تازہ تر ین

مزید لاک ڈاﺅن صوبوں کی مشاورت سے ہوگا ، عمران خان

کوئٹہ(اے اےن اےن‘ آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک میں رواں ماہ کے آخر تک کرونا کیسز میں اضافہ ہو گا، کرونا سے پیدا شدہ صورتحال کا قوم بن کر مقابلہ کرنا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے مل کر کوششیں کر رہے ہیں، ہر صوبے کو صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنے ہیںبلوچستان میں اس وقت کرونا کا کوئی مریض انتہائی نگہداشت میں نہیں، بلوچستان میں کرونا وائرس کو کنٹرول کرنا آسان ہے جبکہ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے بلوچستان زیادہ متاثر ہوسکتا ہے بلوچستان میں اس وقت آئی سی یو میں کرونا کا کوئی بھی مریض نہیں ہے، بلوچستان میں صرف کوئٹہ گنجان آباد ہے جبکہ دیگر علاقوں میں آبادی دور دور ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کرونا کا مقابلہ کرنا آسان ہے ڈاکٹرز اور طبی عملہ کو حفاظتی سامان کی فراہمی پر توجہ مرکوز ہے‘ ان خیالات کا اظہار انہوںنے بلوچستان کے دورے کے موقع پر میڈیا اور خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر ‘وفاقی وزراءاسد عمر، زبیدہ جلال، گورنر بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ خان ، وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان، وزیر تعلیم بلوچستان سردار یار محمد رند، کمانڈر سدرن کمانڈ اور سینئر افسران شریک تھے وزیراعظم عمران خان نے میڈیا سے بات چےت کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کے باعث اپریل کے آخر تک ہمارے اسپتالوں پر بہت دباو¿ ہوگا‘ کرونا سے اکیلے کوئی نہیں لڑسکتا، کرونا سے اکیلے نہ وفاقی حکومت لڑسکتی ہے اور نہ صوبائی حکومت، پوری قوم کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا مختلف ممالک میں اب لاک ڈاو¿ن کو ختم کیا جارہا ہے تاہم صوبے بتائیں گے کہ لاک ڈاو¿ن مرحلہ وار کیسے ختم کریں گے، 14 اپریل کے بعد صوبے فیصلہ کریں گے کہ لاک ڈاو¿ن میں کہاں نرمی کرنی ہے ہم اندازہ لگارہے ہیں ‘ کہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال کا قوم بن کر مقابلہ کرنا ہے، خدشہ ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک کرونا کیسز میں اضافہ ہو گا، کرونا کیسز بڑھنے سے ہسپتالوں پر بوجھ بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہیں، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر روزانہ کی بنیاد پر صورتحال تجزیہ کرتا ہے اور اس بنیاد پر آئندہ کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ کو حفاظتی سامان کی فراہمی پر توجہ مرکوز ہے، ڈاکٹرز اور طبی عملہ کو ذاتی حفاظتی سامان فراہم کر دیا گیا ہے، ان کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت آئی سی یو میں کرونا کا کوئی بھی مریض نہیں ہے، بلوچستان میں صرف کوئٹہ گنجان آباد ہے جبکہ دیگر علاقوں میں آبادی دور دور ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کرونا کا مقابلہ کرنا آسان ہے تاہم راولپنڈی، لاہور، پشاور جیسے بڑے شہروں میں صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر صوبے کو صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنے ہیں، لاک ڈاﺅن کے باعث یومیہ اجرت پر کام کرنے والے متاثر ہو رہے ہیں، صوبے صورتحال کے مطابق لاک ڈاﺅن سے متعلق فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے مل کر کوشاں ہیں، صورتحال کا مل کر مقابلہ کریں گے تو کامیابی حاصل ہوگی‘دریں اثناءخصوصی اجلاس میں کرونا وائرس کے حوالے سے وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا بلوچستان میں کرونا وائرس کے متاثرین کی نگہداشت، زائرین کی سہولت کے لئے کئے گئے انتظامات، اشیائے خوردونوش کی بلا تعطل فراہمی، ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لئے حفاظتی کٹس کی فراہمی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بریفنگ‘صوبائی حکومت کی جانب سے موجودہ اور مستقبل کے ریلیف پیکیج ، راشن کی صوبے کی مستحق عوام میں تقسیم، پارلیمنٹیریئنز کی جانب سے کرونا فنڈ کا قیام، صحت کے عملہ کے لئے مختلف نوعیت کے استثنی اور مختلف مقامات پر جاری ڈس انفیکشن (جراثیم کش) مہم کے حوالے سے لئے جانے والے اقدامات پر بریفنگ‘وزیراعظم عمران خان نے صوبے میں اشیائے خوردونوش کی بلا تعطل فراہمی، اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کی روانی ، روزگار کے مواقعوں کی فراہمی اور غربت میں کمی کے حوالے سے ایک موثر اور مربوط حکمت عملی مرتب دینے اور اس حکمت عملی کا مسلسل جائزہ لینے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اس ضمن میں مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین پر مشتمل ایک تھنک ٹینک تشکیل دیا جائے۔ اس تھنک ٹینک کی ترجیح ان افراد کی کفالت اور فلاح و بہبود کے حوالے سے اقدامات کی سفارش ہو جو لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14 اپریل کو تمام صوبوں نے بتانا ہے کہ انہیں لاک ڈان میں کن کن چیزوں میں نرمی کرنی ہے اور یہ صوبوں کا فیصلہ ہوگا کہ وہ کن کن چیزوں کو کھولنا چاہتے ہیں کیونکہ لاک ڈان کی وجہ سے غربت تیزی سے زیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان مکمل تعاون چل رہا ہے کیونکہ جو اس وقت صورتحال ہے اسے کوئی حکومت اکیلے نہیں لڑ سکتی بلکہ ہم سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان بلوچستان میں کرونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے تھے ان کے اس دورے کے دوران وفاقی وزرا اسد عمر اور زبیدہ جلال بھی ہمراہ تھے جبکہ انہیں بلوچستان میں کرونا وائرس کی صورتحال اور وائرس کے پھیلنے سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved