تازہ تر ین

حفاظتی ہدایات کو نظرانداز کرنا کورونا کیسز میں اضافہ کرسکتا ہے، ماہرین صحت

کراچی(ویب ڈیسک):ملک جیسے ہی مہینوں کے لاک ڈاؤن کے بعد کھلا بڑی تعداد میں لوگ بغیر فیس ماسک اور اس وہم کے کہ کووڈ 19 کی وبا ختم ہوگئی ہے گھروں سے باہر نکل آئے، ملک بھر میں یوم آزادی کا جشن اس بات کے ثبوت کے لیے کافی تھا کہ شہریوں نے احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلے کو ہوا میں اڑادیا۔

تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر کو بھولنا انفیکشن کی شرح میں اضافے کا باعث بنے گا، ساتھ ہی انہوں نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ فیس ماسک پہنیں، خاص طور پر اس صورتحال میں جہاں سماجی دوری ممکن نہ ہو کیونکہ عوام کی یہ لاپرواہی ایک اور اسپائک (بلندی) کا سبب بن سکتی ہے۔

 ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 31 مئی کو ملک میں رش والے مقامات، مساجد، بازاروں، شاپنگ مالز اور بسز، ٹرین اور ہوائی جہازوں سمیت پبلک ٹرانسپورٹ میں فیس ماسکس پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

جولائی میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے ایک اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ عوام کی جانب سے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عمل کے ساتھ ماسکس پہننا ہی ملک میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے واحد اقدامات تھے۔

تاہم شہر کی مرکزی مارکیٹوں کے دورے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو مشورے کو سنا نہیں گیا یا اسے بھولا دیا گیا۔ لوگ بغیر کسی فیس ماسک کے ایک دوسرے کے ارد گرد رش والی جگہوں پر موجود ہیں، کچھ دکانداروں کے پاس سرجیکل یا کپڑے کے ماسک تو ہیں لیکن وہ ایک کان پر لٹکے ہوئے ہیں یا تھوڑی کے نیچے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ سرکاری اور نجی اداروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے، اگرچہ وہاں داخلے کے لیے ماسکس ضروری ہے لیکن ایک مرتبہ اندر جانے کے بعد یہ ماسک اکثر ڈیکس پر چھوڑدیا جاتا ہے۔

لاہور، پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں سے ذرائع کی جانب سے یہی صورتحال کے بارے میں بیان کیا گیا۔

زیادہ تر کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ بہت گرمی ہے اور ماسک پہننے سے بے چینی ہوتی ہے، بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وبا خبر ہوچکی ہے جبکہ مزید یہ سمجھتے ہیں کہ ‘کورونا وائرس ایک دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں’۔

کوئٹہ کے فاطمہ جناح ہسپتال کے شعبہ طب دق اور امراض سینہ کی سربراہ ڈاکٹر شیریں خان کا کہنا تھا کہ ‘شکر ہے کیسز نیچے گئے ہیں لیکن لوگوں کو ماسک پہننے اور ایس او پیز پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، عیدالاضحیٰ کے دوران لوگ آپس میں ملے ہیں اور اس کا اثر آئندہ ہفتے میں واضح ہوگا، (مزید یہ کہ) محرم الحرام آرہا ہے اور یہ خراب رویہ صورتحال کو مزید خراب کردے گا’۔

ڈاکٹر شیریں خان جنہیں 14 بلوچستان میں کورونا وائرس کے خلاف کی جانب والی کوششوں پر ستارہ امتیاز کے لیے نامزد کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ مربوط جواب اور پابندیوں کی وجہ سے کووڈ 19 کے کیسز میں کمی آنا شروع ہئی لیکن اگر لوگ لاپرواہی کریں گے تو ایک بلندی کا امکان ہے۔

کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار لاہور کے میو ہسپتال میں کووڈ 19 کے فوکل پرسن ڈاکٹر محمد عادل کی جانب سے کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کیسز نیچے گئے ہیں لیکن ‘خطرہ نہیں’ گیا، ساتھ ہی انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ عوامی مقامات پر لوگ ماسک لازمی پہنیں،اس کے ساتھ ہاتھوں کو بھی صاف رکھیں، ماسک تحفظ کی ایک اضافی پرت فراہم کرتے ہیں۔

ان کے بقول لوگ لاشعوری طور پر اپنی ناک اور منہ کو چھوتے ہیں، لہٰذا ماسک پہننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی ناک اور منہ کو براہ راست نہیں چھوسکتے۔

کس طرح کے ماسکس؟

ڈاکٹر شیریں خان اور ڈاکٹر عادل دونوں نے یہ مشورہ دیا کہ سرجیکل ماسکس بہتر ہے لیکن کپڑے کا ماسک بھی ٹھیک ہے، ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ لوگوں کو این 95 ماسکس کو طبے عملے کے لیے چھوڑ دینا چاہیے۔

اس حوالے سے میڈیکل مائیکروبائیولوجی اور انفیکشیس ڈیزیز سوسائٹی پاکستان (ایم ایم آئی ڈی ایس پی) نے ڈان کو بتایا کہ ماسکس تھوک اور سانس کے ذریعے نکلنے والے ذرات کو دوسروں تک پہنچنے سے روکتے ہیں، ماسک کو پہننے والے دیگر لوگوں کے ان ذرات سے محفوظ رہتے ہیں، لہٰذا کووڈ 19 جیسے انفیکشن کو ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے سے روکا جاسکتا ہے اور اس کے لیے ماسک کا استعمال وائرس کی منتقلی روکنے کا مؤثر دریعہ ہے۔

سوسائٹی کا کہنا تھا کہ بچے بھی جب باہر جائیں اور جب اسکول دوبارہ کھلیں تو انہیں بھی کپڑے کا ماسکس پہنچا چاہیے، یہ انہیں محفوظ رکھے گا اور وائرس کو گھرتک لانے سے روکنے میں مدد دے گا۔

تاہم ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کپڑے کے ماسکس کے ساتھ ساتھ، اچھی طرح ہاتھوں کو صاف رکھنے کی عادت بھی ڈالنی چاہیے۔

باہر کھانا اور گھومنا

خیبرپختونخوا کے ٹورازم سیکریٹری عابد مجید کہتے ہیں کہ ملک کے شمالی علاقوں میں سیاح بڑی تعداد میں آرہے ہیں لیکن ‘ایک سخت پالیسی، ماسک نہیں تو رکنا نہیں (نو ماسک نو اسٹے) پر عمل درآمد کیا جارہا ہے’۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ تک عابد مجید خیبرپختونخوا کا محکمہ امداد اور بحالی کی سربراہی کر رہے تھے جو کووڈ 19 پر کام کررہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ صوبے میں ‘ماسک آن’ پالیسی پر سختی سے عمل کرایا جائے تاکہ مقامی آبادی اور سیاح محفوظ رہ سکیں۔

ماہرین صحت کہتے ہیں کہ سفر اور باہر کھانے کے دوران ماسکس اور سماجی دوری بہت زیادہ ضروری ہے۔

ایم ایم آئی ڈی ایس پی کا یہ بھی کہنا تھا کہ سماجی دوری کے ساتھ کھلے مقامات ٹھیک ہیں لیکن بند مقامات خطرے کو بڑھادیتے ہیں، اگر ایک متاثرہ شخص ایئرکنڈیشنڈ ریسٹورینٹ میں طویل وقت کے لیے رکتا ہے تو دیگر کے متاثر ہونے کا اصل خطرہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ٹیک اوے اور ڈیلوری ابھی بھی بہتر انتخاب ہے اور اگر کسی ہوٹل میں رکتے ہیں تو اپنے کمرے یا کھلی جگہ پر کھانا کھانے کا انتخاب کریں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved