تازہ تر ین

مہنگائی کا توڑ ،گندم ،چینی پر ٹیکس کم،وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس،گیس اور بجلی کی قیمت میں کمی پر غور

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیرِ اعظم عمران خان نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے آو¿ٹ آف دی باکس حل اور تجاویز پر غور کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے عوام کی قوت برداشت کو مدنظر رکھے بغیر ور ملکی مفاد کو پش پشت رکھتے ہوئے مہنگے اور غیر منطقی معاہدے اور انتظامات کیے جس کا نتیجہ مہنگی بجلی اور گردشی قرضے کی صورت میں برآمد ہوا ہے، موجودہ حکومت کی اولین ترجیح عوام خصوصاً کم آمدنی والے اور غربت کے شکار افراد اور صنعتوں کا فروغ ہے تاکہ معیشت کا پہیہ چلے۔ انہوں نے یہ بات پیر کویہاں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی لانے اور گھریلو صارفین اور صنعتوں کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیرِ توانائی عمر ایوب، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی شہزاد قاسم ،معاون خصوصی ندیم بابر اور سینئر افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کی ہدایت پر بجلی اور گیس کی قیمتوں خصوصاً گھریلو صارفین اور صنعتوں کے لئے بجلی کی قیمتوں میں استحکام اور ممکنہ حد تک کمی لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیرِ اعظم کو بجلی اور گیس کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال اور درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے گیس کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے حوالے سے طویل المدتی پلان پر مبنی تجاویز پیش کیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ بجلی اور گیس کے شعبے میں ماضی کی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے معاہدوں کی وجہ سے بجلی اور گیس کا بوجھ عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ جہاں ایک طرف ان شعبوں میں انتظامی اصلاحات کی جائیں تاکہ چوری اور ضیاع کی مد میں پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے وہاں گھریلو صارفین اور صنعتوں کو مناسب قیمت پر بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے تاکہ عوام کو ریلیف میسر آئے اور صنعتی شعبے کو فروغ ملے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے بجلی چوری کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کیے گئے جس کا نتیجہ 122 ارب روپے کی آمدنی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ گردشی قرضوں میں ہونے والے 38 ارب کے ماہانہ اضافے کو کم کر کے 12 ارب روپے تک لایا جا چکا ہے جس کو اس سال کے آخر تک صفر کر دیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ماضی میں لگائے جانے والے بجلی کے کارخانوں کی قیمت بھی موجودہ حکومت کو ادا کرنا پڑ رہی ہے اور اس کا اضافی بوجھ بھی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے عوام کی قوت برداشت کو مدنظر رکھے بغیر اور ملکی مفاد کو پش پشت رکھتے ہوئے مہنگے اور غیر منطقی معاہدے اور انتظامات کیے گئے جس کا نتیجہ مہنگی بجلی اور گردشی قرضے کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح عوام خصوصاً کم آمدنی والے اور غربت کا شکار افراد ہیں اور صنعتوں کا فروغ ہے تاکہ معیشت کا پہیہ چلے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بجلی اور گیس میں قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے آو¿ٹ آف دی باکس حل اور تجاویز پر غور کیا جائے تاکہ وقتی حل نکالنے کی بجائے پائیدار بنیادوں پر قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved