تازہ تر ین

وکلاءکا ایک گروہ انسانی زندگیوں سے کھیل گیا ،پوری سوسائٹی یرغمال بنی رہی ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بڑا دکھ ہوا ہے یہ محسوس کرتا ہوں کہ ہم کوئی مہذب قوم نہیں ہیں جو لوگ قانون کی حفاطت کرنے والے لوگوں میں سے تھے، یہ ٹھیک ہے سارے وکیل نہیں تھے لیکن جس طرح انہوں نے سسکتی ہوئی انسانیت کو کچل کر رکھ دیا ہے اس سے ظاہرہوتا ہے کہ ان کو ذرہ بربر احساس نہیں ہوا۔ اس کے سینے میں انسان کا دل ہی نہیں تھا۔ورنہ کوئی شخص ایسے مریضوں کو جن کے اندر سٹنٹ پڑ رہے ہوں ان کے ڈاکٹروں کو مار پیٹ کر نہیں بھگاتا اور اس کے نتیجے میں اموات بھی ہوئیں۔ یہ جو بھی لوگ تھے ان کا کچھ بھی نہیں بنے گا۔ مجھے کچھ پولیس والوں نے یہ بتایا ہے کہ انہیں کہا گیا ہے کہ کسی کو گرفتار نہیں کرنا۔ یہ پنجاب حکومت کی ایک کمزوری ہے جس کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی حکومت ہے ہی نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ کون سے وکلاءتھے ان میں سے کس نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا یہ باتیں تو بعد کی ہیں۔ لیکن یہ خبر ملی کہ ایک طرف وکلاءحضرات کے ایک گروہ نے میں سارے نہیں کہتا وہاں زبردستی کی اور تشدد کا مظاہرہ کیا دوسرا گروہ جی پی او میں دھرنا دے کر بیٹھ گیا۔ یوں لگتا ہے کہ پوری سوسائٹی یرغمال ہو گئی ہے وکلاءکے ایک متشدد گروہ کے ہاتھوں۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی باہوش سمجھ دار اور بالغ نظر وکیل جو ہے وہ ان واقعات کی حمایت کرے گا۔ ہر سال بار کے الیکشن تو ہوتے رہتے ہیں لیکن اس طرح سے کبھی نہیں ہوتا کہ ہسپتالوں پر دھاوا بول دیا جائے۔ جس طرح سے چند روز پہلے اسی میز پر میڈیکل کے لوگ آئے ہوئے تھے اور دوسری طرف اظہر صدیق صاحب یہاں آئے ہوئے اور جنرل سیکرٹری بار کو ہم نے لائن پر لیا تھا۔ اس وقت تو یہی پتہ چلا کہ آپس میں ٹینشن تھی۔ ڈاکٹرز اور وکلاءکے درمیان لیکن صلح صفائی ہو گئی تھی۔ ہمارے رپورٹر کہتے ہیںکہ جس طریقے سے بہمیت سے اور جس خوفناک طرز عمل کے ساتھ یعنی یوں لگتا تھا کہ جیسے دشمن ملک کے اندر تاج و تاراج کر رہا ہے۔ وکلاءکو کوئی شکایت تھی تو ذمہ دار ڈاکٹرز سے بات کرتے مار پٹائی کا کیا مطلب ہے۔ ڈاکٹرو ںکو مارپیٹ کر باہر نکال دینا ہے اور پیچھے سے 6 آدمیوں کو مرنے دینا۔ میں راجہ بشارت کی پریس کانفرنس سن رہا تھا کہہ رہے تھے جو کوئی بھی ہے ضرور گرفت میں آئے گا۔ راجہ صاحب مجھے پولیس ہی کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ظاہر ہے انہوں نے ملازمت کرنی ہے پولیس کا یہ کہنا ہے کہ ان کو کہا گیا ہے کہ کسی کو ہاتھ نہیں لگانا۔ یہ کس قسم کی حکومت راجہ بشارت صاحب آپ چلا رہے ہیں۔ پنجاب کے چیف منسٹر صاحب بھی فیصلہ کر لیں کہ انہوں نے موثر طریقے سے حکومت کرنی ہے یا لوگوں کے نیچے لگنا ہے۔ افتخار چودھری کے لئے جو تحریک چلی تھی اس میں پہلی مرتبہ یہ رول سامنے آیا کہ وکلاء جو ہیں زبردست طریقے سے موومنٹ چلاتے ہیں لیکن آج کے واقعات میں نہ تو کوئی بار کا عہدیدار ہے نہ ہی کوئی وکلاءتنظیم کے عہدیدار ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں جو وکلاءکے وکیل ہیں لیکن وکلاءکے نام پر انسانیت سوز سلوک کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے گھروں دفتروں میں بیٹھے رہتے تھے لیکن جن لوگوں نے یہ کام کیا وہ بہر حال وکیل ہے۔ خالد رانجھا صاحب اگر ڈاکٹرز نے گالیاں دی بھی تھیں تو اس کا جواب اسی قسم کی ویڈیو وائرل کرنا ہو سکت تھا۔ ان 6 آدمیوں کا قاتل کون ہے۔ میری تو چیف جسٹس ہائی کورٹ سے درخواست ہے کہ اس واقعہ پر فوراً ایک انکوائری کمیشن ترتیب دیں یا اس پر جے آئی ٹی بنائی جائے تا کہ اصل واقعات سامنے لائے جائیں۔ کہ پہل کس نے کی اگر ڈاکٹرز نے کی ہے ان کو پکڑ جائے اگر وکلاءنے پہل کی ہے تو ان کو پکڑا جائے۔ صرف اس بنیاد پر کہ کچھ لوگوں نے کالے کوٹ پہنے ہوئے ہیں پتہ نہیں وہ وکیل ہیں کہ نہیں اس پر کھلی چھٹی دے دی جائے کہ اس کی تو خالد رانجھا صاحب بھی حمایت نہیں کرتے۔ مرنے والوں کی 302 کس پر لگنی چاہئے۔ اس وقت بار کا الیکشن ایک بڑی وجہ ہے دوسرا اس میں سیاسی جماعتیں ملوث نہیں بھی تھیں تو وہ آگ دیں گے اس کو زیادہ خراب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جو افراد پکڑے گئے ظاہر ہے وہ وکلاءہیں ان کو پکڑے رکھنا بھی مشکل اور چھوڑنا بھی مشکل ہے اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو سینئر وکلاءاور بار کے جو عہدیداران ہیں وہ اس میں پڑیں اور ساتھ پی ایم اے کے عہدیداروں کے ساتھ مل کر اس کا کوئی راستہ نکلیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ رفع دفع ہو گا۔ جوڈیشل کمیشن یا جے آئی ٹی بننی چاہئے اور اس سارے واقعات سامنے آنے چاہئیں پھر جن ڈاکٹرز نے وکلاءکے خلاف گالم گلوچ کیا جائے بقول اظہر صدیق صاحب کے ان کو بھی پکڑنا چاہئے۔ کیونکہ اشتعال دلا کر جب آپ گالی دیں گے تو وہ جواب میں مشتعل ہو گا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved