تازہ تر ین

بھارت میں مسلمانوں پر حملے درجنوں گھر نذر آتش مسجد پر بھی دھاوا ،مودی کے خلاف کئی شہروں میں دھرنے

بنگلور‘ ممبئی‘ نئی دہلی‘ کولکتہ (نیٹ نیوز) آسٹریلیا کی ٹیم ون ڈے سیریز کھیلنے کےلئے بھارت میں موجود ہے ہاں پر دونوں ٹیموں کے درمیان پہلے ون ڈے کے دوران شائقین کی بڑی تعداد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے منظور کیے گئے کالے متنازع شہریت قانون کےخلاف احتجاج کرنے لگی۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف سے کالے قانون کی منظوری کے بعد بھارت میں پر تشدد مظاہرے اور احتجاج شروع ہو گئے ہیں، اب تک تقریبا 35 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں، زیادہ تر ہلاکتیں ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہوئیں جہاں پر بھارتی وزیراعظم گجرات کی طرح کی پالیسیاں اپناتے ہوئے لوگوں کو مروا رہے ہیں، ان مظاہروں کے دوران بھارتی پولیس نے براہ راست مظاہرین پر فائرنگ بھی کی۔ سماجی رابطے ویب سائٹ ٹویٹر پر دیکھا جا سکتا ہے کہ شہریوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے منظور کیے گئے متنازع کالے قانون کےخلاف احتجاج کیا، واکھنڈے سٹیڈیم میں نو این آر سی اور نو سی اے اے کی شرٹس پہن کر آگئے۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے متنازع قانون واپس لینے کی صدائیں بلند کیں، واکھنڈے سٹیڈیم میں زیادہ تر تعداد طالبعلموں کی تھی جنہوں نے کہا کہ ہمیں این آر سی، سی اے اے بل کسی صورت بھی منظور نہیں۔ بھارتی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور کے کاروباری مرکز میں منگل کو ترمیمی شہریت قانون اور نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزنز کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران عمارتوں کی دیواروں پر متنازعہ قانون کے خلاف نعروں کے ساتھ ساتھ ”فری کشمیر“ کے نعرے بھی دیکھے گئے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ نعرے بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کی طرف سے بھارت مخالف نعرے لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی وراننگ دیئے جانے کے ایک دن بعد سامنے آئے۔ اس موقع پر ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں اس بارے میں ابھی پتہ چلا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کام کون کرسکتا ہے۔ شرنگر پلازہ کی دیواریں اور شٹرز ان نعروں سے بھرے ہوئے تھے یہ نوجوانوں کی ایک پسندیدہ جگہ ہے جہاں وہ اکثر تصاویر، سیلفیز اور شوقیہ میوزک اور ڈانس کی ویڈیوز بناتے ہیں۔ بھارت میں شہریت ترمیمی قانون کیخلاف ظلم وجبر کے باوجود شہر شہر مظاہرے تھم نہ سکے۔ بھارت کے صوبہ تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کے شہر بھینسہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق عادل آباد کے مسلم اقلیتی علاقہ میں قتل و خون کا بازار گرم ہوگیا۔ علاقے میں مسلمان کسی اجتماع میں شریک تھے کہ ہندو انتہا پسندوں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر مسجد پر دھاوا بول دیا ۔ مسجد پر پتھراﺅ کیا اورموذن کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مسلمانوں کے گھروں کو جلا دیا گیا جس میں تقریبا 35 گھروں کے جلنے کی خبر آئی ہے۔ پورا شہر فوجی چھاﺅنی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ انٹرنیٹ سروس معطل ہوچکی ہے۔ ادھر مغربی بنگال میں بی جے پی کے صدر اور رکن اسمبلی دلیپ گھوش نے ریلی سے خطاب میں کہا ہے کہ جن ریاستوں میں ان کی جماعت بی جے پی کی حکومت ہے وہاں شہریت ترمیمی ایکٹ کےخلاف احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو گولیاں ماری گئیں۔ نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)کے طالب علموں کا شہریت کے کالے قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے، یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کو چننا ہماری بڑی غلطی تھی، ہم نے جس حکومت کو چنا تھا وہ ہی ہمیں کاٹ کھانے کو آرہی ہے، دوسری جانب نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علموں نے وائس چانسلر کے گھر کے باہر احتجاج کیا اور 15 دسمبر 2019 کے واقعے کی ایف آئی آر پولیس کیخلاف درج کرانے کا مطالبہ کیا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالب علموں کا شہریت کے کالے قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے، یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ ہم نے جس حکومت کو چنا تھا وہ ہی ہمیں کاٹ کھانے کو آرہی ہے۔بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور بھارت کے مختلف شہروں میں شہری مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ بھارتی ریاست کیرالہ کی حکومت نے متنازع شہریت قانون کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرالہ نے بی جے پی کی مرکزی حکومت کی جانب سے منظور کردہ قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ کیرالہ وہ پہلی بھارتی ریاست ہے جس نے متنازع شہریت قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جبکہ اس حوالے سے عدالت عظمی میں تقریبا 60 درخواستیں پہلی ہی زیر سماعت ہیں۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 131 کے تحت دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) آئین کی متعدد شقوں بشمول مساوات کےخلاف ہے اور دستور کے بنیادی اصول سیکولر ازم سے متصادم ہے۔بھارت کے صوبہ تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کے شہر بھینسہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عادل آباد کے مسلم اقلیتی علاقہ میں قتل و خون کا بازار گرم ہوگیا۔ علاقے میں مسلمان کسی اجتماع میں شریک تھے کہ ہندو انتہا پسندوں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر مسجد پر دھاوا بول دیا۔ مسجد پر پتھراﺅ کیا اور موذن کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مسلمانوں کے گھروں کو جلا دیا گیا جس میں تقریباً 35 گھروں کے جلنے کی خبر آئی ہے۔ پورا شہر فوجی چھاﺅنی میں تبدیل ہو چکا ہے۔انٹرنیٹ سروس معطل ہوچکی ہے۔مغربی بنگال کے14 فنکاروں نے بھی مودی سرکار کےخلاف تحریک چلادی ۔تفصیلات کے مطابق متنازع شہریت قانون کے خلاف بالی ووڈ کے بڑے نام احتجاج تو دور اس پر بات کرنے سے بھی گبھراتے نظر آئے لیکن بھارتی ریاست کیرالہ میں فنکار قانون کے خلاف اس احتجاج میں آواز بلند کرتے نظر آئے ۔ حال ہی میں مغربی بنگال کے 14 فنکاروں نے قانون کے خلاف تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ ان فنکاروں میں کونکناسین، سبایا ساچی چکرا بورتے، سواستکا مکھرجی، تلوتاما شوم، نندنا سین، دھیرتی مین چیٹرجی، روپم اسلام سمیت دیگر فنکار شامل ہیں۔ نوبل انعام یافتہ امریتا سین بھی مودی کے خلاف سراپااحتجاج ہیں۔ بھارتی ریاست کیرالہ شہریت ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی پہلی ریاست ہے۔ بھارت کی کئی مشہور شخصیات اور صحافی جن میں مہیش بھٹ، پوجا بھٹ راجدیپ سردسائی اور دیگر نے ٹوئٹر کے ذریعے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved