تازہ تر ین

آسان شرائط پر قرضے دینے کا فیصلہ، غریبوں کو مزید سبسڈی دینگے مشکل حالات میں غیر معمولی فیصلے کئے:عمران خان

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے معاشرے کے غریب طبقے کو ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، احساس پروگرام کو توسیع دینے کی ضرورت ہے، ہاﺅسنگ و تعمیرات کے شعبے کے لئے نمایاں پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے،تعمیراتی پیکج کا مقصد ترقی کا پہیہ چلانا اور روز گار کے مواقع پیدا کرنا ہے ، معاشی شرح نمو کے لئے آﺅٹ آف باکس حل کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو خزانہ و معاشی تھینک ٹینک کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔مشیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے فنانس و اکانومی بارے تھینک ٹینک کے مقاصد اور جن شعبوں میں توجہ مرکوز کی جارہی ہے ، بارے بریفنگ دی ۔اس موقع پر وزیراعظم یہ بات زور دے کر کہی کہ اس نازک وقت میں اقتصادی پیداوار کے لئے آﺅٹ آف باکس حل کی ضرورت ہے ۔کورونا وائرس نے عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی متاثر کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ شروع دن سے حکومت نے پائیدار اقتصادی سرگرمی اور عوام کو کووڈ۔19وباءسے متاثر ہونے سے بچانے کیلئے متوازن حکمت عملی اختیار کیے رکھی ۔وزیراعظم نے کہا کہ ٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے معاشرے کے غریب طبقے کو ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔احساس حکومت کا فلیگ شپ پروگرام ہے جس کا مقصد غربت کا خاتمہ ہے اور انتہائی ضرورت مند طبقات تک پہنچنے کی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ اس پروگرام میں توسیع کی ضرورت ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ہاﺅسنگ و تعمیرات کے شعبے کے لئے نمایاں پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے جس کا مقصد روز گار کے موقعوں میں اضافہ اور اقتصادی بیل آﺅٹ کے ساتھ ساتھ غریب لوگوں کو قابل رسائی گھروں کی فراہمی ممکن بنانا ہے ۔ وزیراعظم نے تھینک ٹینک کی جانب سے بنکنگ ، فنانس ، احساس پروگرام میں مزید بہتری اور ایس ایم ایز سہولیات کے حوالے سے پیش کردہ تجاویز کو سراہا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ انہیں مختلف جاری اقدامات ، پالیسیوں اور حکومتی پروگراموں کے حوالے سے تھینک ٹینک کی فراہم کردہ تجاویز متواتر فراہم کی جائیں ۔اجلاس میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ، ادارہ جاتی اصلاحات بارے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین ، گورنر سٹیٹ بنک رضا باقر اور سابق سیکرٹری فنانس ڈاکٹر وقار مسعود خان موجود تھے ۔مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد ، شوکت ترین ، سلطان الانہ ، ڈاکٹر اعجاز نبی اور عارف حبیب نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی ۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ آج ہمارے معاشی تھینک ٹینک کا وزیراعظم کے ساتھ اجلاس ہوا ہے اس تھینک ٹینک کا بنیادی وقت پاکستان کے معروف کاروباری ، تعلیمی اوربنکنگ شعبے سے وابستہ ماہرین کے ساتھ ملکر پاکستان کی معیشت میں بہتری لانے کے لئے اقدامات پر غور کیا جائے ، ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں فنانس اور بنکنگ شعبے کے ایشوز پر غور کیا گیا جس میں قرضوں کی سہولت میں اضافے کے لئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ۔اس کے ساتھ ساتھ تعمیرات کی سرگرمی جس میں وزیراعظم کی جانب سے مراعات دی گئی ہےں اس بارے اقدامات اٹھانے پر بھی غور کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام کو جو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے اس میں بہتری لائی جائے اور اس کے ثمرات ضرورت مندوں تک پہنچیں اور اس میں خامیوں کو دور کیا جاسکے ۔وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کی بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان نے ملاقات میں راجہ بشارت نے وزیراعظم کو اپنی وزارت کی کارکردگی پر بریفنگ دی انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں پنجاب قانون سازی میں سب سے آگے ہے کرونا کے خلاف جنگ کو بھی پنجاب میں قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے اس وقت پنجاب حکومت وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں کرپشن پر قابو پاکر پائیدار ترقی کو ممکن بنارہی ہے وزیراعظم نے پنجاب حکومت اور وزارت قانون کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب کا نیا بلدیاتی قانون منظور کرکے حقیقی تبدیلی کا خواب پورا کرنے میں کامیاب معاون ثابت ہوگا جبکہ وفاقی حکومت گڈ گورننس کیلئے پنجاب حکومت سے تعاون جاری رکھے گی مزید انہوں نے کہا کہ تمام محکمے اور ادارے پی ٹی آئی کے ویژن کے مطابق عوام کی خدمت جاری رکھیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آٹھ لاکھ بھارتی قابض فوج نے 80لاکھ کشمیریوں کویرغمال بنایاہواہے،آج کشمیریوں کو مشکلات کا سامنا ہے ، مقبوضہ کشمیر میں بھی اسی طرح کے قتل عام کاخدشہ ہے جس طرح 25سال قبل سریبر ینیکا میں ہوا۔ عالمی برادری یقینی بنائے کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آج سریبر ینیکا میں ہونے والی نسل کشی کی 25ویں برسی ہے، مجھے یہ دن بہت اچھی طرح یاد ہے اور مجھے یہ یاد ہے کہ یہ کب ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں میں انسانسیت سے محبت کے جذبات پائے جاتے ہیں انہیں اس نسل کشی سے بہت بڑا دھچکا لگا۔ ہمیں دھچکا لگا کہ کس طرح اقوام متحدہ کی محفوظ پناہ گاہوں میں نسل کشی کرنے کی اجازت دی گئی۔ ہمیں سب کو دھچکا لگا۔ میں آج بھی یاد ہے کہ کیسے یہ 25سال پہلے ہوا۔مجھے یہ بات سوچ کر آج بھی صدمہ پہنچتا ہے کہ کیسے عالمی برادری اس کی اجاز ت دے سکتی تھی۔ یہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس واقعہ سے سبق سیکھیں۔ عالمی برادری کودوبارہ کبھی بھی ایسی چیزوں کو وقوع پزیر ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ ہم کشمیر کے لوگوں کے لئے مسائل دیکھ رہے ہیں،آٹھ لاکھ بھارتی فوجیوں نے 80لاکھ کشمیریوں کومحصور کیا ہوا ہے اور ہمیں سب کو خدشہ ہے کہ اسی طرح کی نسل کشی کشمیر میں بھی ہو سکتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اس چیز کا نوٹس لے اور اس بات کو یقینی نائے کہ دوبارہ اس طرح کی کارروائی نہ ہو۔ میں پاکستانی عوام کی جانب سے بوسینیا کے لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ واضح رہے کہ 1995 میں بوسنیا کی سرب فوج کی جانب سے 8ہزار مسلمان مردوں اور بچوں کے قتل عام کو یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد بد ترین قتل عام قرار دیا جاتا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved