تازہ تر ین

بارشیں برفباری جاری،راستے بند ،جاں بحق افراد کی تعداد 93ہوگئی ،تودہ گرنے سے 3گاڑیاں تباہ

اسلام آباد /کوئٹہ /مظفر آباد /نیلم /پشاور (نمائندگان خبریں)آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت شدید بارش اور پہاڑوں پر برف باری کے باعث مختلف حادثات کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد93ہوگئی برفانی تودہ گرنے سے 3 گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں، بلوچستان ، سکھر ،راجن پور میں بھی 21افراد زندگی کی بازی ہار گئے ،گلگت بلتستان میں کئی فٹ تک برف کی تہہ جم چکی ہے، بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں جس کے باعث مختلف علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ،دیامر اور استور میں شدید برف باری کے بعد اسنو ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ،چترال میں ڈھائی فٹ برف پڑنے کے بعد لواری ٹنل بند ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کی وادی نیلم، لیپا، کیل ، مظفر آباد، نکیال میں بارش اور برف باری کا سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا ،شدید برف باری کے دوران وادی نیلم میں پانچ مقامات پر برفانی تودے گرنے سے 55سے زائد افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے ۔این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق حالیہ بارشوں اور برفباری میں آزاد کشمیر میں 55جاں بحق ہوئے۔ترجمان نے بتایاکہ نیلم میں سورنگن گاو¿ں میں 19 افراد برفانی تودہ میں دب کر جاں بحق ہوئے جبکہ 10افراد ابھی تک لا پتہ ہیں،4زخمیوں کو نکال لیا گیا ، ترجمان کے مطابق آخری اطلاعات تک باقی زخمی افراد کو نکالنے کے لئے کوششیں جاری تھیں،برف میں پھنسے ہوئے افراد کو بذریعہ ہیلی کاپٹر نکالنے کے لئے انتظامات کر نے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ متاثرین کے لیے راشن اور ٹینٹ مظفر آباد سے بھیج دیئے گئے ادھر میڈیا رپورٹ کے مطابق پلندری میں مکان کی دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں کئی فٹ تک برف کی تہہ جم چکی ہے، بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں، دیامر اور استور میں شدید برف باری کے بعد اسنو ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ادھرمانسہرہ کی وادیوں کاغان، ناران اور شوگران میں بھی برف باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ،کوہستان کے قریب لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہِ قراقرم کئی مقامات پر بند ہو گئی، جہاں سینکڑوں مسافر گاڑیوں میں پھنس گئے ادھرملکہ کوہسار مری میں مسلسل برف باری سے نظامِ زندگی مفلوج ہوگیا، نتھیا گلی، ایوبیہ، چھانگلہ گلی میں مرکزی سڑک سمیت تمام رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں جس کے باعث کئی علاقوں کا آپس میں زمینی رابطہ منقطع ہوگیا دوسری جانب چترال میں ڈھائی فٹ برف پڑنے کے بعد لواری ٹنل بند ہو گئی ہے۔مالاکنڈ ڈویژن سمیت قبائلی اضلاع باجوڑ، خیبر، مہمند، اورکزئی اور وزیرستان میں بھی برف باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ادھر راجن پور اور سکھر میں بارش کے باعث مکانات کی چھتیں گرنے سے 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش کے دوران ژوب، پشین اور خانو زئی میں چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 بچوں سمیت 17 افراد جاں بحق ہوئے ۔پی ڈی ایم اے حکام نے تصدیق کی کہ بلوچستان میں برفباری کے دوران مختلف واقعات میں 17افرادجاں بحق ہوئے ہیں جن میں 11خواتین اور 6 بچے شامل ہیں ، 13افراد زخمی بھی ہوئے حکام نے بتایا کہ ژوب میں مکان کی چھت گرنے کے دوواقعات میں 8 افرادجاں بحق اور4 زخمی ہوئے جن میں میں 4 خواتین اور4 بچے شامل ہیں۔قلعہ عبداللہ میں مکان کی چھت گرنے سے 5 خواتین جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے جب کہ پشین میں مکانات گرنے کے 2 واقعات میں ایک خاتون اور دوبچے جاں بحق ہوئے اس کے علاوہ کوئٹہ میں مکان کی چھت گرنے کے واقعے میں ایک خاتون جاں بحق اور چاربچے زخمی ہوگئے۔پی ڈی ایم اے نے بریفنگ میں بتایا کہ تربت، چاغی، نوشکی میں بارشوں سے مکانات کو بھی خوب نقصان پہنچا ۔ ادھر کوڑک ٹاپ پر 20 کلومیٹر کے علاقے میں کوئٹہ چمن شاہراہ سے برف صاف کر دی گئی اور 3 روز سے بند شاہراہ ابتدائی مرحلے میں ون وے لائٹ ٹریفک کےلئے کھول دی گئی ۔گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں چوتھے روز بھی برف باری کا سلسلہ جاری رہا ، تمام زمینی رابطے منقطع ہونے کے باعث شہریوں اور انتظامیہ کو شدید دشواری کا سامنا کر نا پڑا۔پاراچنار میں برف باری کے باعث بجلی کا نظام متاثر ہو گیا اور وسطی کرم میں آمد و رفت کے راستے بھی بند ہو گئے ۔شمالی وزیرستان کی وادی رزمک میں ہونےوالی برف باری دیکھنے کےلئے سیاح بڑی تعداد میں پہنچ گئے تاہم سہولتیں نہ ہونے کے باعث انہیں پریشانی کا سامنا کر نا پڑا۔دوسری جانب پی ڈی ایم اے کے مطابق کان مہترزئی اور خانوزئی میں برفیلے طوفان میں پھنسے تمام مسافروں کو ریسکیو کرلیا گیا۔ریسکیو کا کام 24 گھنٹے جاری رہا، تمام پھنسے افراد کو نکالنے کے بعد 400 سے زائد افراد کو خانوزئی مسلم باغ منتقل کردیا گیا۔شیرخوار بچوں اورخواتین سمیت سیکڑوں افراد منفی چودہ ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید ترین سردی میں گھنٹوں گاڑیوں میں پھنسے رہے ساتھ ہی کھانے پینے کا سامان اور گاڑیوں کا ایندھن ختم ہونے سے بھی پریشانی کا سامنا رہا۔ریسکیو آپریشن کے باوجود کان مہتر زئی مرکزی شاہراہ آمدو رفت کےلئے بندرہی اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ کان مہترزئی میں درجنوں خالی گاڑیاں اب بھی پھنسی ہوئی ہیں،مرکزی شاہراہ کھولنے کے لیے آپریشن کلین اپ جاری رہا۔لک پاس کے مقام پرکوئٹہ۔ کراچی شاہراہ کوچھوڑی گاڑیوں کےلئے کلیئرکردیا گیا ہے مگر لک پاس اورخوجک پاس بھاری ٹریفک کےلئے بحال نہ ہو سکی پی ڈی ایم اے کی ہدایت پر برف باری والے علاقوں میں مختلف رابطہ سڑکیں بھاری ٹریفک کے لئے تاحال بند ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے مطابق بلوچستان کی تاریخ میں شاید اتنی شدید برفباری پہلے نہیں ہوئی اس لیے مشکل صورت حال کا سامنا ہے، صوبے میں 800 کلومیٹرکے علاقے میں برفباری ہوئی ہے، کان مہترزئی برف باری سے شدید متاثر ہوئے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوڑک ٹاپ پر 20 کلومیٹر کے علاقے میں کوئٹہ چمن شاہراہ سے برف صاف کردی گئی ہے اور تین روز سے بند شاہراہ ابتدائی مرحلے میں ون وے لائٹ ٹریفک کےلئے کھول دی گئی ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved