تازہ تر ین

احساس پروگرام میں میرٹ پر قبضے دئیے تو نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑ ھیں گے،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ضیا شاہد نے کہا ہے کہ یہی تبدیلی تو یہ محسوس ہوتی ہے کہ آج کے اخبارات میں اادھے صفحے کے تقریباً تمام بڑے اخبارات میں احساسپروگرام کے اشتہارات شائع ہوئے ہیں اس میں اس کی بڑی تفصیلات شائع ہوئی ہیں اگر اس کے ساتھ یہی کمپین جو ہے وہ ٹیلی ویژن پر بھی آجاتی تو میرا خیال ہے اور زیادہ بہتر ہوتا بہر حال جو کام انہوں نے شروع کیا ہے اس کی تفصیلات سے کافی آگاہی ہوتی ہے اور بے تحاشا لوگوں کو ان سے کاروبار کے لئے مالی مدد براہ راست ملے گی اور سہولتیں ملیں گی۔ پچھلے ڈیرھ سال سے حکومت کی جو پالیسی ہے وہ اشتہارا کے بارے میں بہت مختلف رہی ہے یہ جو کام تقریبا رک ہی گیا حالانکہ بہت سی باتوں میں لوگوں تک بات پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے اور اخبارات ہی اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔ پہلے ہی کافی دیر ہو گئی ہے اب ایک منٹ ضائع کئے بغیر حکومت اپنی پالیسی تبدیل کر لے جیسا کہ آج لگتا ہے کہ اس نے کہا کہ جو کچھ کرنا ہے اس کھل کر کہا (بیان) کیا جائے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔ جو بھی آپ کے پروگرام ہیں وہ ایک نشری تقریر تک محدود نہ رہے۔ اشتہارات لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ حکومت کیا کرنا چاہتی ہے اس سے فرق پڑتا ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ اب مشکلات کا دور ختم ہو چکا ہے اب خوشخبریاں ہی ملیں گی ضیا شاہد نے کہا کہ میں یہ تو نہیں کہتا کہ مشکلات کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اگر اسی رفتار سے جاری رکھا جائے اور پروگرام بھی سامنے آتے جائیں تو اسے اچھی شروعات کہا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم جن کو ڈاکو کہہ رہے ہیں وہ زندگی کی کون سی ایسی سہولت ہے جو ان کو میسر ہے اس کے برعکس جو عوام ان کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں بقول عمران خان کے جن کی وجہ سے روٹی روزگار خطرے میں ان لوگوں کا حال ہے ان لوگوں کا کیا حال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک عوام غیر مطمئن ہیں اگر بڑے بڑے لوگ واقعی نہ صرف پکڑے جاتے بلکہ ان سے کچھ نکلوا بھی لیا جاتا تو صورت حال محتلف ہوتی۔ محمد زبیر کی یہ بات درست ہے کہ تبدیلی کی بات اس وقت تک نظر نہیں آ سکتتی جب تک لوگوں کو ملازمتیں نہ ملنے لگیں اور چھوٹےچھوٹے کااروبار شروع نہہونے لگیں، حکومت کی کوششیں شروع ہو جاتی ہے اور چھوٹے چھوٹے کاروباری لوگوں کو اگر سہولت مل جاتی ہے تو نچلی سطح پر کام کاج شروعہو جائے گا۔ اگر وزیراعظم نے جو آج کام شروع کیا ہے اگر اس کے اثرات ہفتہ دس دن میں نظر آنے شروع ہو جائیں گے۔ فواد چودھری نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا ہے کہ شہباز شریف کی ایوان سے مسلسل غیر حاضری کا نوٹس لیا جائے۔ ان کو اپوزیشن لیڈر شپ سے ہٹایا جائے ضیا شاہد نے کہا کہ 24 تاریخ کو نوازشریف کا آپریشن ہے تو پھر شہباز شریف کے لئے واپس آنا آسان ہو جائے گا۔ عمران خان کو چاہئے کہ وہ پارلیمنٹ میں جائیں وہاں دیکھیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا ہے فواد چودھری کا خط عجیب ہے آپ دیکھ بھی رہیں ہیں کہ ایک مجبوری ہے اگر اپوزیشن لیڈرہٹانے کی بات کریں گے تو پھر وزیراعظم کے استعفیٰ کے حوالہ سے بھی مطالبہ زور پکڑے گا۔ صیا شاہد نے کہا کہ اپوزیشن کی اپنی کمزوریاں ہیں وہ اپنے کاموں میں مصروف ہے ایک حصہ نوازشریف کی بیماری کی وجہ سے مصروف ہے ورنہ جتنی صورت حال آج کل اپوزیشن کے لئے آسان تھی اتنا کبھی نہیں رہی۔ سرکلر ریلوے اگر 6 ماہ میں نہ چلی تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس بھیجا جائے گا۔ امید رکھنی چاہئے کہ ہم آئی ایم ایف کے چنکل سے نکل سکیں کیونکہ آئی ایم ایف کے بارے میں طیب اردگان نے جو ترکی کی مثال کے حوالہ سے بات کہی تھی کہ جو ملک آئی ایم ایف کے پاس گیا تو پھر وہ اس کے چنگل میں پھنس گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ڈیپارٹمنٹل سٹورز پر پولی تھین بیگزپر پابندی عائد کر دی ہے جہاں پلاسٹک بیگز نظر آئیں جرمانے بھی ہوں گے۔ یہ بات بہت پہلے سے چل رہی ہے اور بڑی دفعہ آرڈر ہو چکے ہیں جب تک اس کا متبادل نہ آئے۔ اب کپڑے کے لفافے اب آہستہ آہستہ شروع ہو رہے ہیں۔ یہ آرڈر تو ہو جاتا ہے۔ یہ تو کلچر بدلنا ہو گا۔ پچھلے الیکشن میں بھی یہی ہوا تھا اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے ایک دوسرے کوماننے سے انکار کر دیا تھا پھر امریکہ دونوں کو ملا کر کہا کہ آپ کچھ اختیارات ایک کو دے دیں کچھ دوسرے کو دے دیئے اور دونوں کو ساتھ چلانے کی کوشش کی۔ لگتا نہیں ہے یہ معاہدہ آگے چل سکے۔ امریکہ جو معاہدہ چاہتا ہے اشرف غنی اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ اس کو مل کر تسلیم نہ کریں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved