تازہ تر ین

سنگین جرائم،نیب منشیات کیسز کی ضمانتیں منسوخ ہائیکورٹس سے رہا 927قیدی گرفتار کرنے کا حکم

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہائی کورٹس سے قیدیوں کی رہائی سے متعلق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی پیش کردہ سفارشات کو تسلیم کرتے ہوئے ہائی کورٹس کے فیصلے کالعدم اور رہائی پانے والوں کی دوبارہ گرفتاری کا حکم دیدیا ۔ منگل کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظہر عالم خان مندوخیل، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل بینچ ہائی کورٹس کی جانب سے قیدیوں کی ضمانت کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی ۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس سے قیدیوں کی رہائی سے متعلق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی پیش کردہ سفارشات کو تسلیم کرتے ہوئے سندھ، اسلام آباد ہائی کورٹ سے قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کالعدم قرار دے دئیے۔ عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹس سے رہا ہونے والے تمام قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے کا بھی حکم دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فوری گرفتار کیا جائے۔سپریم کورٹ نے عدالت عالیہ سے قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کے خلاف دائر درخواست کو دفعہ 184(3) کے تحت قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سنگین جرائم، نیب اور منشیات کے مقدموں میں دی گئی ضمانتیں بھی منسوخ کردیں۔خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ملک میں کرونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کے پیشِ نظر 408 قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔مذکورہ فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے احکامات سے 829 قیدیوں میں سے 519 رہا ہوچکے ہیں۔ 20 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرونا وائرس کے باعث اڈیالہ جیل میں موجود معمولی جرائم والے قیدیوں کو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ حکومت کو آٹا چینی کا مسئلہ درپیش ہے اور بڑے بڑے لوگ ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں کرونا وائرس کے باعث اسپتالوں کی بندش اور سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ بلوچستان میں ڈاکٹروں کے حوالے سے کیا اطلاعات ہیں؟۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بتایا کہ تمام ڈاکٹرز کو چھوڑ دیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ ڈاکٹرز صورتحال پر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں تاہم ڈاکٹرز کی اکثریت بہترین فرائض سر انجام دے رہی ہے، اٹارنی جنرل کے مطابق گرفتار ہونے والے ڈاکٹرز کی مستقلی کا معاملہ تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کس کی جرات ہے حکومت کو بلیک میل کرے، حکومت قانون سازی کرے پکڑے ان کو۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو حکم دیا کہ موجودہ صورتحال میں ڈاکٹرز کو جو چیزیں چاہئیں وہ روزانہ کی بنیاد پر فراہم کریں، جتنی کٹس اور سہولیات دستیاب ہیں وہ فراہم کریں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مقامی حکومتیں ہوتیں تو لوگوں کی نچلی سطح پر مدد ہوتی، حکومت نے مقامی حکومتوں کو خود غیر موثر کردیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو آٹے اور چینی کا مسئلہ بنا ہوا ہے، حکومت خود اپنے لیے مسائل کھڑے کر رہی ہے، بڑے بڑے لوگ ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کوکریڈٹ دینا چاہیے کہ آٹا چینی بحران کی انکوائری رپورٹ سامنے لائی۔چیف جسٹس نے کہا کہ کرونا کی وبا سے لڑنے کیلئے ہنگامی قانون سازی کی ضرورت ہے، پارلیمنٹ کو نئے قانون بنانے چاہئیں۔عدالت نے حکومت کو تفتان، چمن، طور خم پر فوری طور پر ایک ہزار بستروں پر مشتمل قرنطینہ مراکز بنانے اور انہیں ایک ماہ میں مکمل فعال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان داخلی راستوں پر کورنٹین سنٹر بنانے میں ناکام رہی، ملک بھر کے ڈاکٹرز کو کرونا وائرس سے حفاظتی کٹس فوری طور فراہم کی جائیں، اگر عدالتی احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ حکومت کو آٹا چینی کا مسئلہ درپیش ہے اور بڑے بڑے لوگ ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں کورونا وائرس کے باعث اسپتالوں کی بندش اور سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ بلوچستان میں ڈاکٹروں کے حوالے سے کیا اطلاعات ہیں؟۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بتایا کہ تمام ڈاکٹرز کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ ڈاکٹرز صورتحال پر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں تاہم ڈاکٹرز کی اکثریت بہترین فرائض سر انجام دے رہی ہے، اٹارنی جنرل کے مطابق گرفتار ہونے والے ڈاکٹرز کی مستقلی کا معاملہ تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کس کی جرات ہے حکومت کو بلیک میل کرے، حکومت قانون سازی کرے پکڑے ان کو۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو حکم دیا کہ موجودہ صورتحال میں ڈاکٹرز کو جو چیزیں چاہئیں وہ روزانہ کی بنیاد پر فراہم کریں، جتنی کٹس اور سہولیات دستیاب ہیں وہ فراہم کریں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مقامی حکومتیں ہوتیں تو لوگوں کی نچلی سطح پر مدد ہوتی، حکومت نے مقامی حکومتوں کو خود غیر موثر کردیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو آٹے اور چینی کا مسئلہ بنا ہوا ہے، حکومت خود اپنے لیے مسائل کھڑے کر رہی ہے، بڑے بڑے لوگ ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کوکریڈٹ دینا چاہیے کہ آٹا چینی بحران کی انکوائری رپورٹ سامنے لائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کورونا کی وبا سے لڑنے کیلئے ہنگامی قانون سازی کی ضرورت ہے، پارلیمنٹ کو نئے قانون بنانے چاہئیں۔ عدالت نے حکومت کو تفتان، چمن، طور خم پر فوری طور پر ایک ہزار بستروں پر مشتمل قرنطینہ مراکز بنانے اور انہیں ایک ماہ میں مکمل فعال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان داخلی راستوں پر کورنٹین سنٹر بنانے میں ناکام رہی، ملک بھر کے ڈاکٹرز کو کورونا وائرس سے حفاظتی کٹس فوری طور فراہم کی جائیں، اگر عدالتی احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved