تازہ تر ین

بیوی کے ساتھ رہ کر’لاشعوری تعصب‘ کا احساس ہوا، شہزدہ ہیری

برطانوی شہزادہ ہیری نے پہلی بار کھل کر اعتراف کیا ہے کہ شاہی گھرانے میں پیدا ہونے اور شاہانہ طرز زندگی گزارنے کی وجہ سے وہ کئی سال تک ’لاشعوری تعصب‘ کا شکار رہے۔

شہزادہ ہیری کے مطابق انہیں کئی سال تک اس بات کا ادراک ہی نہیں تھا کہ تعصب کیا ہے اور نسلی تفریق کیسی ہوتی ہے اور وہ اس سے لاعلمی کی وجہ سے ہی ’لاشعوری تعصب‘ کا شکار رہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق شہزادہ ہیری نے فیشن میگزین جی کیو کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہیں ’لاشعوری تعصب‘ کا احساس اس وقت ہوا جب انہوں نے اپنی زندگی کو بیوی کی طرز زندگی کے مطابق گزارنا شروع کیا۔

شہزادہ ہیری کے مطابق انہوں نے ’لاشعوری تعصب‘ کو اس وقت سمجھا جب انہوں نے اپنی بیوی کے جوتوں میں وقت گزارا۔

شہزادہ ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل امریکی نژاد سابق اداکارہ ہیں اور دونوں نے مئی 2018 میں شادی کی تھی، اب انہیں ایک بیٹا بھی ہے۔

دونوں کی شادی سے قبل ہی برطانوی و یورپی میڈیا میں کئی طرح کی چہ مگوئیاں تھیں، جب کہ آج تک ایسی خبریں آتی رہتی ہیں کہ میگھن مارکل نے شہزادہ ہیری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

تاہم ایسی خبروں کے برعکس شہزادہ ہیری نے ہمیشہ اپنی اہلیہ کی طرفداری اور تعریف کی ہے اور اب انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ’لاشعوری تعصب‘ اور ’نسلی تفریق‘ کو اس وقت ہی سمجھا جب انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کی۔

میگھن مارکل کے والد سفید فام امریکی ہیں جب کہ ان کی والدہ افریقی نژاد سیاہ فام امریکی ہیں،ان کے برعکس شہزادہ ہیری کا خاندان نہ صرف سفید فام ہے بلکہ ان کے آباؤ اجداد بھی کئی صدیوں سے شاہانہ زندگی گزارتے آئے ہیں۔

البتہ شہزادہ ہیری کی والدہ لیڈی ڈیانا کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا اور لیڈی ڈیانا کے والد سمیت ان کے دادا اور پڑدادا برطانوی شاہی خاندان میں اہم عہدوں پر ملازمتیں کرتے آ رہے تھے۔

میگھن مارکل سے شادی کے بعد ہی شہزادہ ہیری کی زندگی میں کئی تبدیلیاں دیکھی گئیں اور انہوں نے رواں برس کے آغاز میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔

شہزادہ ہیری نے رواں برس مارچ میں باضابطہ طور پر شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کرکے کینیڈا منتقل ہوگئے تھے اور بعد ازاں وہ امریکا شفٹ ہوگئے۔

اس وقت شہزادہ ہیری اہلیہ اور بچے سمیت امریکا میں مقیم ہیں اور انہوں نے اپنی جدا شناخت بنانے کے لیے اسٹریمنگ ویب سائٹ نیٹ فلیکس کے ساتھ دستاویزی فلمیں اور شوز بنانے کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے جب کہ وہ دیگر سماجی تنظیموں کے ساتھ بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔

اگرچہ انہوں نے شاہی ذمہ داریوں سے خود کو علیحدہ کرلیا ہے، تاہم پھر بھی وہ برطانوی شاہی خاندان کے نہ صرف فرد ہیں بلکہ خاندان کا اہم حصہ بھی ہیں اور ان سے شہزادے کا لقب نہیں چھینا جا سکتا۔

شہزادہ ہیری نے مذکورہ انٹرویو میں اعتراف کیا کہ جس طرح ان کی پرورش ہوئی اور جس طرح کی انہوں نے تعلیم لی، اس وجہ سے انہیں یہ علم نہ ہوسکا کہ ’لاشعوری تعصب‘ کیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں ’لاشعوری تعصب‘ کے احساس ہونے میں کئی سال لگے۔

شہزادہ ہیری نے دنیا بھر میں سیاہ افراد کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر بھی بات کی اور کہا کہ سماجی انصاف کی تحریک ایک ٹرین کی طرح ہے جو اسٹیشن سے اپنی منزل کی جانب سفر پر نکل پڑی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کو ہر ایک کے لیے بہتر جگہ بنایا جائے۔

مذکورہ انٹرویو میں شہزادہ ہیری نے سیاہ فام میزبان پیٹرک ہچسن کی تعریف بھی کی، جنہوں نے کچھ ہفتے قبل بلیک لائیو میٹرز کی ایک ریلی میں سفید فام فوٹوگرافر پر ہونے والے حملے کے دوران ان کی حفاظت کی تھی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved