تازہ تر ین

ستاروں کا غصبناک نقشہ ٹوٹنے والہ ، اب رحمتیں نظر آنا شروع ہونگی ماہر علم نجوم سامعہ خان

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)چینل ۵ کی خصوصی کورونا ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے مذہبی اسکالر خانم سکینہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے جنگ لڑتی میڈیا، میڈیکل اور سکیورٹی نافذ کرنیوالی ٹیموں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ تمام پاکستانی عوام اپنے ان محسنوں کا احسان کبھی نہیں بھولیں گے جو لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ کورونا کے حوالے سے حکومتی فیصلے اور اقدامات عوام کے حق میں بہترین ہیں۔ حکومتوں کے احکامات نہ ماننے پر دنیا کے کئی ممالک میں ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے جو ہمارے لیے عبرت ہے۔ بطور علماءدین اور علماءاسلام ہم پر ڈاکٹرز کی بات سننا اور ماننا فرض ہے کہ ہم گھر سے باہر نہ نکلیں ،میل جول میں کمی کیساتھ احتیاط برتیںتاکہ اس بیماری کی تشہیر نہ ہو۔ کورونا ایسی وباءہے جو نظر نہیں آتی اور آسانی سے پھیلتی ہے۔ فنڈز کے اعلانات ہوئے مگر راشن نہیں بانٹا گیا، مزدور اور سفید پوش طبقہ خود اس وباءمیںخود امتحان سے گزر رہاہے، راشن دینے والے صرف اپنی تصویریں بنا رہی ہے جو صدقہ جاریہ میں منافقت ہے۔ حکومت درست طریقے سے حقداروں کے گھروں میں راشن پہنچا دے تو نیکی کا ڈرامہ کرنیوالوں کا سدباب ہوسکے۔
ہدایتکارہ سنگیتا بیگم نے کہا ہے کہ کورونا عالمی مسئلہ ہے۔ عوام اس بیماری کے خلاف جنگ لڑیں گھروں میں رہیں، ہم بہت جلد کورونا سے نجات پالیں گے۔ ایسے نازک حالات میں ذخیرہ اندوز سبق سیکھیں ، اٹلی میں لوگوں کو جان کے لالے پڑے تو انہوں نے پیسے زمینوں پر پھینک دئیے۔ جنکے خاندان مر گئے انہوں نے خودکشیاں کر لیں کہ پیسہ انکے خاندان نہیں بچا سکا۔ مخیر حضرات غریبوں کی بھرپور مدد کریں ، انکے پاس گناہ بخشوانے کا یہی موقع ہے۔ انکے خاندان میں کسی کو کورونا ہوگا تب انہیں سمجھ آئے گی، انہیں چاہئے کہ سبق دیکھیں۔ معاشرے میں سوشل میڈیا کے ذریعے افواہیں پھیلانے والے ہوش کے ناخن لیں۔
ٹیسٹ کرکٹر وہاب ریاض نے کہا ہے کہ کورونا سے بچاﺅ کے لیے عوام خود کو آئیسولیٹ کریں اور ڈاکٹرز ، پولیس، فوج اور دیگر اداروں کے شانہ بشانہ کام کریں۔عوام صفائی کا خاص خیال رکھیں، لاک ڈاﺅن ہمارے تحفظ کے لیے ہے ، ہمیں سمجھنا پڑے گا۔ ہمیں ایک ملک ، ایک قوم، ایک طاقت بننا ہے ، اسکے لیے ہمیں گھروں میں رہ کر اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کرنا ہے۔ حفاظتی تدابیر اپنا کر ہی ہم حکومت کی مدد کر سکتے ہیں۔اس مشکل وقت میں ہمیں دوسروں کے کام آنا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے یاد رکھیں کہ اللہ حقوق العباد کی معافی نہیں دے گا۔ یہ لوگ ذخیرہ اندوزی کی بجائے لوگوں کی مدد کریں ورنہ بیماری کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے۔
معروف فیشن ڈیزائنر نیلوفر شاہد نے کہا ہے کہ پاکستانی قو م اور ساری دنیا کورونا کے خوف کا شکار ہے مگر جب مصیبت آتی ہے تو اسمیں بہت کچھ اچھا سیکھنے کو ملتا ہے۔ حکومت کی جانب سے لاک ڈاﺅن کا فیصلہ عوام کی حفاظت کے لیے ہے، اس پر مکمل عمل ہونا چاہئے۔ ہمیں بطورقو م غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے باز رھتے ہوئے ایک پیج پر آنا ہے۔ ہم اپنے دین، انسانیت ، رشتوں اور احساس کے قریب آنے لگے ہیں، لوگ دعائیں ، نمازیں ادا کر رہے ہیں۔ تمام لوگ ایکدوسرے کی مدد کریں اور ضرورت مندوں سفید پوش افراد کا احساس کریں۔ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے لیے صرف افسوس کیا جاسکتا ہے ، اللہ انہیں ہدایت دے۔ہمیں سجدہ ریز ہو کر اللہ سے معافی مانگنی چاہئے۔
اداکارہ حنا دلپزیر نے کہا ہے کہ دعا ہے اللہ اس مشکل کی گھڑی میں ہم سب کو اپنی امان میں رکھے اور ہم اس وباءسے نجات پائیں۔ تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ حکومتی احتیاطی تدابیر ویسے ہی اپنائی جائیں جیسے ہدایت کی جارہی ہے، گھروں میں رہیں ، تحمل رکھیں، تھوڑا سا وقت ہے نکل جائے گا۔ عوام جانتی ہے کہ کورونا نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھاہے، لوگوں کے دلوں مین خوف اور وحشت بھی ہے، ایسے میں عوام حکومت کا ساتھ دیں اور قوانین کی پاسداری کریں۔ روزانہ کی بنیاد پر مزدوری کرنے والوں کے گھروں میں حکومت اور فوج کی جانب سے راشن جارہا ہے اور لوگوں کی مدد بھی ہو رہی ہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ انکے حصے میں جو آیا ہے اسی پر گزارہ کریں، اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ کسی کو بھوکا نہیں سلائے گا۔ موجودہ صورتحال میں استقامت اور تعاون بہت ضروری ہے۔ منافع خوروں کے لیے ایک ہی اصول ہے کہ آپ جو دیں گے وہی لوٹ کر آپکی طرف آئے گا۔ آسانیاں بانٹیں اور آسانیاں سمیٹیں۔
ماہر علم نجوم سامعہ خان نے کہا ہے کہ کورونا سے ڈرنا نہیں ، لڑنا ہے، مرنے سے پہلے ہم جینا نہیں جوڑ سکتے۔ 11اپریل سے 16اپریل کے درمیان ستاروں کاموڈ مثبت ہونے جارہا ہے ، ستاروں کا قہرناک ، غضبناک نقشہ ٹوٹ کر نیک ستاروں کا اجتماع ہوگااور اسکی رحمتیں نظر آنا شروع آجائیں گی۔ مئی کے درمیان میں دنیا لاک ڈاﺅن سے چھٹکارا پانا شروع کر دے گی۔ واحد سہارا اللہ کی ذات ہے۔ 26دسمبر اور 10جنوری کا گرہن بہت خطرناک تھا ، ان سات ستاروں نے اب جا کر ٹوٹنا شروع کیا ہے، ورنہ میں دیکھ رہی تھی کہ تیسری جنگ عظیم ہونے جارہی ہے۔ 20مارچ، 12اپریل، 16اپریل اور 15مئی کی تاریخوں سے ہم اس وباءسے نکلنا شروع ہوجائیں گے، عوام بالکل نہ گھبرائیں ، ایمان مضبوط رکھیں وہ بھوک سے کسی کو نہیں مرنے دیتا۔ مدینہ کو فلاحی ریاست بنانے کا بیڑا اٹھانے والے سوچیں کہ اس ریاست میں کوئی بھوکا ہونا ہی نہیں چاہئے۔
فیشن ڈیزائنر ارم خان نے کہا ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں، گھروں میں رہیں اور صفائی کا خیال رکھیں، ہمیں ثابت کرنا ہے کہ پاکستانی قوم کسی سے پیچھے نہیں ہے ہم ایک ہوکر کورونا کا مقابلہ کریں گے۔ بہت سے ملک مثال ہیں کہ سنجیدہ نہ ہونے پر وہ کس پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ بہت جلد حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔ اس مشکل کی گھڑی میں ہمیں اردگرد لوگوں کا خیال رکھنا ہے اور جتنی مدد ہو سکے کرنا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved