تازہ تر ین

جلسوں میں کرسیاں دینے والوں پر مقدمہ ہوگا: عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ لاہور میں پی ڈی ایم کا جلسہ کرنےوالے آرگنائزرز اور کرسیاں دینے والوں پر مقدمہ ہوگا، اپوزیشن کا اتحاد یونین آف کروکس، چی گویرا نہ بنے ، مشرف نے اپنی کرسی بچانے کے لیے انہیں این آر او دیا،مجھے چھوڑنی پڑی تو چھوڑ دونگا لیکن ملک سے غداری نہیں کرونگا۔

ملک میں ریپ جرائم کی شرح سب سے زیادہ ، موبائل فون کے غلط استعمال نے معاشرے میں تباہی مچا دی،دوسری جانب حکومتی عہدیداران کا کہناہےکہ اپوزیشن قیادت اپنے کیس بند کرانے کیلئے عوام کو کورونا کا شکار کررہی ہے،استعفے بھی دیدیں تو این آر او نہیں ملے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق نے کہاہےکہ کورونا بڑھ رہا ہے، حزب اختلاف کو لوگوں کی جانوں کے تحفظ سے کوئی سروکار نہیں، مریم نواز ضمانت پر ہیں جیل جائینگی۔

ہفتے کوانٹرویو میں اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نےکہاکہ پی ڈی ایم کے لاہور جلسے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن رکاوٹ بھی نہیں ڈالیں گے، مگر منتظمین اور کرسیاں لگانے والوں کے خلاف مقدمہ درج ہوگا، کرپشن صرف احتساب کرکے ختم نہیں کی جا سکتی پورا معاشرہ کردار ادا کرتا ہے۔

عوامی فنڈ چوری کرنے والا برطانیہ میں کوئی میڈیا اور پارلیمان میں نہیں جا سکتا ،اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں عوامی مسائل کو زیر بحث لانے میں کوئی دلچسپی نہیں ، وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان انہیں این آر او دے دےجب تک معاشرہ چوروں اور عام لوگوں میں فرق نہیں کرے گا تب تک ترقی نہیں ہوسکتی ،اگر این آر او دینا ہے تو سب سے پہلے مجبوری کی حالت لاکھوں روپے کی چوری کرنے والے زیر حراست کمزور افراد کو دیں۔

میڈیا میں کچھ لوگ مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف کو بچانے کے لیے کوششیں کررہے ہیں اور وہ عدالت میں چلے گئے اور استدعا کی کہ سابق وزیر اعظم کو تقریر کا موقع دیا جائے میڈیا سے تعلق رکھنے والے بعض صحافیوں نے اسے آزادی اظہار قرار دیا جبکہ عدالت نے نواز شریف کو سزا سنائی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر اپوزیشن والے یہ سمجھ رہے ہیں کہ جلسے سے میرے اوپر کوئی پریشر بڑھ جائے گا تو یہ بڑی غلط فہمی ہیں، مشرف نے اپنی کرسی بچانے کے لیے انہیں این آر او دیا، مجھے یہ کرسی چھوڑنی پڑی تو چھوڑ دوں گا، لیکن این آر او نہیں دوں گا،انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور لندن میں رہائش پذیر اسحق ڈار سے متعلق کہا کہ آپ نے اسحق ڈار کو دیکھ لیا اس نے انٹرویو میں کیا باتیں کیں؟

عمران خان نے کہا کہ میں پبلک آفس ہولڈر نہیں تھا لیکن 9 مہینے عدالت میں صفائی دیتا رہا اور میں نے عدالت میں منی ٹریل دی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ملک میں ریپ جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے، موبائل فون کے غلط استعمال سے معاشرے میں تباہی مچ گئی۔

میڈیا میں بہت کم لوگ ہیں جو معاشرے کی اصلاح کے لیے کوششیں کررہے، ریپ کیسز میں ملوث ملزمان کو عبرت ناک سزائیں دینے کے لیے آرڈیننس موجود ہے، میڈیا پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی لیکن لوگوں کو متبادل اور موثر نشریات دی جاسکتی ہے جس کے باعث معاشرے کی اصلاح ہو۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کا اتحاد یونین آف کروکس (Union of crooks) ہے،انہوں نے کہا کہ بے شک یہ جلسہ کریں لیکن کورونا میں یہ لوگوں کی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں، جلسہ کرنے والے آرگنائزر ہیں، انہوں نے کرسیاں دیں۔

ٹراسپورٹ دیا یاجو بھی لاہور جلسے میں ساونڈ سسٹم لگائے گا، ان سب پر ایف آئی آر درج ہوگی،ہم کوئی رکاوٹیں کھڑی نہیں کریںگے تاکہ یہ ڈرامے نہ کریں،کوئی انقلابی نہ بنے، کوئی چی گویرا نہ بنے، یہ سب چوری بچانے کیلئے جلسے کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں علامہ اقبال کی تعلیمات کی طرف جانا ہوگا، ہمارے پاس دو راستے ہیں، اچھائی یا برائی کا راستہ، گلیمر ہمیں مرغوب تو ہوتا ہے مگر اسکے پیچھے جاکر دیکھیں تو وہ تباہی ہے، انہوں نے کہا کہ میرا زندگی کا تجربہ باقیوں سے بڑا مختلف ہے، جس طرح میں نے زندگی گزاری شاید ہی کسی کو ایسی زندگی گزارنے کا موقع ملا ہو۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کہا ہے کہ لاہور میں کورونا مثبت آنے کی شرح 3 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہو چکی ہے جو بے حد تشویشناک ہے ،اگر صورتحال تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے تو احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر کورونا کو پھیلنے سے کون روک سکتا ہے،خدا نخواستہ یہ معاملہ بہت خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔

جلسے کے بارے میں قانون کے مطابق ہی فیصلہ کیا جائے گا،حکومت ہر اقدام قانون کے مطابق اٹھائے گی،کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی ہو گی، پی ڈی ایم جلسوں کے ذریعےکورونا پھیلارہی ہے،عوام کے مسترد شدہ عناصر ترقی کے سفر کو روکنا چاہتے ہیں، یہ ٹولہ صرف اپنی کرپشن بچانے کے لیے اکٹھا ہے، عام آدمی کے مسائل سے ان لوگوں کا کوئی واسطہ نہیں، ان عناصرکی قسمت میں صرف رونا ہی لکھا ہے اور یہ لوگ 13 دسمبر کے بعد بھی روتے رہیں گے۔

دوسری جانب خصوصی افراد کے حوالے سے لاہورمیں منعقدہ تقریب سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےمعاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مریم نواز روز کہتی ہیں حکومت جانے والی ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain