تازہ تر ین

بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام پر پاکستان مسلم ممالک کو غفلت سے بیدار کرے ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہےمودی جب سے اقتدار میں آیا ہے یہ جنونی آدمی ہے۔ مودی 22 کروڑ مسلمانوں کو اٹھا کر سمندر میں نہیں پھینک سکتا۔ ہ سب کو مار سکتے ہیں مسلمانوں کی شناخت نہیں چھینی جا سکتی۔ اب جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے یہ بہت شرمناک ہے ویڈیو فلمیں بنی ہوئی ہیں کہ ننگا کر کے چیک کیا جاتا ہے کہ مسلمان ہے کہ نہیں ہے۔ اب اس سے زیادہ سول آبادی سے کیا زیادتی ہو سکتی ہے۔ آر ایس ایس متعصب گروپ ہے۔ جو بھارت ماتا کا نعرہ بلند کرتے ہیں یہ ہندواتا کہتے ہیں کہ بھارت میں جو بھی رہے وہ ہندو بن کر رہے۔ جو ہندو نہیں اس کے لئے بھارت میں جگہ نہیں ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر نے پاکستان کے حق میں چار لفظ کہہ دیئے تو بہت کارنامہ انجام دے دیا۔ بات یہ ہے کہ جنگی ہتھیار اس نے انڈیا کو دےے دیا۔ پیسہ انڈیا کو دے دیا معاہدے انڈیا سے کر لئے اور اگر انہوں نے ہماری تعریف کر بھی دی تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ انڈیا اپنے آپ کو دنیا کے سامنے ایکسپوز بھی کر رہا ہے اب ساری دنیا کے سامنے اس کی اصل اور ننگی حقیقتیں سامنے آ رہی ہیں کہ یہ فاشسٹ لوگ ہیں وہ ہمیں دہشت گرد کہتے تھے۔ یہ تو خود مودی دہشت گرد بن کر سامنے آ رہا ہے۔ انڈین میڈیا میں شور مچا ہے کہ ٹرمپ انڈیا میں آ کر پاکستان کی تعریفیں کر رہا ہے۔ میلانیا کا لباس دیکھ کر تنقید ہو رہی ہے کہ انہوں نے سفید لباس پہنا ہوا ہے اور گرین کلر کا ٹچ دیا ہے کہ وہ پاکستان کا جھنڈا بنا کر بھارت آ رہی ہیں۔ دراصل ان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو گئی وہ تعصب جنون سےے اور نفرت میں پاگل ہو چکے ہیں۔ الامی کانفرنس، سعودی عرب متحدہ عرب امارات کو چاہئے کہ انڈیا کے ساتتھ اقتصادی تعلقات برقرار رکھیں لیکن یہ کم از کم انڈیا میں مسلمانوں کی خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے جس طرح سے مدہب کی بنیاد پر ان کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ اگر اس پر بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اور قطر اور بحرین اس بات پر چپ رہتے ہیں وہ تصویریں بنوا لیتے ہیں مودی سے ان کو ایوارڈ بھی دے دیتے ہیں۔خون مسلم کی ارزانی ہو رہی ہے۔ مسلم ممالک کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ ہندوﺅں کو بھی ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ تو جیو اور جینے دو والی بات ہو سکتی ہے۔ پرامن بقائے باہمی کے تحت چلنا ہو گا۔ عالم اسلام بھی بالکل خاموش ہے پتہ چلتا ہے فلاں ملک کا انڈیا سے فلاں معاہدہ تھا فلاں تجارت کر رہے ہیں۔ اس لئے چپ ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ثالثی کے لئے تیار ہیں اس لولی پاپ کا کیا فائدہ؟ میرے خیال میں ہو سکتا ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ کو ایک طوفانی دورہ رکنا چاہئے ان کو اس بات پر کیا کرنا چاہئے کہ وہ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتتھ جو ظلم ہو رہا ہے اسے رکوانے کی کوشش کریں۔ 26 فروری کو بھارت کی طرف سے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی جس کو ایک سال ہو گیا۔ 27 فروری کو ہم نے اس کا نہ جواب دیا ضیا شاہد نے کہا کہ بھارت اب اور اسلحہ لے رہا ہے وہ اسلحہ اس نے کس کے خلاف استعمال کرنا ہے امریکہ نے یہ جو فیصلہ کیا ہے کہ بھارت کو علاقے کا تھانیدار بنا دیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کے قابل تشویش بات ہے۔ ہمیں سوچنا پڑے گا ہم جس امریکہ پر بہت زیادہ اعتماد کر رہے ہیں درست سمجھ رہے ہیں وہ صرف یہ لولی پاک دے کر میں ثالثی کے لئے تیار ہوں۔ اس کے علاوہ ہمیں امریکہ سے کیا ملا ہے۔ ایک دفعہ بھی کھل کر انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھی حالات ٹھیک کرو۔ وہ تو اپنے ملک میں لوگوں کو جینے کا حق دینے کو تیار نہں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ زبانی طور پر ہمیں خوش ہی کر دے اور اپنے معاملات بھارت کے ساتھ رکھے ہوئے ہے پاکستان اور عمران خان کو خاص طور پر وہ ان پر زیادہ تکیہ کر رہا ہے اور انہیں کو کوورٹ کرتا ہے عمران خان اپنے گڈ آفسز پورے کے پورے استعمال کریں کہ امریکہ بھارت کو مجبور کرے کہ اپنی مسلم اقلیت بلکہ وہ ساری اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک بند کرے اصولی بات ہے کہ 22 کروڑ لوگوں کو کسی بھی ملک سے نکالا نہیں جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت خود نہیں کر رہی وہ اپنے آر ایس ایس کے غنڈوں کے ذریعے یہ کروا رہی ہے۔ آر ایس ایس ولے جو ہیں مسلمانوں پر حملے کرتے اور پولیس ان غنڈوں کی حفاظت کرتی ہے۔ کیونکہ دلی کی پولیس فیڈرل پولیس ہے ۔ حالانکہ ایک صوبہ ہے اس میں صوبائی پولیس نہیں ہے بلکہ اسی شہر میں وفاقی پولیس ہے۔ ایران میں کرونا وائرس آنے سے پاکستان کے لئے مشکلات بڑھیں گی کیونکہ ہمارے ہاں لوگ لازماً ایران اور عراق میں زیارتوں پر جاتے ہیں۔ ان کو روکنا بھی مشکل ہے اس وقت لگ رہا ہے کہ کرونا وائرس نے بہت ساری چیزوں کو تبدیل کر دا ہے۔ جب تک ایران سے لوگوں کا آنا محفوظ نہیں ہو جاتا۔ ایران کے بارے میں یہ بات بتاﺅں پاکستان اور ایران کے درمیان سمگلنگ کوئٹہ میں عام ہے۔ یعنی آپ یہاں 34 ہزار کی گاڑی لینا مشکل لگتی ہے وہاں 7,6 ہزار کی نان کسٹم پیڈ گاری مل جاتی ہے۔ اور سب لوگ لے کر پھر رہے ہیں۔ ایرانی پٹرول وہاں ہر دکان پر دستیاب ہے۔ عمران خان جب آٹے کی سمگلنگ کی بات کرتے ہیں پہلے پاک ایران سمگلنگ تو بند کروائیں۔ روس، جرمن، برطانیہ کو مل کر وائرس کا حل تلاش کریں جو پوری دنیا کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔ بڑی خوفناک بات کہ ساری دنیا کے سائنسدان ڈاکٹر مل کر اس وقتاس بیماری کا حل تلاش کریں اس کی کوئی ویکسین فوراً ایجاد ہونی چاہئیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ میں نہیں مانتا کہ کوئی بندہ روز وہاں چارہ کاٹنے جاتا تھا اور شیروں کو بیہوشی کے ٹیکے لگا دیئے جاتےے تھے وہ ٹیکے چارر دن سے نہیں لگے اس لئے اس کو شیر کھا گئے یہ کوتاہی ہے اس ادارے کی اگر ایک جگہ کھلے شیر پھر رہے ہیں تو اس میں لوگوںکو کیوں جانے دیا گیا۔ غریب آدمی تھا اس کے گھر والے کہتے ہیں اس کو قتل کر کے کسی نے پھینک دیا ہے جو صورتحال پولیس پتہ کروائے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved