تازہ تر ین

ٹرمپ نے گھٹنے ٹیک دئیے،ایران سے غیر مشروط مذاکرات پر آمادہ،سلامتی کونسل کو خط لکھ دیا

واشنگٹن، لندن (آئی این پی، نیٹ نیوز) امریکا نےایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے غیر مشروط مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے،اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کیلی کرافٹ نے سلامتی کونسل میں لکھے خط میں کہا کہ امریکا خطے میں امن و استحکام کے لیے ایران کے ساتھ غیر مشروط سنجیدہ مذاکرات پر راضی ہے، جنرل سلیمانی کو دفاع میں مارا اور اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو امریکی فوجیوں اور اثاثوں کی حفاظت کے لیے مزید کارروائی بھی کی جائے گی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے غیر مشروط مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔امریکا کی جانب سے 3 جنوری کو عراقی دارالحکومت بغداد میں القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت اور ایران کے امریکی ہوائی اڈوں پر جوابی حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دیئے جا رہے ہیں جب کہ اقوام متحدہ اور پاکستان سمیت بیشتر ممالک دونوں ممالک پر بات چیت کے لیے زور ڈال رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران عراق میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیا لگانے کا اعلان کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ایرانی حملے میں امریکی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ایران پسپائی حاصل کر رہا ہے جو دنیا کے لیے اچھی بات ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو امن چاہتا ہے امریکا اس کے ساتھ امن کے قیام کے لیے تیار ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کیلی کرافٹ کی جانب سے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ جنرل سلیمانی کو دفاع میں مارا اور اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو امریکی فوجیوں اور اثاثوں کی حفاظت کے لیے مزید کارروائی بھی کی جائے گی۔کیلی کرافٹ نے مزید کہا کہ امریکا خطے میں امن و استحکام کے لیے ایران کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات سنجیدہ مذاکرات پر راضی ہے۔دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون دان اور کچھ ریپبلکنز اراکین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کلاسیفائیڈ بریفنگ کے دوران ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کیے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ جنرل سلیمانی امریکا کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا۔ امریکا نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے نتیجے میں ایران سے ہونے والی کشیدگی کے خاتمے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے ایران کو مذاکرات کی غیرمشروط پیشکش کردی۔امریکی سفیر کیلی کرافٹ کی جانب سے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو خط تحریر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا، ایران کے ساتھ غیرمشروط سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ عالمی امن اور سیکیورٹی کو مزید خطرہ نہ ہو اور ایرانی حکومت مزید جارحیت نہ کرے۔تاہم امریکا کی جانب سے لکھے گئے اس خط میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا دفاع کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سلیمانی کا قتل امریکا نے اپنے دفاع میں کیا۔خط میں مزید کہا گیا کہ امریکا خطے میں اپنی فوج اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کے مطابق کسی بھی ملک پر اپنے دفاع میں کوئی بھی کارروائی کرتے ہوئے یہ لازم ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی 15رکنی سیکیورٹی کونسل میں فوری طور پر رپورٹ کرے۔یاد رہے کہ 2014 میں امریکا نے شام میں داعش کے خلاف کارروائی کو جائز قرار دینے کے لیے بھی آرٹیکل 51 کا استعمال کیا تھا۔کیلی کرافٹ کی جانب سے تحریر کیے گئے خط میں کہا گیا کہ سلیمانی کی موت اور 29 دسمبر کو شام اور عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا گروپوں پر امریکی فضائی حملے حالیہ عرصے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا کی جانب سے مشرق وسطی میں امریکی فوج اور اس کے مفادات کو نشانہ بنانے کے ردعمل کے طور پر کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کا مقصد ایران کو حملے کرنے یا اس کی سپورٹ کرنے سے روکنا اور حملے کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔دوسری جانب ایران نے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خط لکھ کر عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر کارروائی کا آرٹیکل 51 کے تحت ہی دفاع کیا ہے۔تاہم سفارتی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ایران کا خط امریکا سے پہلے پہنچا۔اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر مجید تخت روانچی نے کہا کہ ایران کشیدگی میں اضافہ یا جنگ نہیں چاہتا، ایران نے ایک مناسب فوجی کارروائی کے دوران عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر اپنے دفاعی حق کا استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن انتہائی محدود اور اس میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں علاقے میں کسی شہری یا شہری اثاثوں کو نقصان نہیں پہنچا۔انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ وہ مزید کسی فوجی محاذ آرائی سے گریز کرے اور کہا کہ ایران عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے کسی بھی جارحیت کی صورت میں اپنے عوام کے دفاع، خود مختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی بقا کی خاطر جواب دینے کے لیے پرعزم ہے۔خط میں واضح طور پر کہا گیا کہ ایران، عراق کی خودمختاری مکمل احترام کرتا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورسن جانسن نے ایرانی صدر حسن روحانی پر زور دیا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی ختم کرے اور جوہری معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائے ۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے جمعرات کے روز حسن روحانی پر زور دیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی ختم کرے اور جوہری معاہدے عملدرآمد کرتے ہوئے یورینیم افزودگی بند کرے۔جانسن نے دشمنیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی ختم کرے کیونکہ کشیدگی کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved