تازہ تر ین

کرونا سے نجات ملک بھرمیں شہریوں کی مساجد اور گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اذانیں

لاہور (چینل ۵ رپورٹ)مہلک وبائی مرض کورونا سے نجات حاصل کرنے کے لیے پاکستانی رات گئے آذانیں دینے کے لیے چھتوں پر چڑھ گئے۔ لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں اللہ اکبر، اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوگئیں۔ ملک بھر میں شہریوں نے اپنے گھروں مساجد کی چھتوں پر چڑھ کر آذانیں دیں۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ لاہور کراچی ، ٹھٹہ ، پشاور، ملتان، ڈی جی خان، اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں کورونا سے نجات کے لیے آذانیں دی گئیں اور دعا کی گئی کہ اللہ تعالی ہمیں اس وبا سے نجات دیں۔ واضح رہے کہ روزنامہ خبریں نے گزشتہ روز یہ خبر شائع کی تھی ، خبریں میں خبر کی اشاعت پر شہریوں نے ملک بھر میں گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دیں۔ آذانوں کا یہ سلسلہ تمام رات جاری رہا۔چینل فائیو کے مطابق مراکش میں بھی کورونا سے نجات کے لیے لوگوں نے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دیں۔ اس حوالے سے مذہبی اسکالر علامہ کوکب نورانی نے چینل فائیو سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ وبا اور پریشانی میں جہاں آذان کہی جائے اللہ تعالی وہاں امن عطا فرماتے ہین۔ بلاوں کو دور کرنےکے لیے آذان کہی جاتی ہے جس سے ہمارے ایمان کا اظہار ہوتا ہے اور شیطان بھاگتا ہے۔ مسلمان روحانی اور حفاظتی دونوں تدابیر اختیار کرتا ہے۔ صفائی کیساتھ ایمانی ہتھیار بروئے کار لائے جارہے ہیں تاکہ دنیا پر واضح ہو کہ دنیامیں اسلام ہی پرامن دین ہے۔ رسول کریم کی تعلیمات کی جانب ساری دنیا کو آنا پڑ رہا ہے۔ پہلے حجاب پر پابندی تھی اور آج پوری دنیا کو منہ ڈھانپنا پڑ رہا ہے۔ آذان دینا مستحب اور پسندیدہ کام ہے اسکو جتنا پھیلایا جائے اتنا مبارک ہے۔ میں لفظ قرنطین کو قرآن طین بنانا چاہتا ہے۔ لوگ گھروں میں رہ کر اللہ سے توبہ کریں اور گھروں میں تمام وقت نیکی میں گزاریں ۔ صبح اور شام دو وقت آذان کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے اس سے امن رہتا ہے۔ لوگ کوشش کریں کہ اللہ کی طرف آئیں ، دعائیں کریں اور صفائی اختیار کریں، سچے دل سے توبہ کریں کیونکہ یہ وبا ہم پر ہمارے اعمال کیوجہ سے آئی ہے۔ مذہبی اسکالر مولانا راغب نعیمی نے کہاکہ آذان کا سلسلہ مراکش سے شروع ہوا اور پاکستان تک پہنچ چکا ہے۔ وبا کے زمانے میں آذان کہی جانی وبا کے خلاف اکثیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ آذان اپنے وقت کے علاوہ مشکلات کے دور میں دی جاسکتی ہے۔ آذان کا مطلب اللہ تعالی کی کبریائی اور بڑائی کو بیان کرنا ہے جو اللہ کو پسند ہے۔ اللہ اس عمل سے یقینی طورپر اپنی مخلوق کی طرف نظر فرمائے گا۔ عالم دین ابتسام الہی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خبریں کی خبر کو سراہا اور آذان دینے کو کورونا کے خلاف خوش آئند قرار دیا۔ ضافی خبر ۔۔۔لاہور(خصوصی رپورٹر)گزشتہ رات شہر کے مختلف علاقوں جن میں شالیمار،گڑھی شاہو،گجر پورہ،خواجہ کوٹ سعید،دروغہ والا،شریف پورہ،رشید پورہ،کوٹلی پیر عبدالرحمن،ہربنس پورہ ،فتح گڑھ و دیگر میں کرونا کی نجات کےلیے گھر کی چھتوں پر اذانیں دی گیئں شہریوں نے اذان کے بعد دعامغفرت اور کرونا سے نجات کی دعایئں کرایئں شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم سب کو اللہ سے دعا کرنی چاہئے کہ اے اللہ ہمیں اس موذی مرض سے نجات عطا فرما عالم دنیا پر رحم فرماے۔کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں، دیہاتوں ،قصبوں اور گوٹھوں میںمنگل کی شب 10بجے کے قریب مختلف مساجد سے اذانیں دی گئیں اور دعاکی گئی کہ اللہ تعالی رحم کرے اور اس وابائی کوختم فرمائے۔دوسری جانب حروں کے روحانی پیشوا پیر صاحب پگارا نے ملک بھر میں موجود اپنے مریدوں اور عقیدت مندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کرونا وائرس سے بچاو کے لئے فوری طور پر اپنے اپنے علاقوں میں اذانیں دینے کا سلسلہ شروع کردیں اور باری تعالی سے اس کا رحم و کرم طلب کریں۔ منگل کی شب حر جماعت کے نام اپنے ایک خصوصی پیغام پیر صبغت اللہ شاہ راشدی پیر صاحب پگارا نے کہا کہ یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ رہا ہے اور رب کریم اپنے محبوب سرکار دو عالم ؓ کے طفیل ہم پر ضرور رحم فرمائے گا۔ انہوں نے حر جماعت اور تمام پاکستانیوں سے کہا ہے کہ وہ کرونا کی وبا کے پیش نظر تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اپنے گھروں میں رہ کر اللہ تعالی سے اس کی پناہ اور ملک و قوم کی سلامتی کی دعا کریں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved