تازہ تر ین

سندھ،خبیرپختو نخوا حکومتیں پیسہ مانگنے میں مصروف کام نہیں کر رہیں چاروں وزرائے اعلیٰ گھروں سے آڈر دے رہے ہیں، گراوئڈ پر کچھ نہیں ہورہا چیف جسٹس

اسلام آباد (خبرنگارخصوصی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرونا وائرس کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتان، چمن اور طورخم بارڈر پر دو ہفتوں میں قرنطینہ مراکز قائم کرنے کا حکم دےدیا جبکہ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ یہ کیسی ہیلتھ ایمرجنسی ہے کہ ملک بھر کے ہسپتال بند کر دئیے، شوگر اور امراضِ قلب کے مریض کہاں جائیں؟کرونا کے علاوہ تمام مریض اللہ کے آسرے پر چھوڑ دیے؟ کوئی حکومت ڈیلیور نہیں کررہی، سب کو پیسے کی پڑی ہے۔ پیر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظہر عالم خان مندوخیل، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل بینچ نے ہائی کورٹس کی جانب سے قیدیوں کی ضمانت کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاملہ صرف قیدیوں کی رہائی کا نہیں بلکہ دیکھنا ہے کہ حکومت کرونا سے کس طرح نمٹ رہی ہے، صرف میٹنگ پر میٹنگ ہورہی ہے، زمین پر کچھ بھی کام نہیں ہورہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں جہاں میں جا سکوں، وفاقی دارالحکومت میں تمام ہسپتالوں کی او پی ڈیز بند کردی گئیں ، ملک میں صرف کرونا کے مریضوں کا علاج ہورہا ہے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ مجھے اپنی اہلیہ کو چیک کروانے کے لیے ایک بہت بڑا ہسپتال کھلوانا پڑا، نجی کلینکس اور ہسپتال بھی بند پڑے ہیں یہ ملک میں کس طرح کی میڈیکل ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک ہسپتال اور کلینک لازمی کھلا رہنا چاہے، وزارت صحت نے خط لکھا کہ سپریم کورٹ کی ڈسپنسری بند کی جائے، کیوں بھائی یہ ڈسپنسری کیوں بند کی جائے، کیا اس طرح سے اس وبا سے نمٹا جائے گا؟چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو رپورٹ جمع کروائی ہے یہ اس بات کو واضح کررہی ہے کہ وفاق کے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں، وفاق کچھ کر ہی نہیں رہا جس پر اٹارنی جنرل خالد محمود خان نے بتایا کہ ایک رپورٹ آج بھی جمع کروائی ہے، وفاق بھرپور طریقے سے اقدامات کررہا ہے۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا سے استفسار کیا کہ شیریں مزاری نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے 32 سو قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا ہے؟جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ میرے خیال میں وزارت انسانی حقوق کو غلط فہمی ہوئی ہے، پشاور ہائی کورٹ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔اٹارنی جنرل نے پیشکش کی وہ حکومتی اقدامات پر عدالت کو بریفنگ دینے کے لیے تیار ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کا ایکشن پلان دیکھا ہے بریفنگ میں کیا کریں گے۔چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب کی کیا اہلیت اور قابلیت ہے، بس روزانہ کی بنیاد پر ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب کی پروجیکشن ہو رہی ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ کیا وزارت دفاع سے کوئی عدالت میں آیا ہے، وزارت دفاع سے معلوم کرنا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے وزارت دفاع سے کسی کو طلب نہیں کیا تھا البتہ وزارت دفاع کی جانب سے رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا عملی طور پر اقدامات نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی نے کرنا ہیں تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ این ڈی ایم اے کے ذمہ چیزوں کا حصول اور ان کی تقسیم ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگوں کو پیسے لینے کا عادی بنا رہے ہیں، جیسے اسٹیل مل میں 15سال سے لوگ بغیر کام کیے تنخواہیں، مراعات اور ترقیاں لے رہے، پی آئی اے بھی ایسے ہی چل رہا ہے، شپ یارڈ بھی ایک کشتی تک نہیں بنا رہا ہے تاہم تنخواہیں سب لے رہے ہیں، اب تو ایک چھوٹی سی کشی بھی درکار ہو تو چین سے مدد لیتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، تمام ہسپتالوں کو فعال ہونا چاہیے۔چیف جسٹس نے کرونا وائرس کا پھیلاو¿ روکنے کے لیے وفاقی، صوبائی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ گرراو¿نڈ پر کیا ہورہا ہے، کسی کو علم نہیں، کوئی بندہ کام نہیں کررہا، سب فنڈز کی بات کررہے ہیں، شوگر اور امراض قلب کے مریض کہاں جائیں؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ صوبائی حکومتیں پیسے بانٹ دو اور راشن بانٹ دو کی باتیں کررہی ہیں اور ٹی وی صبح سے شام تک لوگوں کو ڈرا رہا ہے اور لوگوں کو ہاتھ دھونے اور گھروں سے نہ نکلنے کا کہا جارہا ہے، تمام وزرائے اعلیٰ گھروں سے آرڈر دے رہے ہیں، گراو¿نڈ پر کچھ بھی نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کہہ رہے ہیں 10 ارب روپے دے دو، دستانے اور ماسک لینے ہیں، سب کاروبار بند کردیے گئے، ہمارا ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا، چیمبر میں آپ کیا بتائیں گے، ہمیں سب پتا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ کسی حکومت کے پاس طبی آلات کا اسٹاک دو ہزار سے زیادہ نہیں، خیبرپختونخوا اور سندھ حکومتیں صرف پیسہ مانگ رہی ہیں کام نہیں کر رہیں اور وفاقی حکومت کے پاس ویسے ہی کچھ نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہسپتالوں کی ضرورت پڑی تو بند کر دئیے گئے، عوام کہاں جائے؟ امراض قلب، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کے مریض اب کہاں سے علاج کروائیں؟ اب تک ایک ہزار بستر کے 10 ہسپتال بن کر فعال ہوجائے چاہیے تھے۔جس پر اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو تمام ہسپتال فعال کرنے کی یقین دہانی کروائی۔چیف جسٹس نے کہا کہ قرنطینہ مراکز میں ایک کمرے میں 10،10 لوگ رہ رہے ہیں، دو کمروں کے گھروں میں دس دس لوگ رہتے ہیں، لوگ 3،4 دن شکلیں دیکھیں گے پھر ایک دوسرے کو ہی کھانے لگیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کسی حکومت نے سڑکوں پر اسپرے نہیں کرایا، مختص کیے گئے اربوں روپے کہاں خرچ ہو رہے کچھ معلوم نہیں ساتھ ہی حکم دیا کہ کل تک عملی اقدامات پر مبنی جامع رپورٹ جمع کرائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس بات کا احساس ہے کہ کرونا سے سپر پاورز کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے صوبوں کے وزرائے اعلی گھر بیٹھ کر احکامات جاری کر رہے ہیں، عوام کے ٹیسٹ کرنے کے لیے صوبوں کے پاس کٹس ہی نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ خیبرپختونخوا میں جاری ہونے والے 50 کروڑ روپے آپس میں بانٹ دئیے گئے، سب کا زور صرف مفت راشن تقسیم کرنے پر ہے، عوام کے کاروبار تو ویسے ہی بند کر دیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ لالو کھیت میں جس سڑک پر پولیس پر حملہ ہوا اس کا حال دیکھیں، سڑکوں پر دھول مٹی اور کچرا کسی بیماری سے کم نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے اراکین اسمبلی میں پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے ڈر رہے ہیں اور یورپ اور امریکا نے اس دوران وبا سے نمٹنے کے لیے قانون بنا کر اس پر عملدرآمد بھی شروع کردیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے، حکومت سمجھتی ہے کہ بنیادی حقوق اہم نہیں یہ سوچ غلط ہے۔دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد محمود خان نے بتایا کہ پنجاب کی ایک جیل میں کرونا وائرس کا مریض سامنے آیا ہے۔جسٹس قاضی امین احمد نے ریمارکس دیے کہ ہمیں عوام کی زندگی اور تحفظ کا احساس ہے، قانون میں راستہ موجود ہے، جیل میں اگر متاثرہ شخص نہیں تو باقی قیدی محفوظ ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ جیلوں میں کتنے ملازمین ہیں جو روزانہ باہر سے آتے ہیں، اگر جیل میں متاثرہ شخص نہیں آئے تو باقی قیدی کیسے متاثر ہوں گے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہمیں ان حالات میں تحفظ کے لیے ایس او پیز بنانے ہوں گے، پولیس اور آرمی کی بیرک میں سیکڑوں لوگ رہتے ہیں، وہاں پر ایس اوپیز پر عمل کیا جاتا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیل کے حالات کا گھر سے موازنہ نہیں کرسکتے، توازن کے ساتھ قیدیوں کی رہائی ہونی چاہیے، قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے اپنی تجاویز دے چکا ہوں۔جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ سنگین جرائم کے قیدیوں کو رہا کرنا کس طرح درست ہے؟اٹارنی جنرل نے مو¿قف اختیار کیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہائی کورٹ کے پاس از خود نوٹس کا اختیار نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تمام حکومتی اقدامات صرف کاغذوں میں ہیں عملی طور پر کچھ نہیں ہو رہا، تمام صنعتیں اور کاروبار بند پڑے ہیں، عدالت عظمیٰ حکم دے گی تو سب تعمیل کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم سے معلوم نہیں کون کون سے قیدی باہر آگئے ہیں، سندھ حکومت نے قیدیوں کو چھوڑا تو بعد میں واپس کیسے لائیں گے؟ وزارت انسانی حقوق حکومت کے مو¿قف سے ہٹ کر مو¿قف نہیں اپنا سکتی۔ جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ کرونا وبا ہو یا نہ ہو، جس کی ضمانت بنتی ہے اسے ملنی چاہیے۔جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کہ براہِ راست سپریم کورٹ سے کیوں کہا جا رہا ہے کہ قیدی چھوڑ دیں، کیا ماتحت عدالتیں ضمانتیں نہیں دے رہیں؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب اور منشیات کے قیدیوں کو بھی چھوڑ دیا، جس پر عدالت میں موجود نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ نیب کے کسی ملزم کی ضمانت پر رہائی نہیں ہوسکی، حسین لوائی کو الگ حکم کے تحت ضمانت ملی۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آرٹیکل 187 کا استعمال کیا جبکہ آرٹیکل 187 کا اختیار صرف سپریم کورٹ استعمال کرسکتی ہے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کا حکم درست نہیں تو اسے چیلنج کیوں نہیں کیا؟ جسٹس قاضی امین نے دریافت کیا کہ کیا اسلام آباد انتظامیہ قانون پر سمجھوتا کرنا چاہتی ہے؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار کا سوال اٹھایا گیا تھا؟ ہائی کورٹ میں مقدمے کا عنوان ریاست بنام ضلعی انتظامیہ تھا، ریاست کی جانب سے درخواست کس نے دی تھی؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ عدالت نے پٹیشن میں تبدیل کی تھی۔سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ رجسٹرار نے فون پر اسلام آباد کے قیدیوں کی تفصیل مانگی تھی اسلام آباد ہائی کورٹ کا کوئی تحریری خط یاحکم نہیں ملا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھیں گے آپ نے اس کیس میں کیسی معاونت کی، ہم اپنے آرڈر میں آپ کا ذکر بھی کریں گے۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ تفتان، چمن اور طورخم بارڈر پر قرنطینہ کیےگئے لوگوں کے لیے تمام حفاظتی اقدامات کریں، ان تینوں جگہوں پر عوام کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کریں۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ بارڈرز پر ہمارے پاس پارکنگ کی جگہ تک نہیں، بارڈرز پر بے ہنگم ٹرک کھڑے ہوتے ہیں، اٹارنی جنرل صاحب کبھی آپ نے چمن بارڈر دیکھا ہے؟ میں نے دیکھا ہے کہ وہاں کیا کیا ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب ان تینوں بارڈرز پر لوگوں کی سہولیات پر کوئی سمجھوتا نہیں کرسکتے۔ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پہلا کرونا پازیٹو قیدی جو سامنے آیا تھا اس کا 494 لوگوں سے رابطہ ہوا تھا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب کی رپورٹ میں نے پڑھی ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ ٹیلی فون پر انڈر ٹرائل قیدیوں کو ضمانت کی ہدایات کیسے دی جاسکتی ہیں؟ جن کی ضمانت خارج ہوچکی تھی فون پر ان کو بھی ضمانت مل گئی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ صاحب آپ کا حال بھی ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد والا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکوں میں فیصلے لکھے ہوئے آئین کے مطابق کیے جاتے ہیں، عدالتوں کا کام بھی قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے، عدالتیں قانون اور حقائق سے ہٹ کر فیصلے نہیں کرسکتیں، انڈر ٹرائل قیدیوں کی ضمانتوں میں قانون اورحقائق کو نظرانداز کیا گیا، فون پر زبانی ضمانتیں ہوں گی تو جسے دل چاہے گا اسے چھوڑ دیں گے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ تفتان، چمن اور طورخم پر2 ہفتوں میں قرنطینہ بنائیں، ہر آدمی کے لیے ایک کمرہ، علیحدہ باتھ روم اور بہترین خوراک مہیا کی جائے۔ چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ ہوا اور کہا کہ اپنی حکومت کو بتادیں کرونا پوری قوم کا مسئلہ ہے کسی ایک پارٹی کا نہیں، حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے معاملات حل کرے، حکومت کو عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے ادویات تک باہر سے منگواتے ہیں، سب کچھ خود پیدا کرنا ہوگا، کھانے اور اناج کا بھی خود بندوبست کریں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ صوبوں کے پاس ٹیسٹ کے لیے کٹس ہی موجود نہیں، صوبے کہہ رہے ہیں 10 ارب دے دو،گلوز اور ماسک لینے ہیں، سب کاروبار بندکردیے گئے، ہمارا ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اس دوران اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس سے چیمبر میں بریفنگ کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چیمبر میں آپ کیا بتائیں گے، ہمیں سب پتہ ہے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت لوگوں کو پیسے لینے کا عادی بنا رہی ہے، جیسے اسٹیل مل میں 15سال سے لوگ بغیر کام تنخواہیں، مراعات، ترقیاں لے رہے ہیں، پی آئی اے بھی ایسے ہی چل رہا ہے، شپ یارڈ بھی ایک کشتی تک نہیں بنا رہا تاہم تنخواہیں سب لے رہے ہیں، اب تو ایک چھوٹی سی کشتی بھی درکار ہو تو چین سے مدد لیتے ہیں۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ قرنطینہ میں ایک کمرے میں دس دس لوگ رہ رہے ہیں، دو کمروں کے گھروں میں دس دس لوگ رہتے ہیں، لوگ تین 4 دن شکلیں دیکھیں گے پھر ایک دوسرے کو ہی کھانے لگیں گے، کسی حکومت نے سڑکوں پر اسپرے نہیں کرایا، مختص کیے گئے اربوں روپے کہاں خرچ ہو رہے ہیں کچھ معلوم نہیں، وزرائے اعلی گھر بیٹھ کر احکامات جاری کر رہے ہیں، منگل تک عملی اقدامات پر مبنی جامع رپورٹ جمع کرائیں۔بعدازاں سپریم کورٹ نے انڈر ٹرائل قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت (آج) منگل تک ملتوی کردی اور کہا کہ پیر کی سماعت کا حکم نامہ (آج) منگل کو لکھوائیں گے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved