تازہ تر ین

پاکستان کے خیلاف دہشتگردی کرنے والوں کو مسنگ پرسن نہ کہیں:امتنان شاہد

بلوچستان کو آزاد ریاست بنانا خطرناک سازش ہے ایسی بات ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحد غیر محفوظ کرنے کے مترادف ہے۔
مسنگ پرسن پر بات کرنے والے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے لیڈروں سے بھی پوچھیں،مریم نواز اپنے والد سے بھی یہ سوال کریں۔
ہر سیاسی پارٹی کہتی ہے کے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،یہ خیال اب کیوں آیا،اپنے دوراقتدار میں کیوں نہ آیا۔
پی ڈی ایم جلسے میں اویس نورانی کی تقریر میں آج پاکستان کو توڑنے کا پہلی بار شوشہ چھوڑا گیا۔نواز ن شریف نے اپنی تقریر میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ جرنیلوں کے بارے میں کہا کہ فوج کی تو عزت کرنا ہوگی
ان جرنیلوں کی نہیں۔یہ بیان جرنیلوں کے درمیان ایک اور دراڑ پیدا کرنے کی کوشش ہے۔فی الوقت یہ کہنا کے کوئی کسی کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے قبل از وقت ہوگا تاہم ہمارے مشرق اور مغرب میں موجود دشمن تو یہی چاہتے ہیں کہ پاک فوج کو کمزور کیا جائے۔اس کی وجہ یہی ہے کے پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی پاور ہے اور ایک مظبوط فوج رکھتا ہے جو دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔پاک فوج کمزور ہوتی تو کیسے دشمن ملکوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔پچھلے دس پندرہ سال میں پاک فوج نے جتنے ترقیاتی کام کروائے،گوادر پورٹ بنوائی گئی شاہرات تعمیر کی گئیں یہ سب کام ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں ہی کیے گئے ہیں
آصف زرداری کے دور میں ہی سی پیک پر عملی کام شروع کیا گیا جو نواز دور میں جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ہمارے دشمن یو این ہر فیٹف جیسے عالمی پلیٹ فارم پر بلوچستان کے حساس ایشو کو ہی اٹھانے اور پاکستان کو بدنام کرتے ہیں۔اس تناظر میں کوئٹہ میں کسی سیاسی رہنما کا یہ بات کرنا کے بلوچستان کو آزاد ریاست بنا دیا جائے وہاں لوگوں کے حقوق نہیں دیے جا رہے انتہائی قابل مذمت بات ہے اور خطرناک سازش کے مترادف ہے۔ایسی بات کرنا ملک اور فوج کو اس راستے پر لے جانے کی کوشش ہے کہ ہماری نظریاتی اور جغرافیائی حدود محفوظ نہ رہیں۔مریم نواز نے مسنگ پرسن کی بات کی اگر وہ سمجھتی ہیں کے ان لوگوں کو پاک فوج یا ایجنسیوں نے اٹھایا تو ان کے والد 3بار وزیراعظم رہے تو ان سے سوال کیوں نہ کیا۔مسنگ پرسن میں وہ لوگ شامل ہیں جو پہاڑوں پر چھپے ہیں۔بلوچستان کے مختلف علاقوں اور گوادر پے مسلسل حملے کرتے ہیں یہ لوگ پاک فوج نے اٹھائے یا خود غائب ہوئے ان پر سوالیہ نشان ہیں۔کیا گوادر ہوٹل پر حملہ کرنے والے یہی مسنگ پرسن نہیں تھے جو مارے گئے تو شناخت ہوئی۔انہیں مسنگ پر سنز نے پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی حدود کے خیلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔ہر سیاسی پارٹی کو جلسے جلوس اور دھرنے دینے کا حق حاصل ہے۔تا ہم اب جو اپوزیشن کہتی ہے کے ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں تو یہ خیال اب کیوں آیا۔الیکشن میں دھاندلی کے سوالات تو 2013,2009میں بھی اٹھتے رہیں ہیں۔الزامات کا سلسہ جب تک نہیں رکے گاجب تک الیکشن کمیشن کا ادارہ مظبوط اورالیکشن کا نظام درست نہیں ہو جاتا تاہم اس کے لیے کوئی سیاسی پارٹی بات کرنے کو تیار نہیں۔الیکشن نظام کو شفاف بنانے کے لئیے جب تک تمام سیاسی جماعتیں مل کر کام نہیں کریں گی جب تک ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں آئے گی۔کوئٹہ میں جلسے کا تھریٹ الرٹ تھا۔ہمیں شکر کرنا چھاہیے کے کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved