تازہ تر ین

آٹا بحران شدید ،ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ ،وزیر اعظم

، کراچی، پشاور (نمائندگان خبریں) وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے سخت احکامات پر محکمہ خوراک نے صوبے بھر میں فلور ملوں کے خلاف کریک ڈاون شروع کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور کراچی، حیدرآباد اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں فی کلو آٹے کی قیمت 70 روپے تک پہنچ گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری طور پر آٹے کی قیمت کو کنٹرول کرنے کی ہدایت کی تھی۔عثمان بزدار کے احکامات پر محکمہ خوراک پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے 376 فلور ملوں پر 9کروڑ 6 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کر دیا جب کہ 15 فلور ملوں کے لائسنس اور 180 فلور ملوں کا گندم کا کوٹہ بھی معطل کر دیا۔محکمہ خوراک نے فرائض سے غفلت برتنے پر 4 افسران کو بھی عہدے سے فارغ کر دیا ہے۔عہدے سے فارغ ہونے والے افسران میں ڈسٹرکٹ فوڈکنٹرولرگوجرانوالہ روحیل بٹ، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر سیالکوٹ نصراللہ خان ندیم، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ خوراک فیصل آباد کامران بشیر اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر وہاڑی صغیر احمد شامل ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی پنجاب حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے میں بیڈ گورننس کی وجہ سے تحریک انصاف کو دبا کا سامنا ہے۔ صوبائی درالحکومت میںآٹے کا بحران حل نہ ہوسکا، مارکیٹ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا نایاب ،سٹاک میںموجودآٹے کی من مانی قیمت وصول ،تفصیلات کے مطابق شہرمیں 20 کلوکا تھیلا 805 روپے کےسرکاری نرخوں کی بجائے900 سے ایک ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔جبکہ گزشتہ روز لاہور آٹا چکی اونرزایسوسی ایشن اور ضلعی حکومت کے مابین چکی آٹے کی قیمت کم کرنے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات بھی ناکام ہو گئے، جس کے بعد چکی کا آٹا 70 روپے فی کلو میں ہی فروخت کیا جارہا ہے۔آٹا چکی مالکان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں گندم 2200 سے 2300 روپے فی من تک جا پہنچی ہے، جس کے باعث وہ 70 روپے فی کلو سے کم آٹا فروخت نہیں کر سکتے۔جبکہ پنجاب کی غلہ منڈیوں سے بھی بلیک مارکیٹنگ ختم نہ ہوسکی، گندم کی سرکاری قیمت 1375روپے فی من مقرر مگر منڈیوں میں2200 روپے من فروخت ہو رہی ہے جس سے آٹا بحران مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ شہر میں آٹے کا بحران برقرار ہے۔ جبکہ ضلعی انتظامیہ نے دعوو¿ں سے کام لینا شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 20 پوائنٹس پر آٹے کے ٹرک آ گئے ہیں۔ جبکہ عوام اب بھی سستا آٹا ڈھونڈنے کے لیے دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ پنجاب سے آٹے کی ترسیل 5 روز سے مکمل بند ہونے کے بعد خیبرپختونخوا میں بحران پیدا ہونے لگا ، پشاور میں آٹے کا سٹاک صرف 2 دن کا رہ گیا، ایک ہفتے میں 20 کلو کا تھیلہ 100 روپے مہنگا ہوگیا۔آٹا ڈیلروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ 5 روز سے پنجاب سے آٹے کی ترسیل مکمل طور پر بند ہے، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 100 روپے جبکہ 85 کلو کی بوری میں 4 سے 5 سو روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے بنیادی ضروریات تو حاصل کرنا پہلے ہی مشکل تھا، رہی سہی کسر آٹے کی قیمت میں اضافے اور ممکنہ بحران نے پوری کر دی ہے۔ وزیر زراعت سندھ محمد اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت 40 ہزار میٹرک ٹن گندم افغانستان کونہ بھیجتی توملک میں آٹے کا بحران پیدانہ ہوتا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سندھ میں گندم کا بحران نہیں ہے اور فلورملزمالکان کو آٹے کی قیمت میں اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، کراچی میں آٹے کی سرکاری قیمت 45روپے فی کلو ہے۔وزیر زراعت نے صوبے میں آٹامہنگا فروخت کرنے والوں کے خلاف تمام ڈپٹی کمشنرز کو کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں فلورملز مالکان اور دکانداروں نے سرکاری قیمت پر عمل نہ کیا تو ملیں اور دکانیں سیل ہونگی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت 40 ہزار میٹرک ٹن گندم پڑوسی ملک افغانستان کونہ بھیجتی توملک میں بحران پیدانہ ہوتا، گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا سبب وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیاں ہیں، یہ سب مہنگائی کے سونامی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ڈیڑھ سال میں مہنگائی پرکوئی کنٹرو ل نہیں کیا، وفاقی حکومت عوام سے بھاری ٹیکسز لینے کے باوجود مہنگائی کم نہ کرسکی، جس حکومت میں عوام کو ریلیف دینے کی صلاحیت نہ ہو اس کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں، چند لوگوں کو خوش کرنے کےلئے عوام کولوٹا جارہا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved