تازہ تر ین

جعلی اکاونٹس کیس میں رقم ریکور کی جا چکی ہے،چئیرمین نیب

قومی احتساب بیورو(نیب ) کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جعلی اکاونٹس کیس میں اب تک 23 بلین روپے کی رقم ریکور کی جا چکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو(نیب ) کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت اجلاس ہوا ، اجلاس کے دوران 224 ملین روپے سے زائد کی رقم چیف سیکرٹری سندھ کے حوالے کی گئی۔

اجلاس کے دوران ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی نے جعلی اکاونٹس کیس پر بریفنگ دی۔

بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ سندھ روشن پروگرام کے حوالے سے 19 کنٹریکٹرز نے کک بیکس کی رقم جعلی اکاونٹس میں جمع کرائی جبکہ 3 کنٹیکٹرز ودود انجئینرنگ، ایم جے بی کنسٹرکشن اور ظفر انٹرپرائزز کو غیر قانونی ٹھیکے دیے گئے۔

بریفنگ میں یہ کہا گیا کہ22 عشاریہ تین ملین روپے کی رقم اس پراجیکٹ میں سرکاری افسران کو کک بیکس کی مد میں دی گئی جبکہ شرجیل انعام میمن نے مبینہ طور پر 77 ملین روپے وصول کیے جو بعد میں جعلی اکاونٹس میں جمع کرائے گئے

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ملزمان سے پلی بارگین کی مد میں 305 ملین روپے کی رقم ریکور کی گئی اور نیب اراضی کی مد میں گیارہ عشاریہ چھ بلین روپے ریکور کر چکا ہے۔

قومی احتساب بیورو(نیب ) کے چئیرمین نے اجلاس میں کہا کہ سندھ میں شوگر اسکینڈل کی مد میں 10 بلین روپے کی رقم برآمد کی گئی ہے جبکہ50 کروڑ روپے مالیت کے دو پلاٹ بھی سندھ حکومت کے حوالے کیے جا چکے ہیں

جسٹس جاوید اقبال نے یہ بھی کہا کہ ایک بلین روپے کی تین سو ایکڑ اراضی بھی سندھ حکومت کو دی جا چکی ہے جبکہ جعلی اکاونٹس کیس میں اب تک 23 بلین روپے کی رقم ریکور کی جا چکی ہے۔

چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے مزید کہا کہ پی ایس او سکینڈل میں کامران افتخار کی جانب سے ایک عشاریہ 27 بلین روپے کی پلی بارگین کی درخواست احتساب عدالے نے منظور کر لی ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved