تازہ تر ین

متحدہ عرب امارا ت میں کورونا وائرس بے قابو ہو گیا

دبئی(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں کورونا پر قابو پانے کی خاطر بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں کاروباری مراکز اور عوامی مقامات کی بندش ہے۔ لوگوں کی نقل و حمل محدود کرنے کے باوجود امارات میں کورونا وائرس اپنی جڑیں مضبوط بناتا جا رہا ہے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مملک میں وائرس کے 50 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔جس کے امارات میں کرونا وائرس کے مریضوں تعداد بڑھ کر 248 ہوگئی ہے۔متاثرین میں سب سے زیادہ بھارتی باشندے ہیں جن کی گنتی چھ ہے۔ امریکا، بنگلہ دیش اور فلسطین کے تین، تین شہری کورونا کا تازہ شکار بنے ہیں۔ اٹلی ، مصر ، یو اے ای،اسپین ، نیدر لینڈز، اردن اور فلپائن کے دو، دو شہری کورونا کے مریض بنے ہیں۔جبکہ پاکستان، سری لنکا، برطانیہ ، سعودی عرب ، یمن ، تونس ، جنوبی افریقا ، بیلجیئم ،جنوبی کوریا ، بلغاریہ ،فرانس ، جمہوریہ چیک ، آسٹریلیا، لبنان ، کینیا، مالدیپ، سوڈان ، ایران ، آئیرلینڈ، مراکش، اور سویڈن کا ایک، ایک شہری کورونا سے متاثر ہوا ہے۔تین، تین کا تعلق امریکا ، بنگلہ دیش اور فلسطین اور چھے کا تعلق بھارت سے ہے۔وزارت صحت کے جاری کردہ بیان کے مطابق تمام نئے کیس پہلے سے متاثرہ افراد سے میل ملاپ اور رابطوں کی وجہ سے اس مہلک وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔کورونا کے ان تازہ ترین مریضوں کی حالت مستحکم ہے، جنہیں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور انہیں ضروری طبی امداد مہیا کی جارہی ہے۔وزارت کے مطابق ایک اچھی خبر یہ ہے کہ مملکت میں کرونا وائرس سے متاثرہ مزید چار کیس صحت یاب ہوگئے ہیں۔ان میں تین پاکستانی اور ایک بنگلہ دیشی ہے۔اب تک یو اے ای میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والے 45 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ امارات نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پرانے قانون میں ترمیم کر کے اس میں کورونا کو بھی شامل کر لیا ہے۔اس قانون کے تحت اگر کورونا وائرس میں مبتلا شخص اپنی بیماری چھ±پائے تو اسے قید کی سزا دی جائے گی اور جرمانہ بھی عائد ہو گا۔ وزارت انصاف کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ متعدی امراض سے متعلق وفاقی قانون کے 2014ء کے قانون نمبر 14میں کرونا کی بیماری کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جس کا مقصد عوام کی صحت کا تحفظ اور کورونا سے نمٹنے کی خاطر حکومت کی کوششوں کو مستحکم بنانا ہے۔ وزرات انصاف کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ قانون کے تحت کورونا کی بیماری چھپانے والے یا اس کے دانستہ پھیلاوکا سبب بننے والے افراد کو قید یا 10 ہزار درہم جرمانے کا سامنا کرنا ہو گا، بعض صورتوں میں یہ دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکتی ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved