تازہ تر ین

کرونا وا ئرس نے مو دی کی نا کا م حکومت کا پو ل کھو ل دیا، کرونا کے علا وہ غربت ،بھو ک اور میلوں پیدل سفرسے سینکڑوں بھا رتی ہلا ک

دہلی (ویب ڈیسک)بھارت میں بسنے والے غریبوں کے نیویارک ٹائمز نے حالات شائع کر کے مودی کی نا لائق حکمرانی کا پول کھول دیا۔مودی کے بھارت میں آج بھی اونچی ذات کے لوگوں کا راج برقرار‘نیچی ذات کے لوگ سسکتی زندگیوں کیساتھ موت کو گلے لگانے کو ترجیح دینے لگے۔چھوٹے شہروں اور گاﺅںسے ممبئی میں کام کیلئے جانیوالے لاک ڈاﺅن کے سبب بیروزگاری سے تنگ آ کر خود کشیوں پر مجبورجبکہ زیادہ ترواپسی کی راہیںچننے پر مجبور ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق مارچ میں کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاﺅن کے آغاز میں 618 ہلاکتوں کیساتھ13کرونا کے کیسز تھے جو اب بڑھ کر ڈیڑھ لاکھ مریضوں میںبدل چکے ہیں جبکہ4ہزار 3سو افرادلقمہ اجل بن چکے ہیں جو مودی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہر نیا دن بھارت میںغربت کے سورج کی کرنیںلے کر آتا ہے اور ہر ڈھلتی شام ہزاروں نئے فاقہ زدوں کو جنم دیکر رات کی آغوش میں مزید آنسو اور آہیں چھوڑکر رخصت ہوتی ہے۔لاک ڈاﺅن میں بھی بھارت میں دو ماہ میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ نہ ہونے کے باعث ہزاروں زندگیاں موت کے پہلو میں ایڑیاں رگڑنے لگی ہیں۔جو بھی کورونا وائرس کا مریض مر جاتا ہے اس کا کسی کو پتہ تک نہیںچلتا۔ اس کی آخری رسومات روایتی طریقوں سے کرنے کی وجہ سے سینکڑوں مزید مریضوں کا جنم ہوتاہے جو مودی حکومت کی ناکا م پالیسیوں پر اپنی قسمت کو کوستے ہوئے اس دنیا کو الوداع کہہ کر اہل خانہ کو روتا چھوڑ جاتے ہیں۔ بھارت میں آئے روز کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف غربت سے تنگ آئے افراد مودی حکومت سے لاک ڈاﺅن کھولنے کامطالبہ کر رہے ہیں اور یہ شورش بھی آئے روز زیادہ زور سے سر اٹھا تی جا رہی ہے۔لاک ڈاﺅن کے تسلسل کی وجہ سے بھارت کی معاشی حالت کا جنازہ بھی نکل چکا ہے لیکن مودی حکومت صرف اونچی ذات کے افراد کو سہولتیں دینے کو آمادہ نظر آتی ہے۔بھارت کے پانچ بڑے شہروں میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد ساٹھ فیصد تک بتائی گئی ہے۔تاہم چھوٹے شہروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں لیکن وہاں صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کورونا سے متاثرہ مریض یونہی دم توڑ رہے ہیں۔جن پانچ شہروں میں ساٹھ فیصد کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ان میں ممبئی‘ دہلی ‘احمد آباد ‘چنائی اور پونا شامل ہیں۔مودی کے آبائی شہر گجرات میں بھی حالات ممبئی سے مختلف نہیں جو مودی کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہیں۔گجرات ہائیکورٹ کے ریمارکس بھی مودی حکومت کی ناکامی کی قلعی کھولتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ حکومتی ہسپتالوں میں ادویات نہ ہونے کے سبب غریب آدمی وائرس کا شکار ہو کر مر رہے ہیں جبکہ امیروں کیلئے پرائیویٹ ہسپتال موجود ہیں جو اپنا علاج پیسے سے کروا کر صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ ریمارکسمیں کہا گیا کہ لاک ڈاﺅن نے بھوک اور افلاس کو جنم دیا ہے ۔ گاﺅں سے آنے والے شہروں میں روٹی ڈھونڈتے ہیں انہیں کورونا کی نہیں روٹی کی فکر ہے جو مودی حکومت کیلئے ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ لاک ڈاﺅن میں پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے سے غریب لوگ روز دس سے بیس کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ گرمی کا شکا رہو کر بھی موت کی وادی میں داخل ہو رہے ہیں۔محتاط اندازے کے مطابق بھارت میں پانچ لاکھ کورونا کے ایسے مریض ہیں جو بغیر ٹیسٹ کے روزی کی تلاش میں روزانہ نکلتے ہیں اور ہر نکلنے والا مریض اوسطاََ دس سے پندرہ نئے مریض پیدا کر کے گھر لوٹتا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved