بڑوں کے مقابلے میں بچوں میں کورونا وائرس کی علامات مختلف ہیں، صورتحال اچھی نہیں، اسکول کھولنے کا فیصلہ مشکلات پیدا کرے گا: پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن
کراچی (ویب ڈیسک) سندھ میں 1600 بچے بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں، صوبے میں ڑوں کے مقابلے میں بچوں میں کورونا وائرس کی علامات مختلف ہیں، صورتحال اچھی نہیں، اسکول کھولنے کا فیصلہ مشکلات پیدا کرے گا۔ پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے مطابق صوبہ سندھ میں ان لیوا وبا کے باعث صوبے میں تعلیمی ادارے بند ہیں مگر نجی اسکولوں کی تنظیمیں اسکول کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ماہرین کہتے ہیں صورتحال اچھی نہیں، احتیاط کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مفروضے نے بھی اب دم توڑ دیا ہے کہ گرمی میں کورونا وائرس ختم ہوجاتا ہے۔ سندھ میں اب تک جان لیوا وبا کورونا سے 1600 بچے متاثر ہو چکے ہیں، ر نجی اسکولوں کی تنظیمیں سندھ حکومت سے ایس او پیز کے ساتھ تعلیمی ادارے کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہیں لیکن ایسا کرنا خطرناک ہوگا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا شکار ہو کر مرنے والوں کی تعداد دو ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں پانچ ہزار کے لگ بھگ نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ اتوار کی صبح جاری کیے گئے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک میں وائرس سے مزید 67 افراد کی اموات کے بعد املک میں جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد دو ہزار دو ہو گئی ہے جبکہ متاثرین 98 ہزار 943 ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 23 ہزار 100 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے چار ہزار 960 مثبت آئے ہیں۔ جس کے بعد پاکستان دنیا بھر میں کورونا کیسز کی تعداد کے لحاظ سے 15ویں نمبر پر آگیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اموات کی تعداد بڑھ کر 49 ہو گئی ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں یہ تعداد 683 تک پہنچ گئی ہے۔ سندھ میں کورونا وائرس کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جانے والوں کی تعداد 634 ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں 561 مریض ہلاک ہوئے ہیں۔
