تازہ تر ین

وقت پر نہ پہنچتا تو خون خرابہ شروع ہو جاتا اپنی نگرانی میں علاقہ خالی کروایا عوام کو وکلاءکے غیض وغضب سے بچا کر قانون کے حوالے کیا،فیا ض الحسن چوہان لاہور ایڈیٹر کلب کی تقریب سے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد کا خطاب

لاہور (خصوصی رپورٹر،خبرنگار)صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ پی آئی سی سانحہ پر اگر میں بروقت نا پہنچتا تو بڑا نقصان ہوجاتا اور کسی طور پر بھی کسی کو بھی معاف نا کرتی ، پولیس کا آپریشن اپنی نگرانی میں کروا یا تو علاقہ خالی کروایا، میں نے تشدد برداشت کرنے کے باوجود بھی پندرہ سے زائد وکلاءکو عوامی غیض و غضب سے بچاکر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا ،اخبارات کو ان کے حقوق ، اشتہارات دینے کے لئے پالیسی اور مسائل کے حل کے لئے مالکان ، ایڈیٹرز کے ساتھ مل بیٹھ کر حل کریں گے ، سابقہ حکومتوں نے جس طرح لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا تھا جبکہ میڈیا کو پوری طرح سے کنٹرول کیا ہوا تھا اب عمران خان کی حکومت میں یہ سب نہیں ہوگا مگر پی ٹی آئی کی حکومت میڈیا کے جو حقوق بھر پور انداز میں فراہم کرے گی۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار پہلی مرتبہ ایم پی اے منتخب ہوئے ، پہلی مرتبہ وزیر اعلی بنے اور انہوں نے ریکار ڈ ترقیاتی کام ، قانون سازی اور دیگر منصوبوں پر کام کروائے جبکہ ان کے مقابل سابقہ حکومتوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور ایڈیٹرز کلب کے اجلاس میں شریک ایڈیٹرز سے گفتگوکرتے ہوئے کیا ۔ لاہور ایڈیٹر فورم کے صدر و چیف ایڈیٹر ضیاشاہد کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان ،صدرو چیف ایڈیٹر ضیا شاہد، مجیب الرحمان شامی ، سیکرٹری جنرل سجاد بخاری ، سیکرٹری انفارمیشن اینڈ کلچرل راجہ جہانگیر انور، ڈی جی پی آر ڈاکٹر اسلم ڈوگر، عمر شامی ، خوشنود علی خان، سید منیر گیلانی ، ممتاز طاہر، ایثار رانا، حسن ممتاز، احمد نعمان انور، رانا فہد ، اویس خوشنودشریک تھے ۔ اس موقع پر صدر لاہور ایڈیٹر زکلب و چیف ایڈیٹر خبریں ضیاءشاہد نے اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کیا ۔ چیف ایڈیٹر خبریں نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے دوبارہ وزارت کی بھاگ دوڑ سنبھالی ہے جو کہ خوش آئندہے اس لئے ضروری تھا کہ اس اجلاس میں ایڈیٹرز اور صوبائی وزیر کے مابین ملاقات ہو اور جو مسائل ہیں ان پر کھل کر بات ہو جس پر صوبائی وزیر نے ایڈیٹر ز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ مجھے اندازہ ہے کہ اخبارات کے مسائل بڑے گھمبیر ہیں اس پر ہر ماہ باقاعدہ طو پر اخبارات مالکان، ایڈیٹر زاور بیٹ رپورٹرز کے ساتھ میٹنگ کروں گا جس سے مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لئے مدد ملے گی ۔ فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومتوں نے میڈیاکو پیسے کے زور پر یرغمال بنا یا ہوا تھا جس سے ان کی 56کمپنیوں کے خسارے چھپے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کسی بھی ادارے کی تضحیک اور نمائندوں کی ذاتی زندگیوں پر کیچڑ اچھالا جاتا رہا اور انہیں وزیر اعظم ہاﺅس اور دیگر مقامات سے کسی کو شاباش اور پیسے کی برسات ہوتی تھی مگر اب ایسا نہیں ہوگا ۔ صوبائی وزیر نے صدر لاہور ایڈیٹر ز کلب ضیا ءشاہد نے سوال کیا کہ ایسی کیا وجہ ہے کہ محکموں نے تشہیر کا بجٹ جاری ہی نہیں کیا، عوامی آگاہی کے اہم مسائل پر بھی اشتہارات جاری نہیں کئے گئے اور نقصانات بھی برداشت کئے ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امیر ترین صوبہ پنجاب میں بجٹ کہاں گیا اور کس نے استعمال کر دیا ؟ سرکاری افسران کو تشہیر کرنا اب گناہ محسوس ہوتا ہے اور نیب کا دھڑکا لگا رہتا ہے اس تاثر کو زائل کریں اور اخبارات کو ان کے طے کردہ فارمولے کے تحت اشتہارات جاری کریں تاکہ ہم اپنے ورکرز کو بھر وقت تنخواہیں اور آخراجات پورے کر سکیں ۔جس پر صوبائی وزیر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے پہلے سوا چھ ماہ کے دور میں پریس لا بنوائے جس پر عملدرآمد کی کوشش کی ، میں نتائج دینے والا بندہ ہوں اسی لئے مجھے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے خود یہ وزارت دی ہے میں نے اپنے سوا چھ ماہ میں تقریبا 6سو میٹنگز کی اور ان کے نتائج بھی بر آمد ہوئے ۔ اب دوبارہ سے میڈیا کو ان کے حقوق کی فراہمی کے لئے تمام اقدامات اٹھائیں گے تاکہ کہیں پر بھی کوئی دشواری پیش نا آئے ۔ انہوں نے کہا کہ مجیب الرحمان شامی کا تبصر ہ کہ ہاتھ نرم رکھیں یقینا اب ہاتھ نرم ہی رکھا ہوا ہے مگر ملک اور اس کے دفائع کی خاطر کسی طور پر بھی نرمی نہیں برتی جا سکتی ۔ اس موقع پر سنیئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے میڈیا کو ان کے صرف طے کر دہ حقوق ہی دے دیئے ہوتے تو آج یہ حالات نا ہوتے ،ممتاز طاہر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا فیاض الحسن کا دوبارہ وزارت میں آنا خوش آئندہے اور امید کرتے ہیں کہ جو اس انڈسٹر ی کو درپیش مسائل ہیں ان کو حل کرنے کے لئے اپنا اہم کردار اداکریں گے ۔ سلمان غنی نے صوبائی وزیر سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اتنی سستی کیوں برتی کہ وکلاءسات کلومیٹر کا فاصلہ ایک بڑے کارواں کی صورت میں دیڑھ گھنٹے تک سڑکوں پر گھومتا رہا مگر کسی نے بھی کسی بھی مقام پر روکنے کی کوشش کیوں نا کی اور ایسا کیا تھا کہ آپ نے بطور وزیر پولیس کو لیڈ کیا ؟ کیوں پولیس کی اعلی قیادت نابلد دکھائی دے رہی ہے جس پر صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے پولیس کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ ہم نے وکلا ءکو تین مقامات پر روکنے کی کوشش کی مگر نفری کی کمی اور واقع کی سنگینی کا اندازہ نا تھا جس کے باعث یہ واقع پیش آیامگر میں نے وزیر اعلی کی ہدایت پر بھر وقت جائے وقوعہ پر پہنچ کر بہت بڑے حادثے سے بچالیا ۔اس موقع پر اجلاس میں سنیئر صحافی جمیل اطہر ، خوشنود علی خان نے بھی سوالات کئے جبکہ اخبارات کی انڈسٹر ی کو مسائل سے نکالنے کے لئے لاہور ایڈیٹرز کلب کو تجاویز بھی پیش کیں ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved