حکومت نے نیب کے پر کاٹ دئیے،سپریم کورٹ کا 3ماہ میں نیا قانون بنانے کا حکم

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) سپریم کورٹ نے نیا نیب قانون لانے کے لیے حکومت کو تین ماہ کی مہلت دیدی ، چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس یئے کہ حکومت نے نیب آرڈیننس لا کر نیب کے پر کاٹ دیے،سپریم کورٹ نیب کو پلی بارگین سے روک چکی ہے، جب تک پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر لیتی یہ اختیار استعمال نہیں ہو گا، حکومت نیب قانون کے معاملے کو زیادہ طول نہ دے، نیب قوانین میں ترامیم پارلیمنٹ کا کام ہے، سپریم کورٹ نے نیب کی کسی دفعہ کو غیر آئینی قرار دیا تو نیب فارغ ہو جائے گی، کیا حکومت چاہتی ہے کہ نیب کے قانون کو فارغ کر دیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں نیب آرڈیننس کی شق 25 اے پرازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں دلائل دیے۔دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ توقع کرتے ہیں حکام نیب قانون سے متعلق مسئلے کو حل کرلیں گے، نیب قانون کے حوالے سے مناسب قانون پارلیمنٹ سے منظور ہوجائے گا جب کہ 3 ماہ میں مسئلہ حل نہ ہوا تو عدالت قانون اورمیرٹ کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا 25 اے کے معاملے پر ترمیم ہوگئی؟ کیا یہ معاملہ اب ختم ہوگیا ہے؟ جب کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ نیب آرڈیننس کا سیکشن 25 اے ختم ہوا یا اس میں ترمیم ہوئی؟ فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں میرا نیب آرڈیننس سے متعلق پرائیویٹ ممبربل موجود ہے، کمیٹی سے منظورز کے بعد معاملہ ایوان میں جائے گا، بل کے مطابق نیب کے آرڈیننس 25 اے کو مکمل طور پرختم کیا جارہا ہے۔فاروق ایچ نائیک کے دلائل پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم معاملہ نمٹانے لگے ہیں لیکن اگرآپ نے بحث کرنی ہے تو سیکشن 25 اے کو آئین سے متصادم ثابت کریں، کیا آپ کا مقف ہے کہ رضاکارانہ رقم کی واپسی کرنے والا شخص اپنا جرم بھی تسلیم کرے؟ کیا رضاکارانہ طور پررقم واپس کرنے والے شخص کو سزا یافتہ تصور کیا جائے؟ کیا نیب آرڈیننس کے سیکشن 25 اے سے اب بھی کوئی مستفید ہورہا ہے؟۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کا کہنا تھا کہ نیب کے بہت سے قوانین ہیں، آپ کا مقدمہ 25 اے سے متعلق ہے، اس حوالے سے بل حکومت کا نہیں بلکہ فاروق ایچ نائیک کا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے مزید ریمارکس دیے کہ نیب کا قانون ہے کہ پہلے انکوائری ہوگی پھر تحقیقات، 200 گواہ بنیں گے، اس طرح تو ملزم کے خلاف زندگی بھرکیس ختم نہیں ہوگا، کرپشن کی رقم واپس کرنے والوں کو نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑے گا، لوگوں کا پیسہ ہڑپ کرلیا جاتا ہے، سپریم کورٹ نیب کو پلی بارگین سے روک چکی ہے، جب تک پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کرلیتی یہ اختیار استعمال نہیں ہوگا۔ معزز چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نیب قانون کے معاملے کو زیادہ طول نہ دے، نیب قوانین میں ترامیم پارلیمنٹ کا کام ہے، سپریم کورٹ نے نیب کی کسی دفعات کو غیرآئینی قرار دیا تو نیب فارغ ہوجائے گی، کیا حکومت چاہتی ہے کہ نیب کے قانون کو فارغ کردیں، حکومت نے نیب آرڈیننس سےنیب کے پر کاٹ دیے ہیں، نیب میں دس دس سال کیس پڑے رہتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے حکومت کو تین ماہ کے اندر نیا نیب قانون لانے کی ہدایت کردی۔

نیلم کے 3دیہات برفانی تودے میں دب گئے ،14لاشیں نکال لیں،درجنوں لاپتہ ،سینکڑوں زخمی ،جاں بحق افراد کی تعداد 111ہو گئی

اسلام آباد، مظفرآباد، نیلم، پشاور، کوئٹہ (نمائندگان خبریں) پاکستان اور آزادکشمیر میں سردی کی حالیہ لہر کے دوران برفباری، بارشوں اور برفانی تودے گرنے سے مرنے والوں کی تعداد 111 تک پہنچ گئی ہے۔حکام کے مطابق تاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور شدید موسم کی وجہ سے ان کارروائیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ 76 ہلاکتیں آزادکشمیر میں ہوئی ہیں جبکہ بلوچستان میں 20 اور خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں دو، دو افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔مختلف واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 90 ہے جبکہ 213 رہائشی مکانات تباہ ہوئے ہیں۔کشمیر کے سیکرٹری سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی شاہد محی الدین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے 73 وادی نیلم ہوئیں جبکہ سندھنوٹی، کوٹلی اور راولاکوٹ میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ برفانی تودوں سے متاثرہ کچھ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں بدھ کو امدادی کارروائیوں کا آغاز ہوا ہے اس لیے خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔حکام کے مطابق نیلم میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان وادی سرگن میں ہوا ہے جہاں تین دیہات پر برفانی تودے گرے۔شاردہ کے تحصیلدار یاسر بخاری نے بتایا کہ وادی میں ان تودوں کی زد میں آ کر 39 سے زیادہ افراد جاںبحق ہوئے جبکہ دو تاحال لاپتہ ہیں۔ برفباری سے اپر نیلم ، لوات، ہلمت، تا بٹ، تیجیاں، ماناتھ، اور سرگن کے علاقوں میں لوگ زیادہ متاثر ہوئے۔ زیادہ نقصان سرگن کے علاقوں سرگن سیری، اور سرگن بگوال میں ہوا جہاں برفانی تودے گرنے سے لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ علاقہ نوری ٹاپ اور ناران کے ساتھ لگتا ہے۔ سرگن کے علاقوں میں پاکستان فوج کے جوان مقامی افراد کے ہمراہ امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ضلع نیلم کے ڈپٹی کمشنر شاہد محمود نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ نیلم کے متعدد دیہات شدید برفباری سے متاثر ہوئے ہیں ان کا زمینی رابطہ دارالحکومت مظفرآباد اور دیگر علاقوں سے بدستور منقطع ہے۔شدید برفباری کے باعث نیلم ویلی روڈ، باغ سے چیکر اور لسڈانا روڈز، لیپا ویلی روڈ اور دیگر مرکزی شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں متعدد مقامات پر ٹریفک کے لیے بند ہیں۔انھوں نے بتایا کہ برفانی تودے گرنے سے وادی نیلم کے ان علاقوں میں کم از کم 97 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں جبکہ 63 کے قریب مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 52 گھرانے شدید متاثر ہوئے ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق صوبہ بلوچستان میں مسلسل برفباری اور بارش کے باعث چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں اب تک 20 افراد جاںبحق ہو چکے ہیں جبکہ 23 زخمی ہیں۔ جاں بحق ہونے والے 20 افراد میں 12 خواتین اور سات بچے بھی شامل ہیں۔وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں طویل عرصے بعد ایک بڑے علاقے میں برفباری ہوئی ہے۔ بلوچستان کے جن اضلاع کے مختلف علاقوں میں برفباری ہوئی تھی ان میں قلات، مستونگ، کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ہرنائی پشین اور قلعہ عبد اللہ شامل ہیں۔ان سات اضلاع میں شدید برفباری کی وجہ سے سنو ایمرجنسی کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ انہی اضلاع کے مختلف علاقوں میں شاہراہیں اور دیگر رابطہ سڑکیں بند ہیں۔بلوچستان میں جن علاقوں میں سب سے زیادہ برفباری ہوئی ہے ان میں کان مہترزئی کا علاقہ بھی شامل ہے۔ کوئٹہ سے اندازا شمال مشرق میں سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس علاقے کا شمار سرد ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔برفباری کی وجہ سے اس علاقے میں تین سو کے قریب افراد پھنس گئے تھے جنھیں اب نکال لیا گیا ہے۔برفباری میں وقفے کے دوران مختلف شاہراہوں اور رابطہ سٹرکوں کو ہلکی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے تاہم پھسلن کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔ شمالی علاقے گلگت بلتستان کے بلتستان ڈویژن کے چاروں اضلاع سکردو، کھرمنگ ،گنگچھے اور ضلع شگر میں ہفتے کے روز سے مسلسل برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ شدید برف باری کے باعث نظام زندگی مفلوج ہے اور وہاں کے لوگ گھروں کو محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلتستان ڈویژن کے ہیڈکوارٹر سکردو سے باقی اضلاع کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے اور ایسے میں عوام کو سخت مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہے۔سکردو میں شدید برفباری کے باعث بجلی اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے، سکردو شہر میں تمام کارباری مراکز بھی 80 فیصد کے قریب بند ہیں جس کے باعث لوگوں کی اشیائے ضروریہ تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔بلتستان کے چاروں اضلاع کے سرکاری دفتروں میں ملازمین کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔بلتستان میں رواں برس سردی کی شدت میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، سکردو شہر میں درجہ حرارت منفی 21 تک ریکارڈ کیا گیا جبکہ بالائی علاقوں میں پارہ نقطہ انجماد سے منفی 28 تک گر گیا ہے جو کہ گزشتہ 30 برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے برف باری کے باعث بند شاہراہوں کو برف باری کا سلسلہ رکنے کے بعد کھولنے کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایت بھی جاری کر دی ہیں۔شدید برف باری اور خراب موسم کے باعث سکردو اور اسلام آباد کے درمیان پی آئی اے کی پرواز بھی کئی روز سے معطل ہے۔ وادی نیلم میں ایک اور برفانی تودہ گرنے سے ڈہکی چکناڑ میں 3 دیہات دب گئے، امدادی ٹیموں نے 14 لاشوں کو نکال لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق برفانی تودے میں درجنوں افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔گلگت بلتستان کے ضلع استور میں برف باری پھر شروع ہو گئی ہے، ایک مکان پر برفانی تودہ گرنے سے 2 بچے جاں بحق ہو گئے۔برفانی تودہ گرنے کا واقعہ استور کے علاقے قمری تھلی میں پیش آیا جہاں واقع ایک مکان پر برفانی تودہ گرنے سے 2 بچے جاں بحق اور 2 افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ادھر غذر میں برف باری تھم جانے کے بعد برفانی تودے گرنے کا سلسلہ جاری ہے۔گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ شدید برف باری کا 100 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ مری میں شدید برفباری کے باعث پک اپ وین نالے میں گر نے سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق مری دیول کے مقام پر پک اپ وین برساتی نالے میں گری جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے، ریسکیو اہلکاروں نے جاں بحق افراد کی لاشیں پانی سے نکال لی ہیں اور دیگر افراد کی تلاش کے لیے امدادی ٹیمیں آپریشن کررہی ہیں۔ گریس ویلی میں ڈھکی چکناڑ میں برفانی گلیشئر سے10 مکانات دب گئے،9 افراد جاں بحق14 شدید زخمی، دورافتادہ علاقہ اور رستوں کی بندش کے باعث ریسکیو کاکام شروع نہ ہو سکا۔ تھانہ پولیس تحصیل شاردہ کے ایس ایچ او محمد یعقوب کے مطابق ڈھکی چکناڑ میں برفانی تودے گرنے سے بڑی تعداد میں مکانات بھاری برف کے نیچے دب گئے ہیں۔ ڈھکی چکناڑ میں 15 فٹ سے زائد برف ہے گریس ویلی سے دس کلومیٹر مشرق کی طرف گاﺅں ایل او سی پر واقع ہے پیدل راستے بھی بند ہیں۔ خراب موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کی رسائی بھی نہیں ہو سکی ہے ۔ ابتدائی معلومات کے مطابق9افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میںخواتین اور بچے بھی شامل ہیں14افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں طبی امداد بھی نہیں مل سکی ہے متعدد افراد گھروں کے ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعدادمیں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے مزید دو دن موسم کی خرابی کی وجہ سے ریسکیو میں رکاوٹ رہے گی لیکن پولیس اور فوج کے اہلکار جان کی پروا کئے بغیر امدادی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔

خبریں،چینل ۵ کی خبر پر ایکشن ،شاہی قلعہ میں فاطمہ فرٹیلائزر کی طرف سے شادی ،ڈائریکٹر عہدے سے فارغ

لاہور (خصوصی ر پورٹر) شاہی قلعہ میں شادی کے معاملہ پر چینل 5 اور خبریں کی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے ڈائریکٹر شاہی قلعہ آصف ظہیر کو سیٹ سے ہٹا دیا گیا جبکہ ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب کو پیش کی گئی رپورٹ یں شاہی قلعہ میں شادی کی تقریب کی ذمہ داری والڈ سٹی اتھارٹی پر عائد کر دی گئی ہے۔ ای ڈی سی آر صفدر ورک اور اسسٹنٹ کمشنر تبریز ملک نے وقوعہ کا دورہ بھی کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے کوتاہی برتی گئی، اس لیے ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق والڈ سٹی اتھارٹی کے سینئر عہدیداروں نے کوتاہی برتی، وہ شادی کی تقریب کے حوالے سے آگاہ تھے۔ بظاہر شاہی باورچی خانے کی جگہ فاطمہ فرٹیلائزر کو دی گئی۔ فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی کو کاروباری سرگرمیوں کے لئے اجازت دینا بھی قانونی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ کمشنر کی رپورٹ میں متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کامران لاشاری نے معاملات پر غلط انداز میں میڈیا کو بریف کیا۔ والڈ سٹی اتھارٹی کے چیئرمین اور دیگر افراد پر قوانین کے برعکس اقدام کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا آزاد کشمیر کا دورہ، برفانی طوفان میں زخمی افراد کی عیادت

مطفر آباد: وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے برفانی تودے گرنے سے زخمی ہونے والے افراد سے اسپتال میں ملاقات کی۔وزیراعظم عمران خان اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے آزاد کشمیر کے دورے پر پہنچ گئے۔ انہوں نے سی ایم ایچ مظفرآباد میں زخمیوں کی عیادت کی۔زیراعظم کو وادی نیلم میں شدید برفباری سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور صدر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ عمران خان نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو حالیہ قدرتی آفت سے متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔واضح رہے کہ وادی نیلم میں برفانی تودے گرنے سے جاں بحق افراد کی تعداد67 ہوگئی ہے۔

بنگلا دیش کے دورہ پاکستان کا شیڈول طے ہو گیا

پاکستان اور بنگلا دیش کے کرکٹ بورڈز کے درمیان بنگلا دیش کے  دورہ پاکستان کا شیڈول طے ہو گیا ہے جس کے مطابق سیریز میں شامل 3 ٹی ٹونٹی، ایک ون ڈے اور 2 ٹیسٹ میچز پاکستان میں ہوں گے۔سیریز کے شیڈول کو حتمی شکل پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک ملاقات میں دی گئی جب کہ آئی سی سی کے چیئرمین ششانک منوہر نے سیریز کے شیڈول کو حتمی شکل دینے میں معاون کا کردار ادا کیا ہے۔نئے شیڈول کے مطابق بنگلا دیش کرکٹ ٹیم 24 سے 27 جنوری تک لاہور میں 3 ٹی ٹونٹی میچز کھیلے گی جس کے بعد مہمان ٹیم وطن واپس لوٹ جائے گی اور پھر واپس آ کر 7 سے 11 فروری تک راولپنڈی میں ایک ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2020 کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے درمیان ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ 3 اپریل کو کراچی میں کھیلا جائے گا جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل دوسرا ٹیسٹ میچ 5 سے 9 اپریل تک کراچی میں ہی ہوگا۔چیئر مین پی سی بی احسان مانی نے بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے شیڈول کو حتمی شکل دینے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ششانک منوہر کی معاونت کے مشکور ہیں۔چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خانکا کہنا ہے کہ نئے شیڈول کی تیاری دونوں بورڈز کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیڈول کے مطابق بنگلا دیش کرکٹ ٹیم تین مرتبہ پاکستان آئے گی جو اس بات کا ثبوت ہےکہ پاکستان ایک پرامن اور محفوظ ملک ہے۔

جہاز نے ہنگامی لینڈنگ کے دوران اسکولوں پر تیل گرادیا، طلبہ متاثر

لاس اینجلس: امریکی مسافر طیارے نے ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران کئی اسکولوں پر تیل گرادیا جس سے طلبہ سمیت 60 افراد متاثر ہوئے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی مسافر طیارے نے لاس اینجلس انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کی اور اس دوان طیارے نے تیل خارج کیا جو کئی اسکولوں پر جاگرا۔برطانوی میڈیا کے مطابق طیارے سے تیل خارج ہونے کے باعث کم از کم 60 افراد متاثر ہوئے جن میں زیادہ تعداد اسکول کے بچوں کی ہے جب کہ تیل گرنے سے ان کی جِلد پر خارش پھیل گئی اور سانس لینے میں شدید دشوار بھی پیش آئی۔امریکی ائیرلائن پرواز بھرنے کے بعد انجن میں پیدا ہونے والے نقص کے باعث واپس ائیرپورٹ کی جانب مڑی اور ہنگامی لینڈنگ کی جب کہ طیارے سے خارج ہونے والا تیل تقریباً 6 مقامی اسکولوں پر گرا جس کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد فراہم کردی گئی ہے اور ان کے زخموں کی نوعیت معمولی بتائی جارہی ہے۔لاس اینجلس ائیرپورٹ سے 16 میل کے فاصلے پر قائم پارک ایلمنٹری اسکول پر جب تیل گرا تو دو کلاسیں اسکول کے بیرونی احاطے میں موجود تھیں۔امریکی ائیرلائن نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسافر طیارے نے ہنگامی لینڈنگ کے وقت جہاز کا وزن کم کرنے کے لیے تیل خارج کیا۔امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے ترجمان نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور اس کے اسباب کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی لینڈنگ کے وقت جہاز کے تیل کے اخراج کے لیے خصوصی طریقہ کار موجود ہے جنہیں امریکا کے بڑے ائیرپورٹ کے اندر اور باہر سے آپریٹ کیا جارہا ہے، اس طریقہ کار کے تحت تیل کا اخراج طے شدہ غیر آبادی والے علاقوں پر کیا جاتا ہے جب کہ ہنگامی حالت میں تیل کا اخراج جہاز کے زمین پر پہچنے سے پہلے کیا جاتا ہے۔

‘میرے پاس تم ہو’ کی آخری قسط سینما گھروں میں دکھانے کا اعلان

اس وقت اگر پاکستانی ٹیلی ویژن انڈسٹری کا کوئی ڈراما سب سے زیادہ مقبول ہورہا ہے تو وہ ‘میرے پاس تم ہو’ ہے۔اس ڈرامے کی اب تک 22 اقساط سامنے آچکی ہیں جبکہ آخری قسط 25 جنوری کو سامنے آئے گی۔ور اب پروڈیوسرز نے ‘میرے پاس تم ہو’ کی آخری ڈبل ایپیسوڈ صرف اے آر وائے ڈیجیٹل پر ہی نہیں بلکہ سینما گھروں میں دکھانے کا بھی اعلان کردیا۔اے آر وائے ڈیجیٹل کے فیس بک پیچ کے ذریعے اس خبر کا اعلان کیا گیا۔پوسٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈرامے کا اختتام ہونے جارہا ہے اور اس کی آخری قسط اے آر وائے ڈیجیٹل کے ساتھ ساتھ سینما گھروں میں بھی نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔خیال رہے کہ ‘میرے پاس تم ہو’ کی کہانی خلیل الرحمٰن قمر نے تحریر کی جبکہ اس کی ہدایات ندیم بیگ نے دی ہے۔ڈرامے میں ہمایوں سعید، عائزہ خان اور عدنان صدیقی نے مرکزی کردار نبھائے جبکہ شیث گل، حرا مانی، انوشے عباسی، سویرا ندیم، مہر بانو اور سید محمد احمد نے اہم کردار نبھائے

ممبئی میں بھارت آؤٹ کلاس، آسٹریلیا 10وکٹوں سے کامیاب

آسٹریلیا نے کپتان ایرون فنچ اور ڈیوڈ وارنر کی شاندار سنچریوں کی بدولت بھارت کو پہلے ون ڈے میچ میں آؤٹ کلاس کرتے ہوئے 10وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔ممبئی میں کھیلے گئے تین میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا جو درست ثابت ہوا اور خطرنکا اوپننگ بلے باز 13 کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئے۔اس کے بعد شیکھر دھاون کا ساتھ دینے لوکیش راہول آئے اور دونوں کھلاڑیو نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے دوسری وکٹ کے لیے 121رنز جوڑے۔اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب راہول 47رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے جبکہ مجموعی اسکور میں 6رنز کے اضافے سے دھاون کی 47رنز کی اننگز بھی اختتام کو پہنچی۔تاہم بھارت کو اصل دھچکا اس وقت لگا جب کپتان ویرات کوہلی صرف 16رنز بنانے کے بعد ایڈم زامپا کی گیند پر انہی کو کیچ دے بیٹھے جبکہ شریاس آئیر بھی صرف 4رنز بنا سکے۔164 رنز پر آدھی ٹیم کے آؤٹ ہونے کے بعد رویندرا جدیجا اور ریشابھ پانٹ نے کچھ مزاحمت کی اور 49رنز کی شراکت قائم کی لیکن دونوں بلے باز یکے بعد دیگرے 25 اور 28رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد چلتے بنے۔اس کے بعد بھارتی ٹیم زیادہ رنز بنانے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم آخری اوور میں 255 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔آسٹریلیا کی جانب سے تینوں فاسٹ باؤلرز نے عمدہ باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور مچل اسٹارک تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ پیٹ کمنز اور کین رچرڈسن نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔256 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ڈیوڈ وارنر اور فنچ نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے اپنی ٹیم کو بہترین آغاز فراہم کیا اور تمام بھارتی باؤلرز کی خوب درگت بنائی۔دونوں کھلاڑیوں نے کسی بھی قسم کا چانس دیے بغیر اپنی اپنی سنچریاں مکمل کیں اور 74 گیندوں قب ہی ہدف حاصل کر کے ممبئی کے وینکھیڈے اسٹیڈیم میں موجود شائقین کو سکتہ طاری کردیا۔مین آف دی میچ وارنر نے 112 گیندوں پر 3 چھکوں اور 17 چوکوں کی مدد سے 128 جبکہ فنچ نے دو چھکوں اور 13 چوکوں کی مدد سے 110 رنز بنائے۔اس میچ میں فتح کی بدولت آسٹریلیا نے تین میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔

دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا میچ 17 جنوری کو راجکوٹ میں کھیلا جائے گا

مریم نواز کا نام دوسری مرتبہ ای سی ایل میں ڈال دیا گیا

وفاقی کابینہ نے چوہدری شوگر ملز کے مقدمے میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کا نام دوسری مرتبہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) میں ڈال دیا ہے۔منگل کو منعقدہ اجلاس کے بعد وفاقی کابینہ کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجویز پیش کی جسے کابینہ نے منظور کر لیا۔مزید پڑھیں: ‘کیا مریم نواز ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر والد کی تیمار داری کریں گی’اس سے قبل قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز کے ریفرنس میں بھی مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا تھا۔مریم نے عدالت میں ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لندن جانا چاہتی ہیں تاکہ اپنے والد کی تیمارداری کر سکیں۔ای سی ایل کے معاملات دیکھنے والی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے 28دسمبر کو مریم نواز کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کو صحت سے متعلق رپورٹس 48گھنٹے میں فراہم کرنے کی ہدایتتاہم کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی تھی کہ مریم کا نام دوسری مرتبہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے دوران مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر یا مقدس گائے نہیں

مشکلات میں گھری اپوزیشن حکومت گرا کر مقدمات سے جان چھڑانا چاہتی ہے،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سیاست میں اراضگی معمول کی بات ہے لیکن نظر آتا ہے کہ کچھ لوگ پی ٹی آئی کے رویے سے شاکی ہیں اور اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے کہ ان کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ اب اختر مینگل سے لے کر پرویز الٰہی تک جو خود تو نہیں بات کرتے لیکن وہ سپیکر ہیں لیکن وہ بہاولپور کے جو اپنے ایم این اے ہیں ان کی زبان سے بولتے ہیں ان سے اس قسم کی شکایات آتی رہتی ہیں بہرحال مقبول صدیقی پہلے ہی کابینہ چھوڑ چکے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم حکومت نہیں چھورے گی اور نہیں چاہے گی کہ حکومت ٹوٹے لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ بات برائے بات ہے ورنہ دراصل یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس قسم کے معاملے میں لندن میں شہباز شریف بھی تحریک عدم اعتماد لانے کی فکر میں ہی لگتا ہے کہ آخری ریزارٹ کے طور پر عمران خان باری باری سب سے بات کریں گے۔ اس سلسلے میں ایم کیو ایم کایہ نقطہ نظر بھی سامنے آ گیا کہ وہ ملاقات بھی نہیں کریں گے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناراضیاں کچھ زیادہ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی بڑی تبدیلی کا پییش خیمہ بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ معمول کے مطابق یہ معاملات ناراضگیوں پر ختم ہو جائیں اور دوبارہ معاملات ٹھیک ہو جائیں۔ اس افواہ بارے کہ معاملہ صدارتی نظام کی طرف جا رہا ہے یا صدارتی نظام نافذ ہو گا اور ایمرجنسی کے بارے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی پیش گوئی مناسب نہیں آنے والے حالات سیاسی سرگرمیوں کا مرکز کراچی ہے۔ لندن میں جو کچھ ہو رہا ہے جس طرح سے شہباز شریف حکومت کی تبدیلی کی کوششیں کر رہے ہیں زیادہ بہتر نہیں ہو گا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس بنیاد پر اس معاملے کو لے۔ اگر واقعی نوازشریف اتنے بیمار تھے اور ان کو 2دن کے اندر بوسٹن پہنچنا تھا ان کے ٹیسٹ ہونا تھے۔ یہاں تو وہ ایک ایک گھنٹہ گن رہے تھے جبکہ وہ لندن جا کر فروکش ہو گئے ہیں باقاعدہ سیاست کر رہے ہیں حالانکہ ان کو منع کیا گیا ہے۔ کیا پی ٹی آئی کا سیاسی وِنگ کمزور پڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ڈلیور نہیں کر رہی ہے اور کارکردگی میں سب صوبوں سے پیچھے ہے مگر پی ٹی آئی وہاں ان کی پوزیشن کمزور نہیں کر سکی۔ سیاست میں بہت ساری باتیں کہی جاتی ہیں سب کی سب مانی نہیں جاتیں، بنیادی طور پر اپوزیشن مشکلات میں ہے اور اپوزیشن کا حکومت میں آنا اتنا ہی ضروری ہے تا کہ وہ سارا احتسابی عمل حتم کر کے دوبارہ معمول پھر لا سکے۔ اس لئے میرے خیال میں ٹائی اس بات پر پڑی ہوئی ہے کہ کیا اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے یا حکومت کامیاب ہوتی ہے البتہ حکومت نے ایک سال میں اتنی کوتاہیاں ہوئیں مثال کے طور پر مہنگائی صوبائی حکومتوں کا معاملہ ہوتا ہے پی ٹی آئی کی دو صوبوں میں حکومت ہے حکومت ان دو صوبوں میں حالات کو مثالی نہیں رکھ سکی۔لہٰذا یہ لگتا ہے کہ عوام کی طرف سے جو عنصر پایا جاتا ہے وہ دراصل حکومت کی بیڈگورننس کی وجہ سے ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے ایک خط لکھ کر صدر پاکستان کے پاس رکھ دیا ہے کیا صدر ان معاملات کو ڈیل کر لیں گے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ وہ صدر پاکستان آخری آدمی ہیں ان کو ڈیل کرنا پڑے گا اس کے بعد تو پھر کوئی اور آدمی رہ نہیں جاتا۔ سیاسی منظر نامہ 50,50 کا معاملہ چل رہا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ اپوزیشن بہت مضبوط ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی کاررکردگی مثالی نہیں۔ صرف آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ ہی دیکھ لیں اس میں جتنی حکومت کی جتنی پوزیشن خراب عدلیہ کے سوالات نے کی اور کسی نے بھی نہیں کی۔ لہٰذا عدلیہ کے سوالات نے ثابت کردیا کہ حکومت جو ہے وہ اہل نہیں ہے حالانکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ بات صحیح ہو۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ بہرحال اس کے باوجود مجھے وہ جونیئر کلرک بھی نظر نہیں آئے جن کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا ہو۔ کہ ان کی وجہ سے مسودے میں غلطیاں تھیں یا بار بار اغلاط ہو رہی تھیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ حکومت خود بھی زیادہ سنجیدہ نہیں ہے۔ پرانی حکومت کا جو دور تھا اس میں وہ چھوٹا سا کام کرتے تھے اور بڑھا چڑھا کر پیش کرتے تھے جبکہ موجودہ حکومت نے اپنے ایک سال میں خاص طور پر پبلسٹی اور پروجیکشن پر اتنی کم توجہ دی ہے کہ اب آ کر تھوڑی سی کمی پوری ہوتی نظر آتی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت کا جو سٹائل خاص طور پر پنجاب میں رائج رہا ہے وہ یہ تھا کہ اگر کہیں چھوٹاسا بھی واقعہ ہو جاتا تو چیف منسٹر خود وقت پر پہنچ جاتا اور ہمارے جو موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب ہیں معلوم نہیں وہ بہت اچھا کام کر رہے ہوں وہ بالکل اس بات سے غیر متعلق ہیں کہ ان کو زیادہ پروا نہیں ہے کہ مارکیٹ میں کیا ویلیو جا رہی ہے۔ اس وقت جو حالات نظر آ رہے ہیں تحریک انصاف کی لیڈر شپ کی غلطیوں یا کوتاہیوں کا تعلق ہے یا آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ واقعی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ ایک سال کے اندر حکومت کی وہ پوزیش ہو گئی ہے جو عام طور پر حکومت کے چوتھے سال میں ہوتی ہے۔ نئے الیکشن کا مطالبہ چوتھے سال ہوتا ہے جو ایک سال کے اندر ہی شروع ہو گیا ہے۔ اتحادی جماعتوں کی شکایات ہیں۔ حکومت کیوں ساتھ نہیں رکھ سکی۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی ہو یا ن لیگ ہو کا جو نقطہ نظر جلد سے جلد اس حکومت کا خاتمہ ہے تا کہ اس حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کی رہائیاں عمل میں آئیں گی اور نیب کا خاتمہ ہو گا اور ان کے لئے مشکل وقت ختم ہو جائے گی۔ وہ سیاست نہیں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ نوازشریف کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایک دن بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ جلدی امریکہ پہنچا تھا لیکن اتنی دیر سے لندن میں اپنے گھر میں بیٹھے ہیں۔ ایک طریقے سے دونوں طرف مقابلہ ہے حکومت کے مقابل وہ ساری فورسز ہی پیپلزپارٹی، ن لیگ، فضل الرحمان، جماعت اسلامی بی این پی، متحدہ لندن بھی اس میں موجود ہے کہتے یہی ہیں کہ ہمارا ایم کیو ایم لندن سے تعلق نہیں ہے لیکن بہت لوگ جانتے ہیں کہ بہت گہرے رشتے دونوں کے درمیان استوار ہیں۔ اب اصل میں مکمل طور پر اکیلی کھڑی ہے اور حلیف جماعتیں زیادہ سے زیادہ اپنی شرائط منوانے کے لئے ان کو کمزور حالت میں دیکھنا چاہتی ہیں اور اپنی باتیں منوانا چاہتی ہیں، اگر کچھ لوگ حکومت سے ناراض ہیں تو دوسری طرف بھی جا سکتے ہیں۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی حکومت بہت کم مارجن پربنی تھی۔تحریک عدم اعتماد پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ کامیاب ہو گی یا نہیں ہو گی اگر ایسا ہوا تو سارا پانسہ ہی پلٹ جائے گا اور جو آج ولن ہیں وہ کل کے ہیرو ہوں گے جو آج کے ہیرو ہیں وہ کل کے ولن ہوں گے۔ جس طرح سے نیب کے سرکردہ لوگوں کو نیب کا سست روی کا اندازہ ہے سال گزرنے کے باوجود وہ کوئی زیادہ نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ نظر آ رہا ہے کچھ بھی نہیں ہو رہا حالانکہ بہت کچھ ہو بھی رہا ہے۔