تازہ تر ین

ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیشِ نظر عوام کیلئے ماسک پہننا لازم قرار

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) نے ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر گھروں سے باہر نکلنے والے تمام شہریوں کے لیے ماسک پہننا لازم قرار دیا ہے۔

این سی او سی کی یہ ہدایت وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کی جانب سے ملک میں کورونا وائرس کی دوسری خطرناک لہر کے اعلان کے ایک روز بعد جاری کی گئی۔

وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں این سی او سی کے اجلاس میں کورونا وائرس کی دوسری لہرکے پیش نظرحکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا اس دوران اجلاس کو کورونا ایس او پیز پرعمل درآمد سے متعلق بریفننگ بھی دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزیرداخلہ، سیکیرٹری صحت سمیت دیگر حکام شریک ہوئے جبکہ چاروں صوبوں کے نمائندوں نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔

این سی او سی میں تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز رپورٹ ہونے کا بھی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری اور نجی دونوں طرح کے دفاتر میں ماسک پہننا لازم قرار دیا جائے۔

این سی او سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ عوام میں فیس ماسکس پہننے، بالخصوص بازاروں، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ اور ریسٹورنٹس میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

رپورٹ کے مطابق ملک کے گیارہ شہروں بشمول کوئٹہ، لاہور، راولپنڈی، ملتان، پشاور،اسلام آباد، حیدرآباد، میر پور، گلگت، مظفرآباد اور کراچی میں 4 ہزار 374 مقامات پر لاک ڈاؤن لگائے گئے ہیں۔

وزارت قومی صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 825 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 14 مریض انتقال کر گئے۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت قومی صحت کے ساجد شاہ نے کہا تھا کہ اگر کووِڈ 19 کیسز کی تعداد یوں ہی بڑھتے رہے تو حکومت کے پاس تکلیف دہ فیصلے لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا جس کی وجہ سے ملک کی معیشت پر اثر پڑے گا۔

اس حوالے سے ایک ٹوئٹر پیغام میں وزارت صحت کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان کورونا وائرس سے متاثرہ افراس میں 70 فیصد مرد ہیں جن کی اکثریت تلاش معاش میں باہر نکلتی ہے۔

پیغام میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جب بھی گھروں سے باہر جائیں ماسک لازمی پہنیں تا کہ آپ اور آپ کے پیارے اس بیماری سے محفوظ رہیں۔

خیال رہے کہ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے گزشتہ روزکہا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہوچکی ہے اور پابندیوں میں مزید سختی ناگزیر نظر آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہجوم اور تنگ جگہوں پر ماسک کا استعمال ضروری ہے چاہے یہ دکانیں ہوں، عوامی ٹرانسپورٹ، بسیں، شادی یا دیگر تقریبات ہوں جہاں تنگ جگہ میں بہت سے لوگ اکٹھے ہیں وہاں ماسک ضروری ہے’۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے ابتدائی 2 کیسز ایک ہی تاریخ یعنی 26 فروری کو سامنے آئے تھے جس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تعلیمی ادارے اور پر ہجوم مقامات کو بند کردیا گیا تھا بعدازاں لاک ڈاؤن نافذ کر کے ہر قسم کی سرگرمیاں محدود کردی گئی تھیں۔

تاہم معاشی چیلنجز کو دیکھتے ہوئے اپریل میں ہی حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنی شروع کردی تھی اور مئی میں متعدد کاروبار کھول دیئے گئے تھے جس کی وجہ سے جون میں پاکستان وبا پر عروج پر جا پہنچی تھی۔

بعد ازاں جون میں حکومت کی جانب سے ہاٹ اسپاٹ کی نشاندہی کر کے وہاں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے اور ٹی ٹی کیو پالیسی کو مؤثر انداز میں اپنانے سے جولائی میں وبا کا پھیلاؤ سست ہوگیا تھا اور اگست سے ستمبر تک صورتحال حوصلہ افزا رہی تاہم اکتوبر کے وسط سے کیسز میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved