تازہ تر ین

وکلاءاور ڈاکٹر میں صلح ضروری ،قانون ہاتھ میں لینے والوں کو کڑی سزا دی جائے ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میری ذاتی طور پر پولیس کام سے بات ہوئی ہے اور وزیرقانون سے بات ہوئی ہے اور جو عمل سامنے آیا ہے اس سے لگتا یہی ہے کہ حکومت سیریس ہے آج کے حالات میں ڈاکٹروں نے ایمرجنسی دوبارہ بحال کر دی ہے اور بڑا کریڈٹ جاتا ہے پنجاب حکومت کو کہ ہسپتال کی انتظامیہ کو ایک رات میں ساری تیاریاں کیں اور دوبارہ جو ٹوٹ پھوٹ ہوئی تھی اس کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور بالکل ایک نئے سرے سے ہوا لگتا ہے یہاں ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں جہاں تک عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی گرفتاری کا تعلق ہے اس میں بڑی افواہیں تھیں کہ فلاں کو گرفتار نہیں کیا اس میں ہمارے دوست حفیظ اللہ نیازی کے بیٹے کی بات زیادہ کی جا رہی تھی۔ حفیظ اللہ نیازی ن لیگ کے بہت حق میں ہیں کالم بھی لکھتے ہیں ویسے بھی بہت ایکٹو ہیں ان کے بھائی انعام اللہ نیازی وہ بھی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑتے ہیں وہ بھانجے ضرور ہیں لیکن ان کی فیملی جو ہے وہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتی ہے کہا جاتا ہے کہ وہ اس گاڑی کے پاس کھڑے تھے جس کو جلایا گیا اور اشارے کر رہے تھے۔ یہ بات کس طرح حد تک درست ہے یہ تو انکوائری میں پتہ چلے گا لیکن ساتھ ساتھ ہی بات بھی کہی جاتی ہے کہ ان کے والد ضرور ن لیگ کے ساتھ ہیں لیکن وہ تو پی ٹی آئی اور عمران خان کے حق میں تھے۔بہرحال جو بھی ہوا مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم نے بھی صحیح اقدام کیا کہ کوئی بھی ہے میرا رشتہ ہے یا عزیز ہے تو اس کو سپیئر نہ کیا جائے چنانچہ آج ان کے گھر پر چھاپے پڑے۔ آج نہیں تو کل وہ گرفتار ہو جائیں گے لیکن کافی لوگ جو موقع پر گرفتار ہونے چاہئے تھے اور گرفتار نہیں ہو سکے ان کو سی سی فوٹیج کی مدد سے کیا جا رہا ہے اور ان کو پکڑا جا رہاہے اور 29 گرفتاریاں راتوں رات ہوئی ہیں اور 46 پہلے تھیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔ ہمارے نیوز ایڈیٹر تھے ان کے بھائی کو گرفتار کیا گیا تھا وہ کہتے تھے کہ میں عہدیدار ضرور ہوں بار کا لیکن میں تو مظاہرے میں شامل ہی نہیں تھا لیکن رات 4 بجے ان کو چھوڑ دیا گیا اور بس کچھ لوگوں کو جن کے بارے میں پتہ چلا کہ یہ موقع پر موجود نہیں تھے ان کو رہا کیا گیا ہے۔ وکلا کے سینئر لوگوں نے بھی اس بات کی شدید مذمت کی ہے اور بیل لینے کے لئے جو وہ وکلاءگئے تھے آج تو لاہور ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے بڑی سرزنش کی اس بات کی کہ آپ یہاں کیا لینے آئے ہیں انہوں نے بھی اس واقعے کو ناپسند کیا ہے۔ میری دانست میں جنگ عظیم اول اور دوم یہ دونوں بڑی جنگیں جو دنیا بھر میں لڑی گئیں اس کے دوران بھی کبھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا کہ کسی ہسپتال پر حملہ کیا گیا ہو اور ریڈ کراس کا نشان دیکھ کر اور ہسپتال کا بورڈ دیکھ کر لوگ عام طور پر رک جاتے ہیں کہ ہسپتال میں کوئی داخل نہیں ہو گا۔ میری تو اب تک سمجھ میں نہیں آیا کہ میں تو پوچھنا چاہتا ہوں کوئی وکیل صاحب اس بات کا جواب دینا چاہیں تو میں حاضر ہوں کہ وہ کون لوگ تھے۔ میرا ذہن تو تسلیم ہی نہیں کرتا وکیل جو قانون دان ہوتا ہے نمبر1 وہ اس طرح ٹرپس پاسنگ کرے کسی ادارے میں داخل ہو اور نمبر2 دنگا فساد کرے نمبر3 وہ فائرنگ کرے کہ اس کے پاس پستول تھا نمبر4 وہ مریضوں کے منہ سے ماسک ہٹا دے تا کہ ان کی موت واقع ہو جائے۔ 3 لوگ جو مر گئے ہیں ان کی ایف آئی اار کس کے نام درج ہو گی۔ جو لوگ ہنگاموں میں شریک تھے وہ تو براہ راست ذمہ دار ہیں ان اموات کے میں سمجھتا ہوں کہ جہاں تک ڈاکٹرز کا تعلق ہے ینگ ڈاکٹروں کے بارے میں یہ رائے تھی کہ ہر تیسرے دن ہڑتال کر دیتے ہیں اور سڑکیں بلاک کر دیتے ہیں لیکن موجودہ واقعہ سے ڈاکٹرز کے لئے ایک ہمدردی پیدا ہوئی ہے اور وکلاءکے لئے ایک ناپسندیدگی کی لہر جو معاشرے میں دوڑ گئی ہے اب وکلاءجو اس کے لئے تحریک چلا رہے ہیں۔ ان کو سو دفعہ سوچنا پڑے گا کہ وہ جس طرح سے بات شدت کے ساتھ سامنے لائیں گے اتنا عوام کی ناپسندگی کے جذبات ان کے لئے پیدا ہو جائیں گے۔ ضیا شاہد نے کہا ہے کہ کچھ ڈاکٹرز نے یہ کہا ہے کہ ڈاکٹرز بحیثیت مجموعی کسی وکیل کا علاج نہیں کریں گے کسی کا ٹیسٹ نہیں کریں گے۔ میرے رپورٹر نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات جن وکلاءکو طبی معائنے کے لئے لایا گیا تھا ینگ ڈاکٹرز نے ان کو دیکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ جو بھی واقعہ ہوا بہتر تو ہوتا کہ وکلاءکا نمائندہ یہاں موجود ہوتا ہم نے ان کو دعوت دی تھی میں نے اپنے دائیں طرف ان کی تجویز دی تا کہ وہ میرے دائیں طرف سے بیٹھیں۔ اگر کوئی بات ہو تو وہ اس کا جواب دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں جو سن رہے ہیں ہمیں فون بھی کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر حضرات سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر رات نے کسی نے طبی معائنے سے گریز کیا تو ہماری تاریخ تو یہ ہے کہ جب صلاح الدین ایوبی کی جنگ ہو رہی تھی جس کو صلیبی جنگ کہتے تھے تو اس وقت رچرڈ بیمار ہو گیا جنگ کے باوجود صلاح الدین ایوبی نے بھیس بدل کر طبیب کا روپ دھار کر خود جا کر اس کا علاج کیا۔ ہماری شاندار تاریخ ہے لہٰذا ڈاکٹر حضرات کو ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے کہ وہ کسی وکیل کا علاج نہیں کریں گے ان کا ٹیسٹ نہیں کریں گے یا ان کو اٹینڈ نہیں کریں گے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ اگر ینگ ڈاکٹرز کی طرف سے ایسی کوئی بات ہوتی ہے تو اس کی تردید کریں گے اور آئندہ وعدہ کریں گے کہ اپنے مخالف کو بھی سارے وکیل تو اس میں شریک بھی نہیں ہیں۔ لہٰذا ایک پوری کلاس کا کہنا ہے کہ ان کا بائیکاٹ کر دیا جائے یہ ایک زیادتی ہو گی۔ میری اپنی ویملی ڈاکٹرز سے بھری ہوئی ہے۔ ڈاکٹرز کا یہ عہد ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخالف سے مخالف شخص کا بھی علاج کرتا ہے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ ہسپتال کی طرف جو جتھے جا رہے ہیں ان کو روکا نہیں گیا اور 2، تین گھنٹے پولیس کیوں خاموش رہی۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ یہ معاملہ صلح صفائی کرکے مٹی نہیں ڈالنی چاہئے اگر ہم نے اس طرح کے سنجیدہ معاملات کو اس طرح سے آپس میں گلے مل کر اور رسمی کارروائی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ صدر بار اگر کہتی ہیں کہ اس پر شرمندہ ہیں میں سمجھتا ہوں کہ جنہوں نے کریمنل ایکٹ کیا ہے ان کو معاف نہیں کرنا چاہئے وہ معافی سے معاملہ رفع دفع کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ ایک دفعہ جو مجرم ہے جس نے قانون کو ہاتھ میں لیا وہ میرے خیال میں زیادہ قصوروار ہے میں تو کم قانون سے واقف ہوں میں تو کسی مشکل کے ئے کسی بھی وکیل صاحب کے پاس جاتا ہوں لیکن وکیل خود جانتے ہیں کہاں تک جانا ہے کہاں رک جانا ہے۔ میں نے ڈاکٹر عدنان کی ویڈیو دیکھی ہے ٹھیک ہے اس میں بڑی سخت باتیں ہیں لیکن اتنی اشتعال میں آنے والی بات نہیں ہے کہ جا کر ہسپتال پر حملہ کر دیا جائے اس سے زیادہ سخت باتوں والی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ ہم نے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان صاحب کو ہم نے ایڈیٹرز کلب میں چائے پر بلایا تھا ہم ان سے یہی سن رہے تھے کہ ان کے ساتھ کیا گزری۔ کیا سی سی پی او لاہور کے پاس، ڈی آئی جی اور آئی جی صاحب کے پاس اس کا کیا جواب ہے کہ انہوں نے کیوں نہیں روکا۔ یہ کس نے کہا تھا ان سے کہ ان کو کرتے ہیں کرنے دیں۔ اگر چائنا چوک میں وکلاءنے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہسپتال کی توڑ پھوڑ نہیں کریں۔ کیا پولیس والے اتنے دودھ پیتے بچے ہیں کہ وہ ایک بپھرے ہوئے مجمعے کی یقین دہانی پر مطمئن ہو گئے اور انہوں نے ان کو جانے دیا۔ بہتر بتایا جاتا ہے کہ وہاں 20,15 سے زیادہ پولیس اہلکار موجود نہیں تھے جو کہ اس مجمعے کو اندر جانے سے نہیں روک سکے۔ وہاں پولیس کی نفری کیوں موجود نہیں تھی۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ماضی کے پولیس والے مثالیں دیتے ہیں اور ریٹائرڈ پولیس افسر بھی بار بار کہتے ہیں کہ ہم پکڑے جاتے ہیں ہمیں چھڑانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ پھر سٹیٹ پر مقدمے کر دیتی ہے کہا جاتا ہے کہ فلاں بندے کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ اس لئے پولیس قدرتی طور پر وکلاءکے سلسلے میں کوئی سخت ایکشن لینا نہیں چاہتی تھی۔ یہ تجویزکی وکلاءپھولوں کے ہار لے کر جائیں اس قسم کے ڈرامے سے کیا وہ تلخی جو دلوں میں پیدا ہو چکی ہے کیا وہ تلخی ختم ہو سکتی ہے۔ مجھے ٹریفک پولیس والوں نے بتایا کہ ہم تو کسی وکیل کا چالان بھی نہیں کر سکتے ہم کسی کو سرخ بتی کراس کرنے پر کسی وکیل کو روک بھی نہیں سکتے کیونکہ وہ فون کر کے وکلاءکو بلا لیتے ہیں۔ سینئر وکلاءکہتے ہیں کہ ہمارا منشاءہر گزنہیں تھا کہ وکلاءخود کو قانون سے آزاد سمجھیں۔ ڈاکٹرز کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ یہ احساس کہ ہم کوئی آرگنائزیشن بنا کر کوئی بھی تحریک چلا سکتے ہیں چاہے وہ جسٹی فائی ہو یا نہ ہو۔ سوسائٹی میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے عدم برداشت کی وجہ سے جگہ جگہ خانہ جنگی ہو جاتی ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved