تازہ تر ین

چوہنگ ننھی ملازمہ تشدد سے قتل ،ڈاکٹر حمیرا مجھے ذہنی مریض لگتی ہے ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) گگو منڈی میں محکمہ انہار کے ایس ڈی او نے سرکاری بیلداروں کو ذاتی ملازم بنا دیا ذاتی کام سے انکار کرنے والے سرکاری لازمین پر اپنے نجی ٹارچر سیل میں تشدد کیا جانے لگا۔ ڈلن بنگلہ پر تعینات درجنوں ملازمین کا شدید احتجاج ایک ملازم منظور نے بتایا ایس ڈی او سعید ڈھیڈی مرغیوں کی دیکھ بھال کا کام بھی ہم سے لیتا ہے۔دوسرے کیس میں لاہور کے علاقے چوہنگ میں گھریلوملازمہ ثناءکو تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے ڈاکٹر حمیرا اور شوہر جنید کو حراست میں لے لیا۔سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا کہ عام محکموں میں سرکاری ملازمین سے ذاتی ملازم کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔جو بات نہ مانے اسے سزا بھی دی جاتی ہے۔ملازمین کو چاہئے تھا سارے معاملے کی شکایت کرتے میڈیا پر آنے سے قبل محکمانہ طور پر کوشش کر لیتے ہو سکتا ہے شاید ملازمین کو ریلیف مل جاتا۔بظاہر ملازمین نے ذاتی کاوش نہیں کی اس معاملے کو شکایت برائے شکایت کے طور پر لیا گیا ہے۔ چینل فائیو کے پروگرام ہیومین رائٹس واچ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایس ڈی او کی پچاس بھینسیں ہیں یہ بڑا کاروبار ہے ایک ایس ڈی او پچاس بھینسیں افورڈ بھی نہیں کر سکتا اس کا مطلب ہے اور لوگ بھی شیئر ہولڈر ہوں گے ہمیں حقائق جاننا ہو ںگے۔کیا اخباری نمائندے کمشنر کے پاس گئے یا صرف اخبارات کی خبروں پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے۔میں ماننے کے لئے تیار نہیں ایک ایس ڈی او پچاس بھینسوں کا مالک بن سکتا ہے۔یا ایس ڈی او کی دیگر افسران سے شراکت داری ہو گی اکیلا شخص یہ کام نہیں کر سکتا۔ننھی بچی اگر سیڑھیوں سے گری تھی تو اس کے ایک یا دو جگہوں پر چوٹوں کے نشانات ہونا چاہئے تھے لیکن بچی کے تو چہرے پر جگہ جگہ تشدد کے نشانات ہیں جیسے کسی نوک دار شے سے چھیلا گیا ہو ڈاکٹر مجھے کوئی ذہنی مریضہ لگتی ہے کیونکہ بعض لوگوں کو دوسرں کو جسمانی ایذا دے کر وقتی سکون ملتا ہے۔سابق جسٹس طارق افتحار نے بتایا کہ افسر اپنے رینک کا غلط استعمال نہیں کر سکتا۔بہرحال حقائق جاننا ضروری ہیں کہیں ایسا تو نہیں ملازمین ایس ڈی او پر دباﺅ ڈالنے کے لئے میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔اگر ملازمین پر تشدد ہوتا ہے تو وہ پولیس کے پاس کیوں نہیں جاتے ۔دوسری بات ایس ڈی او کی پوسٹنگ اس لئے نہیں ہوتی اتنی تعداد میں بھینسیں رکھ لے۔ایس ڈی او نے اگر زیادتی کی یہ بات پورے محکمے میں پھیلتی ہے۔ دوسرے کیس میں دیکھا جائے تو گھریلو ملازمین پر تشدد کے معاملات سے معاشرے کا سیاہ چہرہ سامنے آتا ہے۔ملک میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے قانون ہے کیا متعلقہ انتظامی محکمے سوئے پڑے ہیں۔ایسے کیسز میں متاثرین کو فری قانونی امداد ملنی چاہئے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved