تازہ تر ین

ا مر یکہ کر و نا کا نیا مر کز ،61 ہز ا ر مر یض 838 ہلا ک، ا یک کر وڑ متا ثر ہو نے کا خد شہ

واشنگٹن، جنیوا (نیٹ نیوز+ نیوز ایجنسیاں) عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اب امریکہ کرونا وائرس کا نیا مرکز بن گیا ہے۔ جہاں مریضوں کی تعداد انتہائی تیزی سے سامنے آ رہی ہے۔ مریضوں کی تعداد 55 ہزار سے زائد ہو گئی اور اب تک 785 افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ ایک کروڑ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ نیویارک کے گورنر نے وبا کو تیز رفتار ’بلٹ ٹرین‘ سے تشبیہ دی۔ سماجی دوری اور قرنطینہ کے اقدامات تقریباً پورے امریکہ میں ہی ’ایک تہائی آبادی کے لئے گھروں پر رہنے کے احکامات کے ساتھ اٹھائے جا رہے ہیں جس سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت رک گئی ہے۔ سروے نتائج کے مطابق 74 فیصد امریکیوں نے بڑے اجتماعات سے گریز کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ دیگر 48 فیصد نے سفر کے منصوبے کو ترک کر دیا ہے جس کی وجہ سے ایئرپورٹس اب صحرا کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ اس شٹ ڈاﺅن سے متاثر ہونے والی ایک اور نمایاں چیز صدارتی انتخابات کی مہم ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کو ملک بھر میں بڑی ریلیاں منسوخ کرنی پڑیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے مطابق کرونا وائرس کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور کہا کہ ’ہم اس سے زیادہ گاڑیوں کے حادثوں میں جانیں کھو دیتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آٹو موبائل کمپنیوں کو کہیں کہ آپ گاڑیاں بنانا چھوڑ دیں۔ بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ایسٹر کے ہدف سے پیچھے ہٹتے ہوئے ماہر وبائی امراض کے ساتھ پریس کانفرنس کی اور کہا کہ ہم یہ اس وقت کریں گے جب بہتری آ جائے گی دوبارہ کھولا جانا ریاست کے کچھ حصوں تک محدود رہے گا۔ اپنے بیانات پر یو ٹرن لینے کے لئے مشہور صدر امریکی صدر ایسٹر سے قبل کرونا وائرس کے خاتمے کے بیان سے پیچھے ہٹ گئے اور ماہر وبائی امراض کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ گرجا گھروں میں اجتماعات کا فیصلہ حالات میں بہتری آنے کے بعد کیا جائے گا تاہم ایسا صرف مخصوص علاقوں میں ہو گا۔ علاوہ ازیں کرونا وائرس کی وجہ پیدا ہونے والی معاشی صورتحال و عوامی مشکلات کے پیش نظر امریکی سینٹ اور وائٹ ہاﺅس کے مابین 20 کھرب ڈالر کے امدادی پیکیج کی منظوری کا معاہدہ ہو گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سینیٹ کے اکثریت کے رہنما مِچ مک کونل نے کہا کہ 5 دن تک سخت اور کشیدہ مذاکرات کے بعد آخر کار ہمارا معاہدہ ہو گیا۔ ڈیموکریٹ سنیٹر چک شمر نے مک کانل کی بات پر کہا کہ دراصل یہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے ریسکیو پیکیج پر دو طرفہ معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کا مقصد صحت کی سہولیات، کاروبار اور عام امریکیوں کو تقریباً 20 کھرب ڈالر کی سہولیات فراہم کرنا ہے جو کرونا وائرس وبائی امراض میں مبتلا ہیں۔ اس اقدام کے تحت نقد رقم امریکیوں کو منتقل کی جائے گی جو اس بحران سے دوچار ہیں‘ چھوٹے کاروباری افراد کو گرانٹ اور ایئر لائنز سمیت بڑی کارپوریشنوں کیلئے سینکڑوں‘ اربوں ڈالر کے قرضے فراہم کریں گے۔ واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وباءکا اگلا عالمی مرکز امریکہ بن سکتا ہے۔ جنیوا میں ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ کے وباءکا نیا عالمی مرکز بننے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ میں کیسز بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس لیے اس وباءکا عالمی مرکز بننے کا امکان ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved