تازہ تر ین

ایک ہی دن میں اٹلی 600 سپین میں500 ہلاک مدینہ منورہ میں پہلا شحض جاں بحق

میڈرڈ‘تہران‘ پیرس‘ بیجنگ‘ واشنگٹن‘ لندن (ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک‘ نیٹ نیوز) سپین میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وبائی کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری سے 514 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اس کی تصدیق سپین کی وزارت صحت، امور صارف اور سماجی خدمات نے منگل کے روز کی۔منگل کے روز سپین میں اموات کی مجموعی تعداد 2ہزار696 ہو گئی۔ پیر کو یہ تعداد 2ہزار 182 تھی۔ تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 39 ہزار 373 ہو گئی ہے۔ پیر کو یہ تعداد 33ہزار 89 تھی۔ ایران میں کرونا وائرس نے مزید 122 افراد کی جان لے لی، منگل کو ناول کرونا وائرس سے 122 نئی اموات کے اعلان کے بعد ایران میں اس وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 1،934 ہوگئی ہے۔ ایرانی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہاں پور نے کہا کہ ایران میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید 1,762نئے کیس رجسٹر ہوئے ہیں جس کے بعد کرونا سے متاثر ہونے والے شہریوں کی کل تعداد 24,811 ہو گئی ہے۔ایران میں نائب وزیر صحت قاسم جان بابائی نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 52 ہزار سے زیادہ ہے۔ 26 ہزار کرونا مریضوں کا مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔ بہت سے مریض صحت یاب ہوگئے ہیں جب کہ بعض کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی نائب وزیر صحت کے اعترافی بیان میں کرونا کے متاثرہ مریضوں کی تعداد سرکاری اعدادو شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ ایران میں سرکاری سطح پر کرونا کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 13 ہزار 49 بتائی جا رہی ہے جب کہ 1812 افراد کرونا کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔ جان بابائی نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کے متاثرہ بیشترمریضوں کی عمریں 40 سے 60 سال کے درمیان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد اب تک 56 ہزار افراد اس کا شکار ہوچکے ہیں۔فرانس میں کرونا وائرس سے مزید 186 افراد ہلاک ہوگئے۔ فرانس میں ایک دن میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے جس کے بعد مجموعی اموات 860 ہوگئیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی وزیر صحت اولیویہ فیران نے بتا کہ ملک میں کرونا کے باعث 19،856 متاثرہ مریضوں کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ ان میں سے 8675 افراد کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اسپتالوں میں لائے گئے 2082 افراد کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے صدرسیرل ریمپوسا نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سا ﺅتھ افریقہ کو 26 مارچ بروز جمعرات سے 21 دن کے لیے کرونا وائرس کی وجہ سے مکمل لاک ڈاﺅن کیا جا رہا ہے۔اس دوران پولیس اور فوج و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔صرف گروسری ، میڈیسن ، پٹرول و دیگر انتہائی اہم ضروریات زندگی کی دوکانوں و کاروبار کو اوپن رکھنے کی اجازت ہو گی۔چین، تھائی لینڈ، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے کرونا وائرس سے متاثر ممالک کے ساتھ زمینی سرحدیں رکھنے والے ملک میانمار نے پہلے کرونا وائرس کے کیس کی تصدیق کردی۔میڈیارپورٹس کے مطابق میانمار اور چین کے درمیان 2100کلو میٹر طویل زمینی سرحد ہے اور کرونا وائرس کا مرض میانمار کے پڑوسی ملک چین سے ہی شروع ہوا تھا مگر میانمار کا دعوی تھا کہ ان کے ہاں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔میانمار میں گزشتہ 4ماہ میں کرونا وائرس کا ایک کیس بھی رپورٹ نہ ہونے پر عالمی برادری کو تشویش لاحق تھی کہ حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے، کیوں کہ میانمار کے دیگر پڑوسی تھائی لینڈ، بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی کرونا وائرس کے کیسز فروری میں ہی آنا شروع ہوگئے تھے۔امریکی سینٹ کے ر±کن میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی سینیٹر رینڈ پال اس مرض میں مبتلا ہونے والے پہلے امریکی سینیٹر ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سینیٹر پال رینڈ کے آفیشل ٹوئٹر اکاونٹ پر کی گئی ٹوئٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ریاست کینٹیکی کے ریپبلکن سینیٹر میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں تاہم تواتر سے سفر کرنے اور تقریبات میں شرکت کے باعث احتیاطاً ان کا ٹیسٹ کیا گیا جس کے نتائج میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔جمہوریہ چیک میں وزیر صحت ایڈم ووجٹک نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک میں کرونا وائرس سے پہلی موت ریکارڈ کی گئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ووجٹک نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ جمہوریہ چیک میں کرونا وائرس سے متاثرہ پہلے مریض وفات کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کی عمر 95 سال ہے۔ اسے 18 مارچ کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے عوامی مقامات پر جمع نہ ہونے اور سماجی فاصلے رکھنے پر عملدرآمد کرنے کے لیے ملک میں لاک ڈاﺅن کا اعلان کرتے ہوئے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مخصوص وجوہات کی بناءپر گھروں سے نکل سکتے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے گزشتہ روز قوم سے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ پولیس کو سماجی فاصلہ نہ رکھنے اور عوامی مقامات پر جمع ہونے والے لوگوں کو روکنے کا مکمل اختیار حاصل ہو گا۔ برطانیہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ کیسز کی تعداد 6,650 جبکہ اموات 335 ہو گئی ہیں۔جنوبی کوریا میں کرونا کے نئے کیسز میں کافی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ 29 فروری کے بعد اب تک کرونا کے سب سے کم کیس سامنے آئے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کوریائی مراکز برائے انسداد امراض نے بتایا کہ جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کے 64 نئے کیسز درج ہوئے جس کے بعد مجموعی تعداد 8961 ہوگئی۔ اموات کی تعداد میں ایک سے 110 تک اضافہ ہوا۔چین نے اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کا ملک میں مقامی سطح پر کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا تاہم بیرون ملک سے آنے والے 39 افراد میں کرونا کے مریض پائے گئے۔ ان میں سے 10 شنگھائی اور 10 بیجنگ میں سامنے آئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سرکاری اعداد و شمارمیںبتایاگیاکہ کرونا وائرس سے 9 اموات بھی ریکارڈ کی گئیں ۔برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے پھیلاو¿ کی روک تھام کرنے والے عملے کی مدد کے لیے فوج کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔اسپتالوں اور طبی مراکز تک ادویات کی ترسیل یقینی بنانے کے لیے فوج کی مدد لی جا رہی ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved