تازہ تر ین

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے دورہ سے پاکستان میں اسلامو فوبیا بارے تاثر ختم ہوا ،ضیا شاہد

(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ قیمتوں پر کنٹرول ایک حکم سے تو نہیں ہو سکتا اس پر عمل کرنے کے لئے مسلسل کوششیں کرنے کی ضرورت ہے جس رفتار سے وزیراعظم لگے ہوئے ہیں اس رفتار سے میرا خیال ہے اس پر ایک ماہ تک پوری توجہ دینا ہو گی پھر یہ آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے یکے بعد دیگرے یہ معاملات درست کر سکیں گے۔ جس کی وجہ سے مہنگائی پر کنٹرول میں ہو سکے گا۔ مہنگائی ہو گی تو پھر خبریں تو چلیں گی اس میں شک کہ میڈیا کا ایک حصہ ہے جو روزانہ کوئی نہ کوئی ایسی چیز تلاش کر لیتا ہے جو حکومت کے بارے میں منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کون کر رہا ہے یہ ایک ایسا معاملہ جس پر مسلسل کوشش ہونی چاہئے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا کے بارے میں جو باتیں ہو رہی تھیں وہ تاثر تو ختم ہو گیا۔ اسلامو فوبیا کے بارے میں خاص طور پر انہوں نے کہا جس طرح سے کرتارپور کے واقعات کو اس کے ثبوت ہی پیش کیا تھا کہ بالکل پاکستان کے خلاف دنیا میں یک طرفہ پروپیگنڈا چل رہا ہے اور وہ پروپیگنڈا یہ ہے کہ مذہبی جنوبی سوچ رکھنے ولے لوگ ہیں ایسی بات نہیں ہے پاکستان بڑا ماڈرن ملک ہے اس میں بڑے لبرل لوگ ہیں اور وہ جو اقلیتوں کے سلسلے میں دوسرے سے دو قدم آگے بڑھ کر کوشش کر رہے ہیں تا کہ وہ اپنے عمل سے ثابت کر سکیں کہ ہم اقلیتوں کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہیں اور ان کے لئے جو بھی ہم سے ہو سکتا ہے ہم وہ کام کرنا چاہتے ہیں چنانچہ سکھوں کے بارے میں جو کچھ بھی پاکستان نے کیا اور جس طریقے سے اس پر وصیت کو مکمل کیا گیا اور جس طرح پاکستان میں سکھوں کی پذیرائی ہوتی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان جو ہے وہ اقلیتوں کے بارے کتنے ماڈرن جذبات اور تاثرات رکھتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے مسلمان ملکوں کو چاہئے کہ وہ خاص طور پر جس طرح پاکستان کرتار پور کا مسئلہ ہے سکھوں کا مسئلہ ہےے پاکستان میں اقلیتوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے جس طریقے سے سہولتیں بہم پہنچائی جاتی ہیں تا کہ یہ تاثر واضح ہو کہ ہم تو اقلیتوں کے لئے اتنا کچھ کر رہے ہیں جبکہ انڈیا جو ہے وہ اپنے ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہے 22 کروڑ سے اوپر مسلمان ہیں ان کے بارے میں وہ کیا کر رہا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے پاکستان دنیا کے سامنے اپنا کیس پیش کر رہا ہے دنیا کے سامنے اور دنیا دیکھ رہی ہے ہم کیا کیا کر رہے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں اور مستقبل میں بھی۔ ماضی میں بھی ہم نے کیا کیا۔ پاکستان کے خلاف اسلامو فوبیا کی فضا صاف ہو رہی ہے جو اسلامو فوبیا کی اصطلاح کے تحت جو کہا جاتا تھا جس طرح سے پاکستان کو پینٹ کیا جاتا تھا وہ غلط تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مذہبی سکالر پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف ہو اگر اب اگر جہالت کے نام پر کوئی مخالف ہے اس کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے تو اس کو آپ سکالر تو نہیں کہہ سکتے۔ علماءاس سلسلے میں عوام کو آگاہ کریں کہ اسلام میں قطرے پلانے کی ممانعت نہیں ہے۔ کسی بھی مسلمان ملک میں اس قسم کی پابندی نہیں ہے۔ یہاں پاکستان میں علمی مباحثہ کے بعد اس فضا کو ختم کرنا ہو گا۔ سیکرٹری جنرل نے سکھوں کو سہولتوں کے حوالے سے تعریف کی۔ ایک وقت تھا کہ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے ہوتے تھے ان خواتین اور مردوں کو مختص کیا جاتا تھا اب وہ پوزیشن نہیں رہی، آہستہ آہستہ فضا تبدیل ہو رہی ہے۔ رعد میزائل کروز کا تجربہ بارے ضیاشاہد نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی میزائل ٹیکنالوجی میں انڈیا سے بہتر پوزیشن میں ہے اب ایک کے بعد دوسرا تجربہ ہو رہا ہے اس سے صاف لگتا ہے کہ میزائل ٹیکنالوجی میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved