تازہ تر ین

کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے کٹس تقسیم ،ایمر جنسی کاﺅنٹر قائم

اسلام آباد، لاہور، ملتان، کراچی (نمائندگان خبریں) وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں کرونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر پیشگی حفاظتی اقداماتکی ہدایت کر دی ہے۔وزیرِاعظم آفس کی جانب سے متعلقہ وزارتوں کو اس اہم معاملے پر خصوصی مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کرونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے کیلئے مربوط حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مراسلے میں اعلی سطح بین الوزارتی اجلاس بلانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ چین میں سامنے آنے والے کرونا وائرس کے اب تک دو ہزار کنفرم کیسز دنیا بھر میں سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستان میں چینی باشندوں کی بڑی تعداد میں موجودگی اور دونوں ملکوں کے درمیان سفر کرنے والے افراد کی بڑی تعداد کے پیش نظر بروقت حفاظتی اقدامات کی غیر موجودگی میں پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلا کے خدشے کو خارج الامکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔لہذا اس سلسلے میں جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے اور مرتب کی جانے والی سفارشات ایک ہفتے میں وزیرِاعظم آفس کو پیش کی جائیں۔ادھر وزیراعظم کی ہدایت پر بین الوزارتی 15 رکنی کمیٹی تشکیل کمیٹی کا پہلا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ کمیٹی ایک ہفتہ میں سفارشات تیار کرے گی۔کمیٹی میں سیکرٹری خارجہ، داخلہ اور ہوا بازی، حساس ادارواں کے حکام، ڈی جی ملٹری آپریشن، ڈی جی سول ایوی ایشن، ڈی جی ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس اور چئیرمین این ڈی ایم اے سمیت دیگر حکام بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ ان میں سے 3 سروسز ہسپتال لاہور جبکہ 2 نشتر ہسپتال ملتان میں زیر علاج ہیں۔نشتر ہسپتال میں داخل دو مریضوں میں سے ایک مریض پاکستانی شہری ہے جبکہ سروسز ہسپتال میں داخل تینوں مریضوں کا تعلق چینی شہر ووہان سے ہے۔ذرائع این آئی ایچ کا کہنا ہے کہ تمام مریضوں کے سیمپل ہانک کانگ لیبارٹری کو بھجوا دئیے گئے ہیں۔ 24 سے 48 گھنٹوں میں رپورٹس آنے کے بعد ہی علاج کا آغاز کیا جا سکے گا۔ تمام مشکوک مریضوں کو آئیسولیشن اور انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔ادھر لاہور کے سروسز ہسپتال کی انتظامیہ نے کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کو مکمل حفاظتی لباس پہنا دئیے گئے ہیں۔حفاظتی لباس میں ماسک، گلوز اور گوگلز بھی شامل ہیں۔ سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں کرونا وائرس کانٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ایم ایس ڈاکٹر سلیم چیمہ کا کہنا تھا کہ حفاظتی لباس مہیا کرنے کا مقصد ڈاکٹرز و دیگر عملے کو مہلک وائرس سے بچانا ہے۔ کروناوائرس کی تشخیص کیلئے محکمہ صحت کوکٹس مل گئیں، کرونا کے مشتبہ مریضوں کی تشخیص کی سہولیات اب لاہورمیں بھی میسر ہوں گی۔تفصیلات کے مطابق جانوروں سے پھیلنے والے کروناوائرس نے انسانوں کو نشانہ بنالیا، وائرس کی تشخیص کیلئے محکمہ صحت کوکٹس مل گئیں، وائرس سے متاثرہ افراد کی تشخیص کی سہولیات اب لاہورمیں بھی میسر ہوں گی، مکمل طبی معائنے کے بعد متاثرہ افراد کا مناسب علاج کیا جائے گا۔ڈی جی ہیلتھ کا کہناتھا کہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے صوبے کے انٹرنیشنل ائیرپورٹس پربیرون ممالک سے آنے والے افراد کا ٹیسٹ کیا جارہا ہے، اس حوالے سے سپیشل کاو¿نٹرز بنانے کا ٹاسک بھی دے دیا گیا ہے۔دوسری جانب کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز و دیگر عملے کو حفاظتی لباس مہیا کر دیا گیا ۔ سروسز ہسپتال انتظامیہ نے کرونا وائرس کے مشتبہ مریض میلی کی علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹرز کو مکمل حفاظتی لباس پہنا دئیے ۔حفاظتی لباس پی پی ای میں میں ماسک، گلوز، گوگلز بھی شامل ہیں۔میڈیکل سپرنٹنڈٹ سروسز ہسپتال ڈاکٹر سلیم چیمہ نے کہا ہے کہ سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں کرونا وائرس کاونٹر قائم کر دیا گیا ہے۔حفاظتی لباس مہیا کرنے کا مقصد ڈاکٹرز و دیگر عملے کو مہلک وائرس سے بچانا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ کرونا وائرس کے معاملے پر چین کی وزارت خارجہ کے ساتھ بیجنگ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ پیر کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کرونا وائرس ایشو کے حوالے سے اہم بیان میں کہاکہ چین کی وزارت خارجہ کے ساتھ بیجنگ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ چینی صوبے وہان میں 500 کے قریب رجسٹرڈ طلباء ہیں جبکہ نان رجسٹرڈ کو شامل کر کے یہ تعداد 500 سے 800 کے درمیان بنتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ چین نے کیرونا سے متاثرہ علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندی لگا رکھی ہے،اس وقت تک ہماری اطلاعات کے مطابق کوئی پاکستانی کی اس وائرس سے متاثر نہیں ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ہیلتھ ریگولیشن اینڈ کورآرڈینیشن ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے عوام کو بچانے کے لیے مربوط اور موثر اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں،اسلام آباد سمیت تمام بڑے ائیرپورٹس پر سکریننگ کاونٹر قائم کردئیے ہیںتمام ہسپتالوں کے سربراہان کو ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کیلئے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرونا وائرس سے بچاو کیلئے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ صوبائی وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ ووہان کرونا وائرس سے بچاﺅ کےلئے سندھ بھر کے سرکاری ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور عوام کےلئے آگاہی مہم کا آغاز بھی جلد شروع کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ووہان کرونا وائرس کے خطرے کے باعث صوبائی وزیر سندھ عذرا پیچوہو نے صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کے مطابق سندھ کےلئے عالمی ادارہ صحت کی ایڈوائزری آ چکی ہے اور کرونا وائرس جانوروں سے بھی پھیلتا ہے، سندھ کے عوام کو احتیاطی تدابیر سے آگاہی مہم کا آغاز بھی جلد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے بچاﺅ کے جسم کے بیشتر حصوں کو ڈھانپنے کی ضرورت ہے اور باقاعدگی سے ڈاکٹرز سے چیک اپ بھی معمول بنانا ہو گا، سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ سندھ کوکرونا وائرس سے پاک رکھا جائے، اس حوالے سے ہنگامی طور پر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved