تازہ تر ین

پی آئی سی واقعہ :رٹ منوانے کیلئے پنجاب حکومت کا ٹیسٹ کیس

 تجزیہ : امتنان شاہد  پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی ہسپتال کے اوپر حملہ ہوا ہے۔ کسی کمیونٹی کی طرف سے احتجاج تو ہوتے رہتے ہیں، جلسے جلوس بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح منصوبہ بندی کے تحت حملہ پہلی دفعہ دیکھا ہے جو قابل مذمت تو ہے ہی اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ دکلاءبرادری ی طرف سے یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ وکلاءکی طرف سے عدالتوں کے اندر وکلاءکے مخالف گروپ آپس میں لڑتے ہیں ججوں پر حملے ہوتے ہیں اور سائلین پر حملے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی دی گئی چھوٹ ہے جو ہمارے سامنے آ رہی ہے جس کا نتیجہ اب تک ہم بھگت رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ہسپتال کا یہ پہلا حملہ ہے جس کے نتیجے میں تین جانیں گئی ہیں۔ وکلاءکا مارچ جہاں سےے شروع ہوا تو گورنر ہاﺅس کا علاقہ تھا۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیا لوجی (PIC) تک یہ کم از کم 4 کلو میٹر کا راستہ بنتا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹہ مارچ کرنے کے بعد یہ وکلاءپی آئی سی پہنچے ہیں۔ دیکھنے کی بات یہ ہے دو ہزار کے قریب مسلح وکلاءکو آنے دیا گیا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری منسٹری کا اور ہماری لاہور پولیس کی مکمل ناکامی ہے۔ دو ہزار کا جتھہ ایسی صورت حال میں پہنچا جبکہ دو ہفتے پہلے سے ہنگامہ آرائی پیدا ہو گئی تھی اور بیچ بچاﺅ کرانا پڑا تھا۔ اپنے طور پرصوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین اور صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان وہاں پہنچے ان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن انہوں نے اپنے طور پر ہنگامہ آرائی ختم کروانے کی کوشش کی اس میں لاہور کی ضلعی انتظامیہ یا ضلعی پولیس کا مجھے کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ جو ایک بڑی ناکامی ہے۔ ہماری اطلاع کے مطابق 30,40 کے قریب مسلح لوگ تھے اس کو کس نے اجازت دی کہ وہ ڈیڑھ دو گھنٹے کا پیدل مارچ کرتا ہوا پی آئی سی تک پہنچا ہے۔ یہ حکومت پنجاب کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے کہ کل کو اس طرح کا جتھہ آپ کی پنجاب اسمبلی میں جا سکتا ہے۔ عام آدمی جس کا ایک ہسپتال میں علاج ہو رہا ہے وہ تین لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ ان کا کیا قصور تھا۔ کیا حکومت کی طرف سے دی گئی مالی امداد قابل قبول ہو گی کیا جان کی قیمت 15,10 لاکھ ہے۔ اس کے پیچھے کسی سیاسی جماعت کے کارکنان تھے یا صرف وکلا تھے یا وکلاءکے اندر موجود ایسے عناصر تھے جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر ایک ہسپتال میں داخل ہو جاتے ہیں اور مریضوں کے چہروں کے اوپر سے آکسیجن کے ماسک اتار دیتے ہیں۔ یہ انسان نہیں درندے تھے جو لوگوں کی زندگیوں سے کھیل گئے۔ اس طرح تو جنگوں کے دوران نہیں ہوتا کوئی ملک دوسرے ملک کی سول آبادی پر قابض ہو جائے وہاں بھی ہسپتالوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ میں نے تقریباً پوری دنیا دیکھی ہے میں نے آج تک نہ کسی ملک میں ایسا دیکھا نہ سنا ہے۔ کہ کسی ہسپتال پر لوگوں نے حملہ کیا ہو اور اس کو کسی سکیورٹی فورس نے روکا نہ ہو۔ آپ اس بات کو چھوڑ دیں کہ وکیل تھے یا ڈاکٹر تھے یا کوئی اور لوگ یہ ایک غیر قانونی اقدام ہے اوران لوگوں پر 302 کا کیس بننا چاہئے اور بدقسمتی سے ہمارے جوڈیشل سسٹم میں افتخار چودھری صاحب بار کونسل کو اتنا طاقتور بنا گئے کیا ان وکلاءپر بننے والے کیسز میں کوئی دوسرا وکیل پیش ہو گا۔ اس کا جواب ہے نہیں ہو گا۔ کیونکہ بار کو اتنا پاور فل کر دیا گیا ہے کہ اس وقت مال روڈ بلاک ہے۔ رات 8 بجے مال روڈٹریفک سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں ۔ عام پاکستانی ڈر کے مارے سڑک پر نہیں نکل رہا کیا پتہ کوئی وکیل ٹکر جائے اور اس کی کار کے شیشے توڑ دے کم و بیش 250 گاڑیوں کے شیشے توڑ گئے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلا۔ 3 لوگ مار دیئے اور اس کا ہم نے یہ حل نکالا ہے کہ ایک قرارداد مذمت پیش کر دیئے ہیں۔ وزیر قانون راجہ بشارت بڑے دھیمے الفاظ میں بات کر رہے تھے کہ یہ شرم کی بات ہے آپ ایک ہسپتال میں حملہ کر دیتے ہیں مریضوں کا کیا تعلق ہے کسی کی لڑائی سے حکومت نے اپنی رٹ منوانی ہے تو حکومت پنجاب کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved