تازہ تر ین

جڑانوالہ :غریب عورت پر قحبہ خانہ چلانے،شوہر پر بیوی سے بدکاری کے الزام میں مقدمہ افسوسناک ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تھانہ سٹی پولیس جڑانوالہ بیوی کو قحبہ خانے میں کام کرنے والی بناکر خاوند کو عیاش اور باہر کھڑے باری کا انتظار کرنے کا مقدمہ دے دیا۔ باوا آدم ہی نرالہ نکلا‘ بیوی قحبہ خانہ کے اندر خاوند باہر کھڑا باری کا انتظار کر رہا ہے پولیس نے انوکھا مقدمہ درج کرکے تاریخ رقم کر دی‘ غریب محنت کش جھولے بان کو پولیس کے ساتھ مول لی گئی درخواست بازی و صلح نامہ مہنگا پڑ گیا۔ فٹنس سرٹیفکیٹ کے لئے پولیس اہلکاروں کو 15ہزار روپے رشوت دی‘ کام نہ ہونے پر درخواست دی‘ تھوڑے پیسوں کی واپسی کے بعد پولیس اہلکاروں سے صلح ہو گئی مگر مذکورہ پولیس اہلکاروں نے اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنائے رکھا‘ بیوی کو قحبہ خانے میں کام کرنے والی بنا کر خاوند کو عیاش اور باہر کھڑے باری کا انتظار کرنے کا مقدمہ دے دیا۔ باوا آدم ہی نرالہ نکلا‘ بیوی قحبہ خانے کے اندر خاوند باہر کھڑا باری کا انتظار کر رہا ہے پولیس نے انوکھا مقدمہ درج کرکے تاریخ رقم کر دی۔ اب کون تبدیلی اور تھانہ کلچر کو بدل سکے گا۔ پاکستان کی تاریخ میں مذکورہ دلچسپ مقدمہ پولیس حکام کے لئے لمحہ فکریہ۔ بتایا گیا ہے کہ تھانہ سٹی کے محلہ رضا آباد گلی نمبر 11کے رہائشی 6سال سے جگر میں مبتلا جعفر حسین ولد نور محمد کھرل نے وزیراعظم پاکستان‘ چیف جسٹس آف پاکستان‘ آر پی او‘ سی پی او فیصل آباد سے دوہائی و انوکھے مقدمے میں انصاف مانگتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ جھولے پنگھوڑے لگاکر اپنے اہل خانہ کی کفالت کر رہا ہے چند ماہ قبل شہر سٹی میں جھولے لگانے کے لئے سٹی پولیس اہلکاروں ظہیر احمد‘ شہادت علی وغیرہ نے اس کو فٹنس سرٹیفیکیٹ دلوانے کے عوض رقم مبلغ 15ہزار لی کام نہ ہوا میں نے مذکوران کے خلاف پولیس حکام کو درخواست دی۔ الزام علیہان پولیس اہلکاروں ظہیر‘ شہادت نے منت ترلے اور کچھ رقم واپس کرکے میرے ساتھ صلح و رضا مندی کرلی لیکن دل میں اس بات کو اجاگر رکھا مذکوران کا تبادلہ بھی تھانہ سٹی سے ہو گیا۔ اب کچھ ماہ گزرنے پر مذکورہ پولیس اہلکار جب تھانہ سٹی میں تعینات ہوئے ہیں تو درخواست بازی کی انا کی آڑ میں ہم میاں بیوی پر انوکھی منقطع کا مقدمہ نمبر 45/20بجرم 371B‘ 371Aکی دفعات کے تحت درج کرکے عنوان بالا یہ رکھ کر میری بیوی قحبہ خانے پر کمرے میں گاہکوں کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی ہیں اور خاوند جعفر حسین باہر کھڑا اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوں کیا یہ کھلا تضاد نہیں اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں اور تھانہ کلچر پر المیے سے کم نہ ہے۔ ایسے سیدھے پولیس اہلکاروں اور مقدمہ درج کرنے والوں کو محکمانہ سخت سزائیں دی جائیں تاکہ پھر کوئی اس طرح انصاف نہ مانگے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پولیس تھانہ سٹی کے ایس آئی پرویز خالد نے 12جنوری کو مقدمہ نمبر 45/20بجرم 371B‘ 371Aکی دفعات کے تحت درج کروایا جس میں استغاثہ کے مطابق ایس آئی شہزادہ قیصر‘ اے ایس آئی لیاقت علی‘ ہیڈ کانسٹیبلان عبدالوحید‘ مبشر‘ لیڈی کانسٹیبل روبینہ نذیر وغیرہ کے ہمراہ سیم نہر رضا آباد کے قریب مخبر کی اطلاع پر شہناز احمد ٹاﺅن جڑانوالہ میں قحبہ خانہ بنایا ہوا ہے قحبہ خانہ میں مرد اور عورتیں رنگ رلیاں منا رہی ہیں جہاں پر ریڈ کیا تو شہناز احمد کے گھر سے جعفر حسین‘ محمد قاسم‘ شہناز زوجہ محمد یوسف‘ مدیحہ خان‘ عائشہ‘ سمیرا زوجہ جعفر حسین‘ شاہدہ بی بی موجود تھے‘ قاسم علی‘ سمیرا بی بی ایک کمرے میں تھے بقیہ اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ ایف آئی آر کا متن ہے اسے پولیس حکام کے لئے تھانہ کلچر کی تبدیلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سینئر صحافی ضیا شاہد نے بتایا کہ میں تو یہ کہانی سن کر حیران ہوں بیوی سمیرا بی بی کو فرضی قحبہ خانے میں ڈال کر خاوند جعفر حسین کو عیاش بنا دیا۔یہ بڑا ہی دلخراش واقعہ ہے ۔ چینل فائیو کے پروگرام ہیومن رائٹس واچ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈی پی او کو اس کیس پر توجہ دے کر تحقیقات کے لئے ایسی ٹیم مقرر کرنی چاہئے جو اس علاقے سے نہ ہو۔ حال یہ ہے کہ کسی کی چوری ہو جائے تو لوگ پولیس کے پاس نہیں جاتے کہ جو بچ گیا ہے وہ پولیس والے لے جائیں گے۔پولیس ہر چیز پر رشوت مانگتی ہے ۔پولیس نے غریب جھولے والے کی بیوی کو قحبہ خانہ میں کام کرنے والی بنا دیا۔ کسی بھی خاتون پر شوہر سمیت بدکاری کا پرچہ کاٹنا بڑی بے ہودہ بات ہے۔بے چارے شوہر کو قحبہ خانے کے باہر انتظار کرنے والا بنا دیا۔جس خاتون پر بدکار ہونے کا الزام لگا دیا اس کی علاقے میں کیا شہرت ہو گی۔اس سے بڑا کوئی جرم نہیں ہو سکتا کسی خاتون کو زندگی بھر کے لئے ذلیل و رسوا ہونے کے لئے چھوڑ دیں۔ایسا کونسا قحبہ خانہ ہے جس کے باہر لوگ کھڑے ہیں پھر اسی قطار میں قحبہ خانے میں موجود خاتون کا شوہر بھی کھڑا ہے۔ڈی پی او تحقیقات کریں اس کیس میں سے اور بھی بہت کچھ نکلے گا۔ لیگل ایڈوائزر آغا باقر نے کہا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے خاتون کو فحش حرکتیں کرنے والی بنا دیا آخر معاشرے میں ہو کیا رہا ہے۔انسانیت کہاں ہے پولیس اتنی بے حس کیسے ہو گئی‘ بے چاری خاتون پر اس قدر گھناﺅنا الزام لگا دیا ۔انہوں نے کہا کہ جہاں قحبہ خانوں کی شکایت ہوتی ہے پولیس وہاں کارروائی کرے ۔پولیس میں اچھے لوگ بھی ہیں لیکن کالی بھیڑوں کی وجہ سے پولیس بدنام ہے پولیس ٹھیک ہو جائے تو جرائم میں بڑی حد تک کمی ہو۔پولیس کسی سے بدلہ لینا چاہے تو سب کچھ کر گزرتی ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved