تازہ تر ین

کرونا کیخلاف کام کرنیوالے ڈاکٹرز، میڈیکل سٹاف نرسیں عدم تحفظ کا شکار

لاہور (مہران اجمل خان سے )ہسپتالوں میں کرونا وائرس کے خلاف کام کرنے والے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈکس کے تحفظات دور نہ ہو سکے،ترقی یافتہ ممالک میں سیفٹی قوانین پر عملدرآمد اور PPEہونے کے باوجود ہزارون ڈاکٹر ، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں ،پنجاب سمیت ملک بھر میں بائیو سیفٹی قوانین پر عملدرآمد وقت کا اہم تقاضا ہوگا ، دنیا بھر میں کرونا وائرس سے 1سو میں سے 14ہیلتھ ورکر متاثر ہوئے جبکہ جن ممالک میں انفیکشن ریٹ کم ہے ان میں 6فیصد ہیلتھ ورکر متاثر ہوئے ،سپین کے 40 ہزار تصدیق شدہ کورونا وائرس کیسوں میں سے تقریباً 5ہزار 4سو جو کہ مجموعی طور پر14 فیصد طبی پیشہ ور ہیں متاثر ہوئے ، اٹلی ، فرانس اورسپین میں صحت سے متعلق 30 سے زائد پیشہ ور افراد کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوئے اور ہزاروں دیگر افراد کو خود سے الگ تھلگ ہونا پڑا ہے۔ اٹلی میں کرونا وائرس کا مرکز صوبہ بریسیا ہے جس میں 10 سے 15 فیصد ڈاکٹر اور نرسسز متاثر ہوئیں اور انہیں فوری طور پر کمیشن سے باہر کردیا گیا۔فرانس اور پیرس کے مختلف سرکاری ہسپتالوں کے 1لاکھ ملازمین میں سے 490 ہیلتھ ورکرز متاثر ہوئے جو کہ ایک چھوٹا لیکن بڑھتا ہوا تناسب ہے۔چائنہ میں 34 سو چینی ہیلتھ کیئر ورکرزکورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیںجن میں سے 13ہلاک ہو گئے ہیں ۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں اب تک تقریبا 2 درجن طبی عملے کی موت واقع ہوچکی ہےں۔ ہسپتال کا عملہ کورونا وائرس کی جنگ میں ریڈ زون پر ہے۔ چین امریکہ اسپین اٹلی ایران فرانس جیسے ترقی یافتہ ممالک سمیت پوری دنیا میں ہزاروں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کو اس مہلک وائرس سے انفیکشن ہوا۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے بچاﺅ کا واحد طریقہ بائیو سیفٹی قوانین پر عمل کرنا ہے۔گلگت بلتستان کے ڈاکٹر اسامہ ریاض کی موت واقع ہو چکی ہے ۔اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال کے ڈاکٹر میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ۔ڈیرہ غازی خان کے ٹیچنگ ہسپتال کے دو ڈیوٹی ڈاکٹرز ک±رونا وائرس میں م±بتلا ہوئے۔پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ایک ڈاکٹر جبکہ سروسز ہسپتال اور جناح ہسپتال لاہور کی ایک، ایک نرس میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی ۔دوسری جانب محکمہ صحت کی جانب سے کرونا ایسپرٹ ایڈوائزری گروپ کی سفارشات پر ورکنگ گائیڈ لائن جاری کر دی گئیں ہیں ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق کرونا آئسولیشن وارڈز میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسز چوبیس گھنٹوں میں سے چھ گھنٹے ڈیوٹی کریں گے۔کوئی بھی ڈاکٹر یا نرس ایک ہفتے سے زیادہ کرونا آئسولیشن وارڈ میں ڈیوٹی سر انجام نہیں دیں گے۔ایک ہفتہ ڈیوٹی کے بعد ڈاکٹرز اور نرسز دو ہفتے چھٹی پر رہیں گے۔ڈاکٹر اور نرسز دو ہفتے ہسپتال یا گھر کہیں بھی رہ سکتے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved