تازہ تر ین

وفاقی حکومت نے گندم کی قلت کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دے دیا

اسلام  آباد (ویب ڈیسک):میں وفاقی وزير برائے غذائی تحفظ سید فخر امام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ استعمال آٹا ہوتا ہے،گندم کی قیمت میں مختلف وجوہات کی بنا پر اتار چڑھاؤ ہوتا ہے،گزشتہ کچھ ہفتوں سےآٹے کی قیمت مختلف صوبوں میں الگ الگ ہیں۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ دونوں صوبے گندم کی پیداوار کرتے ہیں، حکومت سندھ اپنے حصے کی گندم نہیں دے رہی،سندھ کے اپنے حصے کی گندم نہ دینے سے گندم مہنگی ہو رہی ہے جب کہ پنجاب سندھ کی بہ نسبت کافی سستا آٹا دے رہا ہے۔

وفاقی وزير برائے غذائی تحفظ کا کہنا تھا کہ حکومت نے66لاکھ ٹن گندم کاشت کاروں سےخریدی، گندم کی قیمت کے حوالے سے تمام صوبوں سے میٹنگ کی گئی،ہمارے پاس اسٹاک اس لیے ہوتا ہے تاکہ عوام کو سستا آٹا دیا جائے جب کہ سندھ نے پچھلے سال ایک ٹن بھی گندم نہیں خریدی تھی۔

فخر امام کا کہنا تھا کہ جتنا زیادہ مارکیٹ میں آٹا ہوگا تو قیمت اتنی کم ہوگی، حکومت سندھ کو بتانا چاہتےہیں کہ ان کے شہری اس وقت سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں۔

دوسری جانب پنجاب کے وزیر خوراک عبدالعلیم خان نے گندم کے اہداف کےحصول میں ناکامی کااعتراف کرلیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علیم خان نے کہا کہ  پنجاب حکومت گندم ذخیرہ کرنے کے اہداف حاصل نہیں کر سکی، حکومت کے پاس اضافی اسٹاک نہیں، سندھ حکومت سبسڈی پر گندم فراہم کرے تاکہ ملک میں آٹے کی قلت پیدا نہ ہو۔

صوبائی وزیر خوراک کا کہنا تھا کہ  پنجاب میں 95 فیصد علاقوں میں  آٹے کا تھیلا 860 روپے میں مل رہا ہے، جب کہ سندھ میں آٹےکے تھیلےکی قیمت 1200روپے ہے،پنجاب سے دیگر صوبوں کے بارڈر سیل نہیں کرنا چاہتے،سندھ حکومت سے اپیل ہے کہ وہ اپنی فلور ملوں کو سبسڈی دے


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved