تازہ تر ین

کیا ناشتا کرنا موٹاپے سے نجات میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے ؟

(ویب ڈیسک )اگرآپ جسمانی وزن میں کمی کی کوشش کررہے ہوں تو اکثر افراد کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ انہیں ناشتا کرنا چاہیے یا نہیںکرنا چاہیے؟برسوں سے غذائی ماہرین کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ناشتا کرنا ایک اچھا خیال ہے اور امریکا کی بیلور یونیورسٹی کی پروفیسر سوزی ویمز کے مطابق ‘آپ کو ناشتا کرنا چاہیے’،مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ناشتے میں کچھ بھی کھالینا چاہیے، درحقیقت کچھ زیادہ بھاری کھا کر جسمانی وزن میں کمی کی توقع رکھنا نہیں چاہیے، درحقیقت غذا کا انتخاب اہمیت رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مختلف تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا کہ ناشتا جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے، درحقیقت روزانہ ناشتا کرنے والے 75 فیصد سے زیادہ افراد 7 کلو تک وزن کم کرلیتے ہیں۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ ناشتے میں کیا کھانا چاہیے؟
گر آپ صبح اٹھنے کے بعد گھنٹوں تک کچھ کھانے کا انتظار کریں گے تو آپ کا بلڈشوگر لیول گر جائے گا، جبکہ بھوک بھڑکانے والے ہارمونز متحرک ہوجائیں گے، اس کے نتیجے میں دوپہر کے کھانے کے وقت یا اس سے بھی پہلے شدید بھوک کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اور جب آپ صحیح معنوں میں بھوکے ہوتے ہیں تو صحت بخش غذا کے انتخاب کا امکان بھی کم ہوجاتا ہے، یعنی زیادہ کیلوریز اور چکنائی کھاسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں کمی کے مقصد کا حصول مشکل ترین ہوسکتا ہے۔
تصور کریں آپ گاڑی چلارہے ہوں، تو اس میں آپ ا س وقت سفر نہیں کرسکتے جب ایندھن نہ ہو۔ آپ کا جسم بھی ایسا ہی ہے، ناشتا نہ کرنا اور دن بھر کے لیے درکاری کیلوریز سے محرومی جسمانی توانائی سے محرومی کرتی ہے، اس کے مقابلے میں جسمانی توانائی بہتر ہو تو زیادہ بہتر انتخاب جیسے ورزش اور صحت بخش غذا کا امکان بڑھ جاتا ہے
ناشتے اور صحت مند طرز زندگی میں تعلق موجود ہے، یہاں تک کہ اس عادت سے امراض قلب اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا خطرہ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved