجائز تعلقات ہیں۔ اس نے جس شخص سے شادی کی اس کو مجازی خدا کہتی ہیں۔ اور اس کے خلاف میڈیا میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں میں چاہتا ہی نہیں کہ اس سے بات کروں جو عورت اپنے خاوند کیلئے کہہ رہی ہے کہ نکمہ ہے میری کمائی پر رہتا ہے اس عورت کو عزت و احترام کا کوئی خیال نہیں۔ میں عدالت سے کہوں گا جلد سارے معاملے کو خود دیکھیں گناہگار کو سزا دیں اور جو ہمارے ملک اور اداروں کی بدنامی کررہے ہیں معصوم بچیوں پر الزام لگارہے ہیں ایسے لوگوں کو دردناک سزا دیں۔تاکہ دوبارہ ایسے نہ کہے۔ مجھے اس وقت یہ خاتون ایک نفسیاتی مریض لگ رہی ہیں اس کا میڈیکل چیک اپ ہونا بہت ضروری ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved