اسحاق ڈار کے گلبرگ میں بنگلہ کی 28جنوری کو نیلامی ،ساڑھے 18کروڑ سے بولی شروع ہو گی

لاہور (نامہ نگار)سابق وزیر خزانہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما محمد اسحاق ڈار کے لاہور کے علاقہ گلبرگ میں واقع چار کنال 17مرلے پر مشتمل گھر کو نیلام کرنے کے لئے اشتہار دے دیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق کوٹھی کی نیلامی 28جنوری بروز منگل دن 12بجے ہو گی۔ ڈی سی لاہور دانش ا فظال کی نگرانی میں نیلامی کا پنڈال ہجویری ہاﺅس میں لگایا جائے گا۔ 12کمروں پر مشتمل چار کنال 17مرلے کی کوٹھی کی سرکاری بولی 18کروڑ50لاکھ روپے مقررکی گئی ہے۔ کامیاب بولی دہندہ کو 25فیصدرقم فوری جمع کروانا ہوگی جبکہ بقایا رقم سات یوم کے اندر، اندر جمع کروانا ہوگی۔ ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ کوٹھی کی نیلامی عدالتی احکامات پر کروائی جارہی ہے ۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع 4 کنال 17 مرلے کا گھرنیلا م کرنے کےلئے اشتہاری جاری کردیا گیا ،7 ایچ گلبرگ ہجویری ہاﺅس کی نیلامی 28 جنوری کو 12 بجے ہوگی۔ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضال کی نگرانی میں نیلامی کا پنڈال ہجویری ہاﺅس میں لگایا جائے گا، 12 کمروں پر مشتمل 4 کنال 17 مرلے کی کوٹھی کی سرکاری بولی 18 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر ہے۔کامیاب بولی دہندہ کو 25 فیصد رقم فوری جمع کروانا ہو گی جبکہ باقی رقم 7 یوم کے اندر جمع کروانا ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر دانش افضال کا کہنا ہے عدالتی احکامات پر اسحاق ڈار کی کوٹھی کی نیلامی کروائی جا رہی ہے۔

ن لیگ نے لیٹ کر بوٹ کو عزت دی، فیصل واوڈا پروگرام میں بوٹ لے آئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نجی ٹی وی کے پروگرام میں ہاتھ میں بوٹ لے کر آگئے۔نجی ٹی وی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا بوٹ لے کر آئے۔ انہوں نے بوٹ ہاتھ میں پکڑ کر ن لیگ اور پارٹی کے حوالے سے انتہائی سخت انداز اپنایا اور کٹیلے سوالات کیے جس پر لیگی رہنما جاوید عباسی اور پی پی رہنما قمر زمان کائرہ پروگرام سے اٹھ کر چلے گئے۔دونوں رہنماں کے پروگرام سے جانے پر فیصل واوڈا نے تبصرہ کیا یہ یہی کرسکتے ہیں، 35 سال سے یہ جو سمجھتے آئے ہیں وہی سمجھ رہے ہیں، یہ چور لٹیرے ہیں ، اپنا مطلب ہو تو لیٹ جاتے ہیں، یہ لوگ ہمیشہ الیکشن چوری کرکے اقتدار میں آئے آج میں نے ان کو بے نقاب کیا اس لیے پروگرام سے چلے گئے۔ فیصل واوڈا نے سابق وزیر اعظم کی صحت کے حوالے سے کہا کہ نواز شریف کے باہر جانے سے پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ وہ بیمار نہیں ہیں بلکہ باہر بھاگنے کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں، پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ نواز شریف کی بیماری ڈرامہ ہے۔ مریم نواز کس کی عیادت کرنے بیرون ملک جانا چاہتی ہیں؟ مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے۔ پیپلزپارٹی کے قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ اگر بوٹ سامنے رکھ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ جو کرایا ہے فوج نے کرایا ہے تو ان کے کہنے کا مطلب ہے پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے ان کے کہنے پر نہیں فوج کے دباﺅ پر ووٹ دیا ہے۔

بارشیں برفباری جاری،راستے بند ،جاں بحق افراد کی تعداد 93ہوگئی ،تودہ گرنے سے 3گاڑیاں تباہ

اسلام آباد /کوئٹہ /مظفر آباد /نیلم /پشاور (نمائندگان خبریں)آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت شدید بارش اور پہاڑوں پر برف باری کے باعث مختلف حادثات کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد93ہوگئی برفانی تودہ گرنے سے 3 گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں، بلوچستان ، سکھر ،راجن پور میں بھی 21افراد زندگی کی بازی ہار گئے ،گلگت بلتستان میں کئی فٹ تک برف کی تہہ جم چکی ہے، بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں جس کے باعث مختلف علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ،دیامر اور استور میں شدید برف باری کے بعد اسنو ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ،چترال میں ڈھائی فٹ برف پڑنے کے بعد لواری ٹنل بند ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کی وادی نیلم، لیپا، کیل ، مظفر آباد، نکیال میں بارش اور برف باری کا سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا ،شدید برف باری کے دوران وادی نیلم میں پانچ مقامات پر برفانی تودے گرنے سے 55سے زائد افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے ۔این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق حالیہ بارشوں اور برفباری میں آزاد کشمیر میں 55جاں بحق ہوئے۔ترجمان نے بتایاکہ نیلم میں سورنگن گاو¿ں میں 19 افراد برفانی تودہ میں دب کر جاں بحق ہوئے جبکہ 10افراد ابھی تک لا پتہ ہیں،4زخمیوں کو نکال لیا گیا ، ترجمان کے مطابق آخری اطلاعات تک باقی زخمی افراد کو نکالنے کے لئے کوششیں جاری تھیں،برف میں پھنسے ہوئے افراد کو بذریعہ ہیلی کاپٹر نکالنے کے لئے انتظامات کر نے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ متاثرین کے لیے راشن اور ٹینٹ مظفر آباد سے بھیج دیئے گئے ادھر میڈیا رپورٹ کے مطابق پلندری میں مکان کی دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں کئی فٹ تک برف کی تہہ جم چکی ہے، بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں، دیامر اور استور میں شدید برف باری کے بعد اسنو ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ادھرمانسہرہ کی وادیوں کاغان، ناران اور شوگران میں بھی برف باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ،کوہستان کے قریب لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہِ قراقرم کئی مقامات پر بند ہو گئی، جہاں سینکڑوں مسافر گاڑیوں میں پھنس گئے ادھرملکہ کوہسار مری میں مسلسل برف باری سے نظامِ زندگی مفلوج ہوگیا، نتھیا گلی، ایوبیہ، چھانگلہ گلی میں مرکزی سڑک سمیت تمام رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں جس کے باعث کئی علاقوں کا آپس میں زمینی رابطہ منقطع ہوگیا دوسری جانب چترال میں ڈھائی فٹ برف پڑنے کے بعد لواری ٹنل بند ہو گئی ہے۔مالاکنڈ ڈویژن سمیت قبائلی اضلاع باجوڑ، خیبر، مہمند، اورکزئی اور وزیرستان میں بھی برف باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ادھر راجن پور اور سکھر میں بارش کے باعث مکانات کی چھتیں گرنے سے 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش کے دوران ژوب، پشین اور خانو زئی میں چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 بچوں سمیت 17 افراد جاں بحق ہوئے ۔پی ڈی ایم اے حکام نے تصدیق کی کہ بلوچستان میں برفباری کے دوران مختلف واقعات میں 17افرادجاں بحق ہوئے ہیں جن میں 11خواتین اور 6 بچے شامل ہیں ، 13افراد زخمی بھی ہوئے حکام نے بتایا کہ ژوب میں مکان کی چھت گرنے کے دوواقعات میں 8 افرادجاں بحق اور4 زخمی ہوئے جن میں میں 4 خواتین اور4 بچے شامل ہیں۔قلعہ عبداللہ میں مکان کی چھت گرنے سے 5 خواتین جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے جب کہ پشین میں مکانات گرنے کے 2 واقعات میں ایک خاتون اور دوبچے جاں بحق ہوئے اس کے علاوہ کوئٹہ میں مکان کی چھت گرنے کے واقعے میں ایک خاتون جاں بحق اور چاربچے زخمی ہوگئے۔پی ڈی ایم اے نے بریفنگ میں بتایا کہ تربت، چاغی، نوشکی میں بارشوں سے مکانات کو بھی خوب نقصان پہنچا ۔ ادھر کوڑک ٹاپ پر 20 کلومیٹر کے علاقے میں کوئٹہ چمن شاہراہ سے برف صاف کر دی گئی اور 3 روز سے بند شاہراہ ابتدائی مرحلے میں ون وے لائٹ ٹریفک کےلئے کھول دی گئی ۔گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں چوتھے روز بھی برف باری کا سلسلہ جاری رہا ، تمام زمینی رابطے منقطع ہونے کے باعث شہریوں اور انتظامیہ کو شدید دشواری کا سامنا کر نا پڑا۔پاراچنار میں برف باری کے باعث بجلی کا نظام متاثر ہو گیا اور وسطی کرم میں آمد و رفت کے راستے بھی بند ہو گئے ۔شمالی وزیرستان کی وادی رزمک میں ہونےوالی برف باری دیکھنے کےلئے سیاح بڑی تعداد میں پہنچ گئے تاہم سہولتیں نہ ہونے کے باعث انہیں پریشانی کا سامنا کر نا پڑا۔دوسری جانب پی ڈی ایم اے کے مطابق کان مہترزئی اور خانوزئی میں برفیلے طوفان میں پھنسے تمام مسافروں کو ریسکیو کرلیا گیا۔ریسکیو کا کام 24 گھنٹے جاری رہا، تمام پھنسے افراد کو نکالنے کے بعد 400 سے زائد افراد کو خانوزئی مسلم باغ منتقل کردیا گیا۔شیرخوار بچوں اورخواتین سمیت سیکڑوں افراد منفی چودہ ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید ترین سردی میں گھنٹوں گاڑیوں میں پھنسے رہے ساتھ ہی کھانے پینے کا سامان اور گاڑیوں کا ایندھن ختم ہونے سے بھی پریشانی کا سامنا رہا۔ریسکیو آپریشن کے باوجود کان مہتر زئی مرکزی شاہراہ آمدو رفت کےلئے بندرہی اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ کان مہترزئی میں درجنوں خالی گاڑیاں اب بھی پھنسی ہوئی ہیں،مرکزی شاہراہ کھولنے کے لیے آپریشن کلین اپ جاری رہا۔لک پاس کے مقام پرکوئٹہ۔ کراچی شاہراہ کوچھوڑی گاڑیوں کےلئے کلیئرکردیا گیا ہے مگر لک پاس اورخوجک پاس بھاری ٹریفک کےلئے بحال نہ ہو سکی پی ڈی ایم اے کی ہدایت پر برف باری والے علاقوں میں مختلف رابطہ سڑکیں بھاری ٹریفک کے لئے تاحال بند ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے مطابق بلوچستان کی تاریخ میں شاید اتنی شدید برفباری پہلے نہیں ہوئی اس لیے مشکل صورت حال کا سامنا ہے، صوبے میں 800 کلومیٹرکے علاقے میں برفباری ہوئی ہے، کان مہترزئی برف باری سے شدید متاثر ہوئے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوڑک ٹاپ پر 20 کلومیٹر کے علاقے میں کوئٹہ چمن شاہراہ سے برف صاف کردی گئی ہے اور تین روز سے بند شاہراہ ابتدائی مرحلے میں ون وے لائٹ ٹریفک کےلئے کھول دی گئی ہے۔

بھارت میں مسلمانوں پر حملے درجنوں گھر نذر آتش مسجد پر بھی دھاوا ،مودی کے خلاف کئی شہروں میں دھرنے

بنگلور‘ ممبئی‘ نئی دہلی‘ کولکتہ (نیٹ نیوز) آسٹریلیا کی ٹیم ون ڈے سیریز کھیلنے کےلئے بھارت میں موجود ہے ہاں پر دونوں ٹیموں کے درمیان پہلے ون ڈے کے دوران شائقین کی بڑی تعداد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے منظور کیے گئے کالے متنازع شہریت قانون کےخلاف احتجاج کرنے لگی۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف سے کالے قانون کی منظوری کے بعد بھارت میں پر تشدد مظاہرے اور احتجاج شروع ہو گئے ہیں، اب تک تقریبا 35 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں، زیادہ تر ہلاکتیں ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہوئیں جہاں پر بھارتی وزیراعظم گجرات کی طرح کی پالیسیاں اپناتے ہوئے لوگوں کو مروا رہے ہیں، ان مظاہروں کے دوران بھارتی پولیس نے براہ راست مظاہرین پر فائرنگ بھی کی۔ سماجی رابطے ویب سائٹ ٹویٹر پر دیکھا جا سکتا ہے کہ شہریوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے منظور کیے گئے متنازع کالے قانون کےخلاف احتجاج کیا، واکھنڈے سٹیڈیم میں نو این آر سی اور نو سی اے اے کی شرٹس پہن کر آگئے۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے متنازع قانون واپس لینے کی صدائیں بلند کیں، واکھنڈے سٹیڈیم میں زیادہ تر تعداد طالبعلموں کی تھی جنہوں نے کہا کہ ہمیں این آر سی، سی اے اے بل کسی صورت بھی منظور نہیں۔ بھارتی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور کے کاروباری مرکز میں منگل کو ترمیمی شہریت قانون اور نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزنز کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران عمارتوں کی دیواروں پر متنازعہ قانون کے خلاف نعروں کے ساتھ ساتھ ”فری کشمیر“ کے نعرے بھی دیکھے گئے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ نعرے بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کی طرف سے بھارت مخالف نعرے لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی وراننگ دیئے جانے کے ایک دن بعد سامنے آئے۔ اس موقع پر ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں اس بارے میں ابھی پتہ چلا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کام کون کرسکتا ہے۔ شرنگر پلازہ کی دیواریں اور شٹرز ان نعروں سے بھرے ہوئے تھے یہ نوجوانوں کی ایک پسندیدہ جگہ ہے جہاں وہ اکثر تصاویر، سیلفیز اور شوقیہ میوزک اور ڈانس کی ویڈیوز بناتے ہیں۔ بھارت میں شہریت ترمیمی قانون کیخلاف ظلم وجبر کے باوجود شہر شہر مظاہرے تھم نہ سکے۔ بھارت کے صوبہ تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کے شہر بھینسہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق عادل آباد کے مسلم اقلیتی علاقہ میں قتل و خون کا بازار گرم ہوگیا۔ علاقے میں مسلمان کسی اجتماع میں شریک تھے کہ ہندو انتہا پسندوں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر مسجد پر دھاوا بول دیا ۔ مسجد پر پتھراﺅ کیا اورموذن کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مسلمانوں کے گھروں کو جلا دیا گیا جس میں تقریبا 35 گھروں کے جلنے کی خبر آئی ہے۔ پورا شہر فوجی چھاﺅنی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ انٹرنیٹ سروس معطل ہوچکی ہے۔ ادھر مغربی بنگال میں بی جے پی کے صدر اور رکن اسمبلی دلیپ گھوش نے ریلی سے خطاب میں کہا ہے کہ جن ریاستوں میں ان کی جماعت بی جے پی کی حکومت ہے وہاں شہریت ترمیمی ایکٹ کےخلاف احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو گولیاں ماری گئیں۔ نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)کے طالب علموں کا شہریت کے کالے قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے، یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کو چننا ہماری بڑی غلطی تھی، ہم نے جس حکومت کو چنا تھا وہ ہی ہمیں کاٹ کھانے کو آرہی ہے، دوسری جانب نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علموں نے وائس چانسلر کے گھر کے باہر احتجاج کیا اور 15 دسمبر 2019 کے واقعے کی ایف آئی آر پولیس کیخلاف درج کرانے کا مطالبہ کیا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالب علموں کا شہریت کے کالے قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے، یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ ہم نے جس حکومت کو چنا تھا وہ ہی ہمیں کاٹ کھانے کو آرہی ہے۔بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور بھارت کے مختلف شہروں میں شہری مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ بھارتی ریاست کیرالہ کی حکومت نے متنازع شہریت قانون کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرالہ نے بی جے پی کی مرکزی حکومت کی جانب سے منظور کردہ قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ کیرالہ وہ پہلی بھارتی ریاست ہے جس نے متنازع شہریت قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جبکہ اس حوالے سے عدالت عظمی میں تقریبا 60 درخواستیں پہلی ہی زیر سماعت ہیں۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 131 کے تحت دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) آئین کی متعدد شقوں بشمول مساوات کےخلاف ہے اور دستور کے بنیادی اصول سیکولر ازم سے متصادم ہے۔بھارت کے صوبہ تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کے شہر بھینسہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عادل آباد کے مسلم اقلیتی علاقہ میں قتل و خون کا بازار گرم ہوگیا۔ علاقے میں مسلمان کسی اجتماع میں شریک تھے کہ ہندو انتہا پسندوں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر مسجد پر دھاوا بول دیا۔ مسجد پر پتھراﺅ کیا اور موذن کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مسلمانوں کے گھروں کو جلا دیا گیا جس میں تقریباً 35 گھروں کے جلنے کی خبر آئی ہے۔ پورا شہر فوجی چھاﺅنی میں تبدیل ہو چکا ہے۔انٹرنیٹ سروس معطل ہوچکی ہے۔مغربی بنگال کے14 فنکاروں نے بھی مودی سرکار کےخلاف تحریک چلادی ۔تفصیلات کے مطابق متنازع شہریت قانون کے خلاف بالی ووڈ کے بڑے نام احتجاج تو دور اس پر بات کرنے سے بھی گبھراتے نظر آئے لیکن بھارتی ریاست کیرالہ میں فنکار قانون کے خلاف اس احتجاج میں آواز بلند کرتے نظر آئے ۔ حال ہی میں مغربی بنگال کے 14 فنکاروں نے قانون کے خلاف تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ ان فنکاروں میں کونکناسین، سبایا ساچی چکرا بورتے، سواستکا مکھرجی، تلوتاما شوم، نندنا سین، دھیرتی مین چیٹرجی، روپم اسلام سمیت دیگر فنکار شامل ہیں۔ نوبل انعام یافتہ امریتا سین بھی مودی کے خلاف سراپااحتجاج ہیں۔ بھارتی ریاست کیرالہ شہریت ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی پہلی ریاست ہے۔ بھارت کی کئی مشہور شخصیات اور صحافی جن میں مہیش بھٹ، پوجا بھٹ راجدیپ سردسائی اور دیگر نے ٹوئٹر کے ذریعے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

قومی سلامتی ،مادر وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،آرمی چیف

راولپنڈی (بیورورپورٹ) آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے دوٹوک مو¿قف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی اور مادروطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی زیر صدارت کورکمانڈرز کانفرنس ہوئی، اجلاس میں خطے اور ملکی سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان بھی اجلاس میں زیرغور آیا، اس دوران مشرق وسطی کی صورت حال بالخصوص امریکا ایران تنازعے پر بات چیت ہوئی، بھارت کا غیرذمہ دارانہ بیان خطے کے امن واستحکام پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ خطے میں امن واستحکام کے لیے پاکستان نے بھرپور کردار ادا کیا ہے، قومی سلامتی اور مادروطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ملک کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان امن و استحکام کی کوششوں میں خطے کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ فعال ہے۔ان خیالات کا اظہار پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں ہونے والی کور کمانڈرز اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران جیو سٹرٹیجک، مشرق وسطی میں کشیدگی کے بعد خطے کی صورتحال سمیت ملکی سکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے مطابق آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈرز اجلاس کے دوران پاک افغان سرحدوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، پاک افغان بارڈر کے قریب داعش کی موجودگی کے حوالے سے بھی صورتحال پر غور کیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق کور کمانڈر کانفرنس کے دوران لائن آف کنٹرول پر کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے امریکا ایران تنازعہ اور اسکے خطے پر منفی اثرات کا بھی جائزہ لیا۔پاک فوج کے ترجمان کے مطابق بھارتی آرمی چیف سمیت انڈین قیادت کے غیر ذمہ دارانہ دھمکیوں سے خطے کا امن متاثر ہوگا۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع و سلامتی پر سمجھوتہ کئے بغیر اپنا مثبت کردار جاری رکھیں گے، پاکستان امن و استحکام کی کوششوں میں خطے کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ فعال ہے۔ ہر قیمت پر اپنا ملک کا دفاع کرینگے۔

اتحادی منانے کی حکومتی کوشش تیز،گورنر سندھ کی پیر پگاڑا سے ملاقات ،جہانگیر ترین کی سر براہی میں حکومتی وفد آج ق لیگ سے ملے گا

کراچی (وقائع نگار خصوصی)وفاقی حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے بعد مسلم لیگ(ق)بھی ناراض ہوگئی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی معاشی، سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جس کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں کے تحفظات پر چہ مگوئیاں جاری رہیں۔ ذرائع کے مطابق کابینہ ارکان نے وزیراعظم عمران خان سے کہا کہ حکومتی اتحادی اکثر و بیشتر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے رہے ہیں، ان سے کیے گئے وعدے ہر صورت پورے کرنے چاہئیں۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے کہاکہ ایم کیو ایم سمیت تمام اتحادی بہترین دوست ہیں، اتحادیوں کو ناراض نہیں کرسکتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں مسلم لیگ(ق)سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے ہاﺅسنگ طارق بشیر چیمہ کی غیر موجودگی کا بھی نوٹس لیا اور پھر وزیر دفاع پرویز خٹک کو اتحادیوں کو منانے کا ٹاسک دے دیا۔گورنر سندھ عمران اسمعیل نے کہا ہے کہ سندھ ایک ایسا صوبہ ہے جہاں کوئی تقسیم قبول نہیں ہے اور نہ ہی اس کی تقسیم ہمارے منشور میں شامل ہے۔منگل کو کراچی میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماو¿ں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ساتھ ہیں اور مضبوطی سے کھڑے ہیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ کی گیس کے جائز حق کے لیے صوبے کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر کو اس حوالے سے نظرثانی کی ہدایت کی ہے۔عمران اسماعیل نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ وزیراعظم جو مزید پیکیج بنارہے ہیں وہ پورے سندھ پر محیط ہوں۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے ہماری اتحادی جماعتوں میں سے ایک ہے ، جی ڈی اے اور پی ٹی آئی دونوں جماعتیں ساتھ ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں یہاں کسی کو منانے نہیں آیا کیونکہ کوئی روٹھا نہیں ہے۔عمران اسماعیل نے ایم کیو ایم کی جانب سے مطالبات میں سندھ کی تقسیم کا بل رکھا ہے اسمبلی میں پیش ہونے پر پی ٹی آئی کی حمایت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ یہ بات میں کئی بار واضح کرچکا ہوں کہ پاکستان میں مزید صوبوں کی ضرورت ہے لیکن وہاں ہے جہاں کے لوگ ایسا چاہتے اور سمجھتے ہیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ ایک ایسا صوبہ ہے جہاں کوئی تقسیم قبول نہیں ہے لہذا اسے واضح کرلیں کہ جب سندھ کی بات ہوتی ہے سندھ کے عوام کی بات ہوتی ہے تو ان کی خواہش ہے کہ سندھ ایک تھا، ایک ہے اور رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم سندھ کے بیٹے ہیں ہم ایسے کیسے بات کرسکتے ہیں کہ اپنے سندھ کو تقسیم کردیں، سندھ کی تقسیم ہمارے منشور میں شامل نہیں ہے۔مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیرپگارا نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے جو وعدے کیے وہ پورے نہیں کیے۔پیر کو کراچی میں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کنگری ہاو¿س میں پیرپگارا سے ملاقات کی۔ پیرپگارا نے گورنر سندھ کے سامنے جی ڈی اے کے خدشات کا اظہار کیا۔پیرپگارا نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے جو وعدے کیے وہ پورے نہیں کیے، جہانگیر ترین کے ساتھ بھی آپ آئے تھے وعدے پورے نہیں کیے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تو پیپلزپارٹی کی ہے وفاق میں تو آپکی حکومت ہے، بجلی اور گیس کے محکمے تو وفاقی ہیں وہ کیوں نہیں سنتے۔گورنر سندھ نے کہا کہ معاشی حالات خراب تھے اب کچھ بہتر ہوئے ہیں، وعدے پورے کریں گے، وزیراعظم کی طرف سے ساتھ دینے،صبرکرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔پیر پگارا کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں کو جھوٹے مقدمات کا سامناہے، سندھ میں کرپشن،اقربا پروری عروج پر ہے، احتساب کہاں گیا،سندھ میں پیپلزپارٹی کے کرپٹ ٹولے کا کڑا احتساب چاہتے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز کراچی میں وفاقی وزیر اسد عمر نے ایم کیو ایم رہنماں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہوئے کہا تھا کہ کراچی کو جو حق دہائیوں سے نہیں ملا وہ دلانا ہے، مشترکہ جدوجہد ہے۔ایم کیو ایم کے بعد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کا بھی تحریک انصاف کو جھٹکا، گورنر سندھ عمران اسماعیل اور فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر صدرالدین شاہ کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی وفاقی کابینہ سے علیحدگی سے پریشان وفاقی حکومت کو جی ڈی اے نے بھی جھٹکا دے دیا ہے۔پیر کے روز مسلم لیگ فنکشنل کے اہم رہنما سردار رحیم نے وفاقی حکومت سے متعلق جی ڈی اے کی ناراضگی اور وفاقی حکومت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا جس پر گورنر سندھ عمران اسماعیل وفد کے ہمراہ کنگری ہاو¿س پہنچے جہاں پیر صدر الدین شاہ راشدی و دیگر رہنماو¿ں نے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیامسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیرپگارا نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے جو وعدے کیے وہ پورے نہیں کیے۔ جہانگیر ترین کے ساتھ بھی آپ آئے تھے وعدے پورے نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تو پیپلزپارٹی کی ہے وفاق میں تو آپکی حکومت ہے، بجلی اور گیس کے محکمے تو وفاقی ہیں وہ کیوں نہیں سنتے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ معاشی حالات خراب تھے اب کچھ بہتر ہوئے ہیں، وعدے پورے کریں گے، وزیراعظم کی طرف سے ساتھ دینے،صبرکرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پیر پگارا کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں کو جھوٹے مقدمات کا سامناہے، سندھ میں کرپشن،اقربا پروری عروج پر ہے، احتساب کہاں گیا، سندھ میں پیپلزپارٹی کے کرپٹ ٹولے کا کڑا احتساب چاہتے ہیں۔

اداکاراؤں کو وزیراعظم جتنا پروٹوکول ملنا چاہیے، اداکارہ میرا

کراچی: اداکارہ میرا کا کہنا ہے کہ اداکاراؤں کو وزیراعظم اور دیگر وزرا کی طرح عزت اور پروٹوکول ملنا چاہیےکیونکہ اداکارائیں بین الاقوامی سطح پر ملکی ثقافت کی نمائندگی کرتی ہیں۔پاکستانی اسکینڈل کوئین کے نام سے جانے جانی والی اداکارہ میرا نے کسی نامعلوم شخص کے ساتھ سوشل میڈیا پر ہونے والی بات چیت کے اسکرین شاٹس شیئر کیے ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہورہا ہے کہ میرا سے کسی شخص نے فلم کے بدلے نازیبا مطالبات کیے ہیں تاہم میرا نے اس شخص کو اداکاراؤں کی عزت کرنے کا سبق پڑھاتے ہوئے کھری کھری باتیں سنائی ہیں۔اداکارہ میرا کی جانب سے شیئر کیے جانے والے اسکرین شاٹس کے مطابق وہ لوگ جو فلم اسٹارز کے پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں انہیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ یہ لوگ فنکار ہیں اور ہمارے معاشرے کی نایاب شخصیات ہیں۔انہیں اداکاراؤں کی عزت کرنی چاہیے کیونکہ اداکارائیں فاحشائیں نہیں ہوتیں یاپھر ان کی کوئی پارٹ ٹائم سرگرمیاں نہیں ہوتیں

3 ٹی 20 یا سیریز ختم، پاکستان کے پاس 2 آپشنز باقی

کراچی:  3ٹی20یا سیریز ختم، پاکستان کے پاس صرف 2آپشنز باقی رہ گئے،اعلیٰ حکام کی جانب سے کئی بار ٹیسٹ پر اصرار کی وجہ سے پی سی بی کیلیے یوٹرن لینا آسان نہ رہا۔بنگلادیش کرکٹ ٹیم کا  دورہ اب سنگین خطرات میں گھرا نظر آ رہا ہے، پی سی بی ابتدا سے ٹیسٹ میچز پر اصرار کر کے اب ایسی پوزیشن پر پہنچ چکا جہاں سے واپسی ممکن نہیں، بی سی بی کی جانب سے ابتدا سے ہی تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے پر آمادگی ظاہر ہوتی رہی جسے پاکستانی بورڈ نے قبول نہ کیا۔ذرائع نے بتایا کہ سیریز کو بچانے کیلیے گذشتہ کئی روز کے دوران تمام ہرممکن آپشنز پیش کیے جا چکے ہیں، مگر ٹیسٹ  نہ کھیلنے کی بات سے بنگلادیش پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، پی سی بی حکام کئی بار کہہ چکے کہ ٹیسٹ ہر صورت رکھے جائیں گے، اس لیے اب ان کیلیے یوٹرن لینا آسان نہیں، ذرائع نے بتایا کہ بورڈکے بعض آفیشلز کی رائے میں بنگال ٹائیگرز اگر صرف ٹی 20کھیلنے کیلیے آنا چاہتے ہیں تو انھیں آنے دیا جائے ملک میں کرکٹ کی واپسی کا سفر نہیں رکنا چاہیے۔دوسری جانب چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے حوالے سے ٹیسٹ میچز اہم ہیں لہذا ضرور ہونے چاہئیں،ذرائع نے بتایاکہ سیریز بچانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ پی سی بی ٹیسٹ میچز کھیلنے کی ضد سے پیچھے ہٹ جائے۔اس حوالے سے ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ ٹی 20میچز کے ساتھ اعلان کر دیا جائے کہ ٹیسٹ میچز کیلیے مستقبل قریب میں بنگلادیشی ٹیم دوبارہ واپس آئے گی،اس سے بورڈ حکام کو کم سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ آئی سی سی ڈسپیوٹ کمیٹی میں جانے کی تجویز فی الحال قابل عمل نہیں کیونکہ بنگلادیش کے پاس 2 ٹیسٹ کھیلنے کیلیے اگلے سال تک کا وقت ہے، دوسری جانب وہ ٹی 20میچز کیلیے پاکستان جانے کو تیار ہے لہذا پی سی بی کی اس وقت پوزیشن اتنی مضبوط نہیں لگتی، تین ٹی 20 کھیلنے پر آمادگی یا مکمل سیریزختم کرنے کے سوا کوئی آپشنز باقی نہیں ہیں، اس حوالے سے رواں ہفتے ہی کوئی اعلان متوقع ہے

آزادکشمیر میں برفانی تودے کی زد میں آکر 21 افراد جاں بحق

 مظفر آباد: آزادکشمیر میں شدید برفباری کے دوران برفانی تودے گرنے سے 21 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوگئے۔آزادکشمیر میں جاری بارشوں اور برفباری کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔ اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ضلعی آفیسر اختر ایوب نے بتایا کہ ادی نیلم میں تاحال 10 افراد برفانی تودے تلے دبے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق وادی نیلم میں 15 جبکہ پونچھ اور سندھوتی میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔وادی نیلم اور لیپا سمیت بالائی علاقوں میں ٹیلی فون اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ مختلف اضلاع کی رابطہ سڑکیں بھی برف باری کے باعث بند ہیں اور عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

خالد مقبول کا استعفی بلاول کی پیشکش کی کڑی دکھائی دیتا ہے،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بہت سے فیصلے ہوتے ہیں جس میں فیصلہ کرتے وقت مختلف پہلو نہیں دیکھے جاتے۔ موجودہ آج کا فیصلہ جو ہے اس میں ان سبھی پہلوﺅں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ایک ایک بات جو ہے ریورس ہو گئی ہے جو پہلے فیصلہ پر تھی۔ بظاہر تو جنرل پرویز مشرف کی سزا ختم ہو گئی ہے لیکن جو فیصلہ سپریم کورٹ دے گا وہ فیصلہ آخری ہو گا اور اس کو من و عن تسلیم کیا جائے گا۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ہائی کورٹوں کے فیصلے سپریم کورٹوں میں چیلنج ہوتے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے من و عن تسلیم کئے جاتے ہیں۔ خصوصی عدالت میں جج صاحب نے جو الفاظ استعمال کئے وہ انتہا پسندی اور متشددانہ تھے اس پر بہت بحث ہو چکی ہے۔ ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کا وزارت سے استعفیٰ کا اعلان تحریک انصاف کے لئے دھچکا قرار دیا جا رہا ہے صیا شاہد نے اس حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انہوں نے کابینہ سے استعفیٰ ضرور دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے ایم کیو ایم وفاقی حکومت کا حصہ رہے گی۔ ان کے وزارت سے علیحدہ ہونے کا گلہ شکوہ ضرور ہو سکتا ہے اس کا مطلب ہے نہ انہوں نے اپنی جماعت چھوڑی ہے نہ ان کی جماعت نے وفاقی حکومت کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے میں نے خبروں میں سنا ہے کہ عمران خان باری باری اپنی حلیف جماعتوں سے مذاکرات کریں گے اور کوشش کریں گے کہ جو بھی مشکلات ہیں جس حد تک ممکن ہو پورا کر سکیں اور ان کی شکایات کو دور کر کے اتحادیوں کو ساتھ رکھنے میں کامیاب ہو سکیں جہاں تک میرا اندازہ ہے۔ ایم کیو ایم نے حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑا لگتا ہے غالباً یہ اس معاملے میں کوئی نہ کوئی پیچ اپ ہو سکتا ہے۔ جہاں تک پچھلے دنوں بلاول زرداری نے ایم کیو ایم کو جو مرکز میں حکومت گرانے کی شرط پر سندھ میں وزارتیں دینے کا وعدہ کیا تھا کیا یہ اس کی کڑی ہو سکتی ہے۔ اتحادی اپنی شرائط منوانے کے لئے صوبے تو استعمال کرتے ہیں۔ اس ساری ایکسائز کے نتیجے میں اتحادیوں کی زیادہ سے زیادہ باتیں مان لی جائیں گی۔ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی جو حکومت ہے وہاں ایک ایک ووٹ کی اہمیت ہے۔ اس لئے کسی پارٹی کا باہر جانے سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لے دے کے درمیانی راستہ نکالے مقبول صدیقی کے استعفے کو بلاول بھٹو کی طرف سے پھینکے گئے سیاسی پتے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو نے پیش کش کی تھی کہ ایم کیو ایم مرکز میں پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑ دے تو ہم سندھ میں ان کو وزارتیں دینے کو تیار ہیں۔ کیا بلاول بھٹو کا جو زبردست قسم کا ترپ کا پتہ ہے کیا وہ اس سلسلے میں کامیاب ہو جائیں گے یا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ کام ہو بھی گئے تو یہ زیادہ دیر چل نہیں سکے گا۔ کیونکہ اس سے پہلے بے شمار مرتبہ ہمیشہ ہی ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان مناقشت جاری رہتی ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم شہری علاقوں میں اکثریت رکھتی ہے اور اس بنیاد پر شہری اداروں پر مسلط ہونا چاہئے۔ یہ بات مرکز اور صوبے کو قابل قبول نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف لندن کے ایک ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں موجود ہیں لیکن ایک تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ ایک ہوٹل میں کھانا کھا رہے ہیں ان کے ساتھ شہباز اور حسین نواز بھی موجود ہیں۔ یہ کہانی سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم نے بھی رپورٹ منگوا لی ہے۔ وہ یہاں سے گئے تھے کہ ان کے پلیٹ لیٹس کی کمی ہو رہی ہے اور کہا جاتا تھا کہ وہ خدانخواستہ کسی سیریس تکلیف میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ دل کو مرض لاحق بنایا گیا اور بتایا گیا کہ کئی اور کچھ تکالیف ہو سکتی ہیں پھر کہا گیا کہ کینسر کی تشخیص کی گئی۔ اب لوگوں کے لئے یہ حقیقت قبول کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ وہ تو ماشاءاللہ، اللہ ان کو صحت یاب کرے۔ وہ ٹھیک ٹھاک ہیں اچھے کھاتے پیتے ہیں۔ ہوٹلوں میں بیٹھتے اور لوگوں سے بھی ملتے ہیں ابھی تک جس وعدے کے مطابق لندن گئے تھے کہ دو دن کے بعد وہ بوسٹن پہنچ جائیں گے اور وہاں جا کر وہ اپنی تکلیف کا علاج کروائیں گے۔ وہ ابھی تک بوسٹن نہیں پہنچے اور شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کے جو میڈیکل کنسلٹنٹ ہیں ان سے رائے لی جائے۔ کہ جناب اس وقت ان کی کیا پوزیشن ہے۔ شاہ محمود قریشی کے دورہ ایران کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس لحاظ میں پاکستان کی کامیابی مشکل دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ حکومت نے واضح کر دیا کہ ہم کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ پاکستان کی پوزیشن میں بہرحال اس قسم کی نہیں رہی۔ ماضی میں پاکستان کبھی امریکہ کبھی چین، کبھی سعودی عرب، کبھی اسلامی کانفرنس، کبھی کسی اور اتحاد کے ساتھ یہ ہمیشہ ہی کسی نہ کسی طرح سے منسلک رہا ہے۔ اب اگر واقعی پاکستان یہ معجزہ کر دکھائے کہ تو یہ بڑی اچھی بات ہو گی۔ یہ بات یقینا پاکستان کے لئے بھی اچھا ہو گا اس کا اندازہ اس وقت کر کے اور پاکستان اپنے پاﺅں پر ثابت قدمی سے قائم رہے۔