طوفانی بارشیں ،برفباری کا 50سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ،20 جاں بحق درجنوں زخمی

اسلام آباد، سکھر، کوئٹہ، لاہور(نمائندگان خبریں) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ،لاہور کوٹہ اور سکھر سمیت ملک بھر کے مختلف علاقوں میں شدید بارش اور برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ، بالائی علاقوں میں شدید برفباری، 20افراد جاں بحق،کوئٹہ میں تمام پروازیں منسوخ، اسنو ایمرجنسی لگا دی گئی ، سکھر میں میں بوسیدہ مکان کی چھت گرنے سے بچی جاں بحق، خواتین اور بچوں سمیت 8 افراد زخمی ہو گئے جن میں سے 2 کی الت نازک بتائی گئی ہے، لاش اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور، فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بادل خوب گرجے برسے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ کراچی میں رم جھم نے خنکی بڑھا دی۔ جیکب آباد، سکھر سمیت سندھ میں بارش سے جاتی سردی پھر لوٹ آئی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی بارش کی جھڑی (آج)تک وقفے وقفے سے جاری رہے گی جبکہ پہاڑوں پر مزید برفباری کا بھی امکان ہے۔کہیں بوندا باندی تو کہیں تیز بارش، جنوری ٹھنڈا ٹھار ہو گیا۔ لاہور میں پیر کو صبح کے وقت کالی بدلیاں چھائیں اور پھر چھما چھم برسات ہوئی۔ گڑھی شاہو، دھرم پورہ، ایئر پورٹ، گلبرگ، فیروز پور روڈ ، جوہر ٹان سمیت شہر کے مختلف حصوں میں بھی تیز بارش ہوئی جس سے خنکی میں اضافہ ہو گیا۔فیصل آباد، قصور، چکوال، ننکانہ صاحب، شکر گڑھ، سرگودھا، جھنگ، خانیوال، ہارون آباد، رحیم یار خان، خان پور، اوچ شریف سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں ابر کرم خوب برسا جس سے جاتی سردی پھر لوٹ آئی۔کراچی میں بھی بوندا باندی سے سردی بڑھ گئی۔ جیکب آباد، سکھر سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔ سکھراور گردونواح میں گذشتہ روز سے جاری بارشوں کے باعث سکھر کے علاقے نیو پنڈ میں رشید شیخ نامی شخص کے کرائے کے مکان کی چھت اچانک دھماکے سے مکینوں پر آگری جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے۔حادثے کی اطلاع پر پولیس، ایدھی اور دیگر اداروں کی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور انہوں نے زخمیوں کو ملبے سے نکال کر فوری طور پر شہر کے ہسپتالوں میں پہنچایا جہاں پر زخمیوں میں شامل ایک چار سالہ بچی علیشا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔چھت گرنے کے باعث گھر میں رکھا ہوا ہزاروں روپے مالیت کا سامان بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا، زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جن میں نازیہ، عبدالحمید، عبدالمجید، راشد، زوہیب حسن، ماجد علی،عبدالرشید شیخ و دیگر شامل ہیں۔واضح رہے کہ سکھر میں گذشتہ ایک سے ڈیڑھ ماہ کے دوران عمارت اور چھتیں گرنے کا یہ چوتھا واقعہ ہے جن میں چودہ افراد جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ ادھر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دو روز سے جاری برف باری اور بارشوں نے تباہی مچادی ہے جس دوران حادثات میں 15 افراد جاں بحق ہوگئے۔بلوچستان کے بالائی علاقوں میں3 سے4 فٹ تک برف پڑ چکی ہے، شدید برف باری سے زیارت،مستونگ، قلعہ سیف اللہ ،قلعہ عبداللہ ،ہرنائی اور بولان میں کئی جگہ رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق مختلف حادثات میں قلعہ عبداللہ میں 6، ژوب میں 6 جب کہ پشین میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔دوسری جانب کوئٹہ میں برف باری اور موسم کی خراب صورت حال کے باعث اندرون ملک سے کوئٹہ آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں، برف باری کے باعث 10 فیڈر بند ہونے سے شہر کے بیشترعلاقوں میں بجلی غائب ہوگئی ہے۔شدید برف باری کے باعث صوبائی حکومت نے 7 اضلاع میں اسنو ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔علاوہ ازیں مکران کے علاقوں تمپ، مند، زعمران اور بلیدہ سمیت ملحقہ علاقوں میں موسلادھار بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی آنے سے کئی مکانوں اور فصلوں کونقصان پہنچا جب کہ زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے ۔تربت اور گرد و نواح میں شدید بارشوں سے سیلابی ریلا دریائے کیچ میں داخل ہوگیا جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی سے سیلابی ریلے نے قریبی آبادیوں کو نقصان پہنچایاہے۔بلوچستان کی صورتحال پر وزیراعلی جام کمال خان کا کہنا ہے کہ سڑکیں کھلوانے اور عوام کو ہرممکن امداد پہنچانے کےلئے صوبائی حکومت مکمل متحرک ہے۔لاہورسمیت ملک بھر میں گذشتہ روز سے جاری بارش سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا، مسلسل بارش کی وجہ سے سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ٹریفک کا نظام متاثر ہوا، بارش کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی، محکمہ موسمیات نے رواں ہفتے کے دوران صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر کے بیشتر علاقوں میں مزید بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کی ہے۔لاہورسمیت ملک کے مختلف حصوں میں موسلا دھار بارش سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا، با رش سے نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہو گیا جس کی وجہ سے ٹریفک سست روی کا شکار رہی، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے 130 فیڈرز ٹرپ ہونے سے کئی علاقوں میں گھنٹوںبجلی غائب رہی ۔تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت ملک کے مختلف حصوں میں موسلار دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جس کی وجہ سے سردی کی شدت میں دوبارہ اضافہ ہو گیا ہے ۔ پنجاب میں لاہور،فیصل آباد، قصور، چکوال، ننکانہ صاحب، شکر گڑھ، سرگودھا، جھنگ، خانیوال، ہارون آباد، رحیم یار خان، خان پور، اوچ شریف سمیت کئی مقامات پر بارش ہوئی ۔کراچی میں بھی بوندا باندی سے سردی بڑھ گئی، جیکب آباد، سکھر سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔ بلوچستان کے چاغی سمیت مختلف مقامات پر بارش سے ندی نالے بپھر گئے جس سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہے، کوئٹہ میں تیز بارش اور پہاڑوں پر برف باری سے موسم یخ بستہ ہو گیا۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور ڈویژن سمےت راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد، اسلام آباد ،گلگت، ، بلتستا ن اور کشمیر سمیت شمالی علاقہ جات میں وقفے وقفے سے با رش جا ری رہی اور موسم سرد رہا جبکہ شمالی علاقہ جات میں موسم شدید سردرہا ،سوموار کی صبح صوبا ئی دارالحکومت لا ہور کا درجہ حرارت زیادہ سے زیا دہ 10 سینٹی گریڈ اور کم سے کم 8 سینٹی گریڈرہا جبکہ ہوا میں نمی کا تنا سب59 فیصد رہا۔ ماہرےن کے مطابق آئندہ 24گھنٹوں کے دوران لاہور ڈویژن سمےت راولپنڈی، گوجرانوالہ، سرگودھا، فیصل آباد،اسلام آباد ،ملتان اور ساہیوال ڈویژن میں بارش کا امکان ہے جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی موسم سرد ، صبح کے اوقات میںدھند اور مطلع ابر آ لو د رہیگا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز لاہور سٹی مےں o6ائیرپورٹ کے مقام پر 01,، حافظ آباد 77، قصور60، منڈی بہاو¾الدین 24، اٹک22، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چکوال16، گوجرانوالہ11، اسلام آباد (ائیرپورٹ17، بوکرا14)،سیالکوٹ سٹی09، منگلا17، مری07، ڈی جی خان09،جھنگ،20، جہلم01، ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔گلگت بلتستان میں برف باری کا پچاس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔گزشتہ چھتیس گھنٹے سے مسلسل بارش اور برف باری کے ہنزہ اور نگر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور تمام سرکاری اداروں کو الرٹ کردیا گیا۔گلگت بلتستان میں گزشتہ دو روز سے شدید بارشوں اور برف باری کی لپیٹ میں ہے۔بالائی علاقوں میں ایک فٹ جبکہ نشیبی علاقوں میں دس انچ تک برف باری ہو چکی ہے۔بالائی علاقوں میں رابطہ سڑکیں اور شاہراہِ قراقرم ہرقسم کی ٹریفک کی لیے بند ہوچکی ہے۔

بھارت :شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباءکا احتجاج

نئی دہلی(صباح نیوز)بھارت میں شہریت ترمیمی قانون کیخلاف شہر شہر مظاہرے تھم نہ سکے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وی سی دفتر کے باہرطلبہ گروپ کا احتجاج جاری ہے۔بھارت بھر میں مسلم دشمن قانون کیخلاف مظاہرے شدت اختیار کرنے لگے۔ دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم پولیس تشددکےخلاف ایف آئی آر درج کر نے اور طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانےکامطالبہ کررہے ہیں۔ شاہین باغ میں بھی سخت سردی میں خواتین سراپااحتجاج ہیں۔ شاہین باغ میں دھرنے پر بیٹھی خواتین نے اعلان کیا ہے کہ ان کا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کو واپس نہیں لے لیا جاتا ،حیدرآباد میں مظاہرہ کرنے پر پولیس نے پچیس نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ ششی تھورنے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباپر پولیس تشدد پرمزمت کی۔ ششی تھور نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں مظاہرین کے حق میں شہریت ترمیمی قانون کیخلاف احتجاج کیا، دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے سامنے بڑے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سینئیرکانگریسی لیڈر ششی تھرور نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی ۔انھوں نے کہا کہ مودی حکومت
ملک کے مشترکہ ورثے اور گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کرنے کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ششی تھرور نے اسی کے ساتھ کہا کہ ہندوستان کے عوام اپنی مشترکہ تہذیب اور ملک کے سیکولر ڈھانچے کو برباد کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔انھوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ کو امتیازی، غیر جمہوری اور آئین ہندکے منافی قرار دیا اور کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے قومی اتحادویک جہتی کے لئے قربانی دی اور موجودہ مرکزی حکومت ملک کے معماروں کو خواب کو چکناچور کردینا چاہتی ہے۔

ایران کو لگام دینے کے لیے تمام ممالک تعاون کریں ،امریکہ امریکی اڈے پر راکٹ حملہ ،پومپیو برہم

واشنگٹن(این این آئی)امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اوٹاگس نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی پر روک لگانے کے لیے تعاون ریں۔اس وقت سب کی جانب سے مدد کرنا لازم ہے تا کہ ایران کے شرپسند اور دہشت گردانہ رویے کا سلسلہ روکا جا سکے ،اور اس رویے کو تبدیل کرنے کے لیے امریکا اور یورپ کے ساتھ مذاکرات کو ممکن بنایا جا سکے۔اوبرائن نے امریکی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انتہائی دبا کی پالیسی کامیاب رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور اب مذاکرات کی میز پر آنے کے سوا اس کے لیے کوئی چارہ نہیں۔امریکی صدر نے اوبرائن کی گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ مذاکرات کرتے ہیں تو مجھے اس کی پروا نہیں۔ یہ مکمل طور پر ان کا معاملہ ہے لیکن جوہری ہتھیار کسی صورت نہیں ،اور ہاں آپ لوگ اپنے خلاف احتجاج کرنے والوں کو جان سے نہ ماریں۔ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ امریکا احتجاج کے دوران ہزاروں مظاہرین کے قتل یا گرفتاری کی کارروائیوں کو بغور دیکھ رہا ہے۔ امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ وہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں فضائی اڈے پر حالیہ حملے کے بعد غم و غصے کا شکار ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں مائیک پومپیو نے کہا کہ عراقی فضائی اڈے پر ایک اور راکٹ حملے کی اطلاعات پر برہم ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں زخمیوں کی فوری صحتیابی کی دعا کرتا ہوں اور عراق کی حکومت سے عراقی عوام پر کیے گئے حملے کے ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ کرتا ہوں۔خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق مائیک پومپیو نے مزید کہا کہ وہ گروہ جو عراقی حکومت کے وفادار نہیں ہیں، ان کی جانب سے عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کا لازمی خاتمہ ہونا چاہئے۔ امریکہ کے اعلی عہدیدرصدر ٹرمپ کے اس بیان کی تلافی کرتے نظر آئے جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ ایران کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی ڈرون حملے میں مارے جانے سے قبل امریکہ کے چار سفارت خانوں کو اڑا دینے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق وزیردفاع مارک ایسپر نے سی بی ایس نیوز کے پروگرام ”فیس دا نیشن “میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایسی کوئی خفیہ رپورٹ نہیں دیکھی جس میں ایران سے امریکی سفارت خانوں کو کوئی واضح خطرہ ہو، لیکن مجھے یقین ہے کہ جب صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ ایسا کوئی خطرہ تھا، تو پھر ہو گا۔

نواز شریف کا لندن کے مہنگے ترین ہوٹل میں ناشتہ ،حکومت کا نوٹس

لاہور‘ لندن (نمائندگان خبریں) سابق وزیراعظم اس تصویر میں اپنے صاحبزادے حسن نواز، بھائی شہباز ، بھتیجے سلمان شہباز اور سمدھی اسحاق ڈار کے ساتھ بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔شریف فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق اپنے اہلخانہ کے ہمراہ چہل قدمی کیلئے باہر گئے تھے۔ ادھر سابق وزیراعظم کی تصویر وائرل ہونے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ان کے ذاتی معالج سے رابطہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان سے نواز شریف کے علاج بارے میں تفصیلات طلب کی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ ان کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹس حکومت پنجاب کو بھجوائی جائیں۔ صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشدنے گزشتہ روز نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹرعدنان سے رابطہ کیا ۔صوبائی وزیرصحت نے سوشل میڈیاپرچلنے والی تصویرکی بناءپر ڈاکٹرعدنان سے نوازشریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس فورابھجوانے کاکہا جبکہ دوسری جانب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے پہلے ہی نوازشریف کے وکیل کو تازہ میڈیکل رپورٹس کیلئے مراسلہ لکھ دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو نوازشریف کی رپورٹس منگوانے کی ہدایت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے نوازشریف کی ہوٹل میں کھانا کھانے کی تصویر کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کو نوازشریف کی رپورٹس منگوانے کی ہدایت کر دی۔ ترجمان محکمہ صحت نے بتایا کہ یاسمین راشد نے نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان سے رابطہ کرلیا۔ یاسمین راشد نے سوشل میڈیا پروائرل تصویر پرمیڈیکل رپورٹس بھجوانے کا کہا۔ ترجمان محکمہ صحت کے مطابق ہوم ڈیپارٹمنٹ نے نواز شریف کے وکیل کو تازہ رپورٹس بھجوانے کا مراسلہ لکھ دیا ہے۔

ایم کیو ایم ،پی ٹی آئی مذاکرات ناکام ،شہباز شریف ان ہاﺅس تبدیلی کے لیے متحرک ،حکومت کے اتحا دیوں سے رابطے،عمران خان نے آج اجلاس طلب کر لیا

کراچی (وقائع نگار خصوصی)تحریک انصاف وفاقی حکومت میں اپنی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو منانے میں ناکام رہی اور ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے اپنا استعفیٰ واپس لینے اور کابینہ میں دوبارہ شمولیت سے انکار کردیا ہے۔وفاقی حکومت کی انب سے مطالبات پورے نہ کیے جانے پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے گزشتہ روز وفاقی کابینہ سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی آئی ٹی کی وزارت بھی چھوڑ دی تھی۔پیر کو حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کا وفد اسد عمر کی سربراہی میں ایم کیو ایم پاکستان کے دفتر بہادرآباد پہنچا جہاں ان کے ہمراہ فردوس شمیم، حلیم عادل شیخ، خرم شیر زمان، رکن قومی اسمبلی آفتاب ملک اور دیگر اراکین اسمبلی بھی موجود تھے۔حکومتی وفد کے اراکین نے بہادرآباد پہنچنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ خالد مقبول صدیقی کو استعفیٰ واپس لینے کے لیے قائل کر سکیں تاکہ وہ وفاقی وزیر کی حیثیت سے کام کرنا شروع کردیں۔روایت کے برعکس جب تحریک انصاف کا وفد بہادرآباد پہنچا تو ایم کیو ایم کی جانب سے ان کا استقبال نہیں کیا گیا جس کے بعد اندر جا کر دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے۔دونوں جماعتوں کے وفود کے درمیان ایک گھنٹے سے زائد ملاقات جاری رہی جس میں تحریک انصاف کی خالد مقبول صدیقی کو منانے کی تمام کوششیں بے سود رہیں۔ایم کیو ایم کی جانب سے مذاکرات میں فیصل سبزواری، خواجہ اظہار الحسن سمیت دیگر اہم رہنما شریک تھے لیکن حکومتی مذاکراتی ٹیم ایم کیو ایم کو منانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ایم کیو ایم کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان سے بار بار وعدے کیے گئے لیکن ان وعدوں کے برعکس اب تک کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے۔اسد عمر نے خالد مقبول صدیقی سے کہا کہ آپ کیوں ناراض ہوگئے، اب ناراضگی ختم کریں، ایم کیو ایم کے مطالبات درست ہیں انہیں ہمیشہ تسلیم کیا ہے، معاملات الگ ہونے سے نہیں مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل ہوں گے۔ جس پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں بات چیت نہیں نتیجہ چاہیے۔ ایک ارب دینے کے لیے کتنی منت سماجت کرنا پڑے گی اور ہم اپنے لیے نہیں بلکہ کراچی کا حق مانگ رہے ہیں۔ملاقات کے اختتام پر اسد عمر اور خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملاقات کو خوش آئند قرار دیا۔اسد عمر نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی کی خواہش ہے کہ وہ کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے لیکن ہماری خواہش ہے کہ وہ کابینہ کا حصہ رہیں۔خالد مقبول صدیقی نے اپنی گفتگو میں اسے مذکرات کے بجائے ملاقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات پہلے سے طے شدہ تھی اور اسی سلسلے میں تحریک انصاف کے وفد نے آج دورہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران قومی امور اور سندھ کے شہری علاقوں کے امور پر بھی گفتگو ہوئی اور ہم یہاں آنے پر اسد عمر کے شکر گزار ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہمیں اپنے تمام وعدے یاد ہیں کل کی پریس کانفرنس میں کوئی سنسنی خیزی نہیں تھی،ہم نے پہلے بھی کہا تھا حکومت سے تعاون جاری رکھیں گے۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کراچی سے متعلق وزیراعظم کے منصوبوں کو ایم کیو ایم کی قیادت سے شیئر کیا، کچھ ایسے معاملات ہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے۔شہر قائد سے متعلق اسد عمرکا کہنا تھا کہ و جو حق دہائیوں سے نہیں ملا وہ دلانا ہے، مشترکہ جدوجہد ہے، کوشش ہے ساتھ مل کر کراچی کے لیے کام کریں۔انہوںنے کہا کہ فروری کے پہلے ہفتے میں وزیراعظم کراچی آئیں گے، وزیراعظم کراچی میں منصوبوں کا افتتاح کریں گے، کراچی کے چھوٹے ترقیاتی منصوبے تو جاری ہیں، بڑے ترقیاتی منصوبے جلد شروع ہوں گے۔ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اسد عمر کا کہنا تھا کہ کراچی میں انشا اللہ 162 ارب روپے سے زائد کے منصوبے ہوں گے، کراچی میں پانی کا منصوبہ کےفور تاخیر کا شکار ہوا، سندھ حکومت جیسے ہی کےفور پر رپورٹ مرتب کرے گی کابینہ سے منظور کرائیں گے۔کے فور سے متعلق اسد عمر کا کہنا تھا کہ منصوبے کی لاگت کم سے کم دو گنا بڑھ چکی ہے، لاگت بڑھنے کے باوجود وفاقی حکومت کے فور منصوبے میں تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے سب سے بڑے 2مسائل پانی اور ٹرانسپورٹ ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے جو وعدے کیے تھے ان پر لگن سے کام جاری ہے، وزیراعظم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ نوکریاں صرف سرکار دے گی، نوکریاں سرکار میں بھی آتی ہیں اور پرائیوٹ سیکٹر میں بھی آتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ گورنر سندھ کی تبدیلی کا امکان نہیں ہے، وہ زبردست کام کر رہے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ووٹ بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے ۔اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے جو وعدے کیے تھے ان پر لگن کے ساتھ کام کررہے ہیںانہوںنے کہا کہ سردی کا مائنس ون تو ہوگیا ، دوسرے مائنس ون کا خواب دیکھنے والے صرف خواب ہی دیکھتے رہیں۔

غداری کیس کا فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت غیر آئینی قرار،مشرف کی سزائے موت ختم،آئینی وقانونی ماہرین

لاہور ( این این آئی‘آئی این پی) لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف کے سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دیدیا۔ عدالت نے خصوصی عدالت کی تشکیل اور آرٹیکل 6 میں کی جانے والی ترمیم ،کریمنل لاءسپیشل کورٹ ترمیمی ایکٹ 1976 ءکی دفعہ 4 کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت آرٹیکل 6 میں جو ترمیم کی گئی ہے اس کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جاسکتا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد امیر بھٹی اور جسٹس چوہدری مسعود پر مشتمل فل بنچ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی سزا، خصوصی عدالت کی تشکیل اور حکومت کی جانب سے غداری کیس درج کیے جانے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ تین رکنی فل بنچ کی جانب سے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے سلسلے میں قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور نہ ہی عدالت کی تشکیل اور مقدمے کے اندراج کے لیے مجاز اتھارٹی سے منظوری لی گئی۔ عدالت نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 6 میں جو ترمیم کی گئی اس کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ کسی بھی ملزم کی عدم موجودگی میں اس کا ٹرائل کرنا غیراسلامی، غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ قبل ازیں سماعت کے آغاز پر وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان پیش ہوئے اور عدالت کے حکم پر وفاقی حکومت کی جانب سے خصوصی عدالت کی تشکیل سے متعلق سمری اور ریکارڈ پیش کیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف کیس بنانے کا معاملہ کبھی کابینہ ایجنڈے کے طور پر پیش نہیں ہوا جس پر جسٹس مسعود جہانگیر نے استفسار کیا کہ کابینہ کا اجلاس کس تاریخ کو ہوا تھا۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اجلاس 24 جون 2013 ءکو ہوا تھا۔ خصوصی عدالت کی تشکیل کے لیے ججز کی تقرری کے معاملے پر دوبارہ کابینہ کا اجلاس ہوا تھا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ پرویزمشرف کے خلاف کیس سننے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کابینہ کی منظوری کے بغیر ہوئی۔8 مئی 2018 ءکو خصوصی عدالت کے ایک جج کی تقرری کا معاملہ کابینہ میں زیر بحث آیا تھا۔21 اکتوبر 2018 ءکو جسٹس یاور علی ریٹائر ہوگئے اور خصوصی عدالت پھر ٹوٹ گئی تھی۔ جسٹس مظاہر علی نقوی نے ریمارکس دئیے کہ جسٹس شاہد کریم کو خصوصی عدالت کا رکن بنانے کے لیے نام وزارت قانون و انصاف نے ان کا نام تجویز کیا اس سے قبل کبھی بھی وزارت قانون و انصاف نے نام تجویز نہیں کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا خصوصی عدالت کی تشکیل کا معاملہ کابینہ کے اجلاسوں میں زیر غور آیا تھا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے ریکارڈ کے مطابق عدالت کی تشکیل اور شکایت درج کرنے کا نہ کوئی ایجنڈا ہے اور نہ ہی کوئی نوٹیفکیشن موجود ہے۔ جسٹس مسعود جہانگیر نے ریمارکس دیئے کہ یعنی سب کچھ دو دن میں ہوا، اس پر جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا کہ یہ تو لگتا ہے سب کچھ واٹس ایپ پر ہوا۔ جسٹس مظاہر علی نقوی نے ریمارکس دیئے کہ ضیاءالحق نے کہا تھا کہ آئین کیا ہے؟12 صفحوں کی کتاب ہے، اس کتاب کو کسی بھی وقت پھاڑ کر پھینک دوں، یہ آئین توڑنا تھا، ایمرجنسی تو آئین میں شامل ہے۔اپنے ریمارکس میں جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا کہ اگر ایسی صورتحال ہو جائے کہ حکومت ایمرجنسی لگا دے تو کیا اس حکومت کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ چلے گا؟ جسٹس امیر بھٹی نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے تحت ایسا کیا جا سکتا ہے۔ اس پر جسٹس مظاہر علی نقوی نے استفسار کیا کہ تو پھر آئین سے انحراف کیسے ہو گیا؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں آرٹیکل6 میں معطلی، اعانت اور معطل رکھنے کے الفاظ شامل کیے گئے تھے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ترمیم کے بعد کسی ملزم کو ماضی سے جرم کی سزا دی جا سکتی ہے؟ جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نئی قانون سازی کے بعد جرم کی سزا ماضی سے نہیں دی جا سکتی۔ جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ پارلیمنٹ نے 3 لفظ شامل کر کے پورے آئین کی حیثیت کو بدل دیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے پرویز مشرف کے خلاف انکوائری مکمل کی جس پر جسٹس مظاہر علی نقوی نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کی کتنے رکنی ٹیم انکوائری کی۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 20 سے 25 افراد پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے انکوائری مکمل کی۔عدالت نے استفسار کیا کہ ان میں سے کتنے افراد ٹرائل میں پیش ہوئے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ان میں سے صرف ایک شخص خصوصی عدالت کے سامنے ٹرائل میں پیش ہوا۔ پرویزمشرف کی سزا معطلی سے متعلق متفرق درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے پر لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھاجسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزا سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا۔

نواز شریف کا اقتدار کے نظریے کا اعادہ

جن لوگوں کے نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے حالیہ ڈیل اور فورسز بل کی ترمیم کی حمایت پر پیٹ میں بل پڑ رہے ہیں اور وہ اسے ووٹ کو عزت دو اور سول سپرمیسی کے نظریے کی موت قرار دے رہے ہیں ۔ایسے لوگ نواز شریف کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں کیونکہ نواز شریف نے کبھی بھی نظریاتی ،انقلابی یا جمہوریت پسند سیاست نہیں کی۔ ان کا ایک ہی نظریہ تھا اقتدار اور وہ بھی ہر قیمت پر ،چاہے اس تک پہنچنے کےلئے ووٹ کی بیساکھیوں کو ہی کیوں استعمال نہ کرنا پڑے۔ اس لیے حالیہ ڈیل کو جمہوری نظریے کی موت کہنا زیادتی ہو گی کیونکہ کسی بھی موت کےلئے وجود کا ہونا ضروری ہے جو کبھی تھا ہی نہیں۔ البتہ موجودہ ڈیل ماضی کی طرح ان کے نظریے کا اعادہ ہے۔ بیچ بیچ میں مجھے کیوں نکالا اور ووٹ کو عزت دو جیسے نعرے منہ کا ذایقہ بدلنے کےلئے آتے ہیں لیکن پھر مفاد کی گاڑی اسی پرانی پٹڑی پر چل نکلتی ہے۔
مجھے نواز شریف پر ہمیشہ ترس آتا ہے کہ اسے ہمیشہ استعمال کیا گیا۔ کبھی اس کی اپنی تخلیق کردہ اصطلاح خلائی مخلوق کے ذریعے اور کبھی ہم نظریہ منتشر سیاسی گروہوں کے ہاتھوں۔ قسمت کا دھنی اور پنجابی ہونے کی وجہ سے اقتدار ہمیشہ ان کے دروازے پر دستک دیتا رہا جس سے ان کے گرد منتشرالخیال ہجوم بڑھتا رہا۔ اگر نواز شریف پنجابی نہ ہوتا تو شاید انجام سندھ کے بھٹو خاندان کی طرح کا ہوتا۔ لیکن پنجابی اسٹیبلشمنٹ کو اپنے مقاصد کے لیے ایک چابی والا کھلونا چاہیے تھا سو مل گیا۔ گو کہ جب بھی اس نے اس چابی کے اثر سے باہر نکل کر خود چلنے کی کوشش کی اسے وقتی طور پر معذور کر دیا گیا۔لیکن ماں آخر ماں ہوتی ہے اس لیے اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ اپنے اس فرزند کو سیاسی طور پر اپنے لیے زندہ رکھا جس کی ایک حالیہ مثال جیل سے لندن یاترا اور پھر اس نازک موقع پر اسٹیبلشمنٹ کو غیر متوقع طور پر ایک بار پھر کندھا دے کر طوفان سے نکالنا نواز شریف کا ہی خاصا ہے۔ میں اس غیر متوقع کی پخ کو بھی نہیں مانتا ، خدا کا شکر ہے کہ اس بار بھی نواز شریف نے اپنے تخلیق کاروں کو مایوس نہیں کیا۔
ایک جرنیل کی پرچی پر ضیاءالحق کی کابینہ میں بذریعہ ابا جی بطور وزیر خزانہ شامل ہونےوالے نواز شریف کبھی بھی اس پرچی سے باہر نہیں نکل سکے۔ ان کی سیات کی پہلی انٹری بھی اقربا پروری کے ذریعے ہوئی اس لیے ان کی سیاست مارشل لا اور اقربا پروری کی اس گھٹی سے کبھی باہر نہیں نکل سکی۔ تاریخ کی کتابوں میں محلاتی سازشوں کا پڑھا کرتے تھے کہ کس طرح بظاہر شیروشکر رہنے والے تخت کےلئے کس طرح اپنے ہی خونی اور قابل اعتماد رشتوں کا بھی گلا کاٹنے سے نہیں چوکتے تھے۔ اس سلسلے میں نواز شریف کی پہلی واردات اپنی ہی پارٹی کے صدر محمد خان جونیجو تھے جن کو ضیاالحق کی خوشنودی کےلئے رستے سے ہٹا دیا گیا۔یہ ان کا اپنے مفاد کے حصول کیلئے پہلا قتل تھا۔پھراس کی زد میں غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری بھی آئے اور کسی حد تک گجرات کے چوہدری بھی۔ نواز شریف کے قافلہ میں دیگر درباری جن میں محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف انتخابات میں ان کی تذلیل کرنےوالے غلام دستگیر خان ، مجلس شوری کے خواجہ صفدر، گجرات کے چوہدری، آپا نثار فاطمہ وغیرہ شامل ہوئے۔ گو اس قافلہ میں شامل ہونےوالوں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن ان حضرات کا بطور خاص ذکر اس لیے کیا کہ ان کے فرزندگان نے نظریاتی مسلم لیگ کا جھنڈا اٹھا رکھا ہے اور آج کل کی مسلم لیگ کی ہیت میں یہ بطور درباری ہروال دستہ ہیں۔ خواجہ صفدر ڈکٹیٹر ضیاءالحق کی مجلس شوری کے چیئرمین تھے ان کے بیٹے خواجہ آصف سے جمہوریت پسندی کی کس حد تک توقع کی جا سکتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے حالیہ ڈیل میں ان کا کردار سب کے سامنے ہے۔ تمام تر الزامات خواجہ آصف پر ڈالنا بھی زیادتی ہو گی وہ تو محض ایک مہرہ ہے ۔ البتہ شہباز شریف کا اس کھیل میں کوئی ذکر نہیں جو گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ کب ان کا رستہ صاف ہو اور وہ وزیر اعظم بننے کا اپنا دیرینہ خواب پورا کر سکیں۔ مریم اپنے انداز سیاست کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ سے دور ہیں۔ جب تک اس ڈیل کے مطابق ان کے مقدمات ختم نہیں ہوتے وہ کوئی فعال کردارادا نہیں کر سکتیں۔ مقصد کے حصول کےلئے انہیں مصالحانہ رویہ اپنانا ہو گا۔
نواز شریف اس اقتدار سیریز کی دوسری قسط جنرل (ر) حمید گل کا تخلیق کردہ اسلامی جمہوری اتحاد تھا جس کی تخلیق کا اقرار جنرل صاحب نے ببانگ دہل کیا اور وجہ اس کی یہ بتائی کہ پیپلز پارٹی کا رستہ روکنا مقصود تھا۔ خیر نواز شریف کو انعام کے طور پر تخت پنجاب سونپ دیا گیا اور بعد میں ملک کے وزیر اعظم بھی بن گئے۔ لیکن اقتدار میں شریکہ نہ برداشت کرنے کی ضد اور اسٹیبلشمبٹ کے ایک اور گھوڑے اور اپنی ہی صف کے شریک اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان سے اختلافات کی وجہ سے نواز شریف کو چلتا کر دیا۔ خیر کچھ عرصہ بعد اسٹیبلشمنٹ کو ایک بار پھر ان کی ضرورت پڑ گئی اور وہ دوسری بار وزیر اعظم بن گئے۔ لیکن اس بار بھی وہ اپنے تخلیق کاروں کو بھول گئے اور اپنے ہی بنائے گئے آرمی چیف پرویز مشرف سے اختلافات کی وجہ سے ایک بار پھر اقتدار سے باہر اور جلاوطن ہوئے۔ اس وقت اکثریت نواز شریف کو قصہ پارینہ سمجھ چکی تھی لیکن میں نے تب بھی لکھا تھا نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت ہے اور ایک بار وہ پھر اقتدار کے ایوانوں میں ہوں گے۔ بالآخر ان کی وطن واپسی ہوئی اور عدلیہ نے کمال مہربانی سے انہیں کلین چٹ دےدی۔ اسی دوران مزاحمت کی علامت بے نظیر شہید ہو گئیں اور ان کے بعد پیپلز پارٹی کو اقتدار تو ملا اور پانچ سال پورے بھی کیے لیکن ایک عظیم لیڈر کے منظر سے ہٹنے کے بعد پارٹی انتشار کا شکار رہی۔ اگلے انتخابات کے بعد نواز شریف کو ایک بار پھر اقتدار ملا لیکن اسٹیبلشمنٹ سے ایک بار پھر اختلافات کی وجہ سے انہیں اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا اورحقیقی قیدو بندکی سختیاں بھی جھیلنا پڑیں۔اس دوران ان کی بیوی کلثوم نواز بھی اللہ کو پیاری ہو گئیں۔
2018ءکے انتخابات کے نتیجہ میں عمران خان کی حکومت آئی اور اس نے عوام میں غیر مقبول ہونے کے تمام ریکارڈتوڑ دیے۔ اسی حکومت کی نااہلی اور نا تجربہ کاری نے آرمی چیف کے توسیع کے مسئلہ پر ایک تنازعہ کھڑاکر دیا اور عدلیہ کی مداخلت پر پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنا پڑی جو کہ اپوزیشن کے تعاون بالخصوص مسلم لیگ نواز کے ممکن نہ تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کو ایک بار پھراپنی تخلیق نواز شریف کی طرف دیکھنا پڑ گیا اور اس نے حیرت انگیز طور پر اسے مایوس نہیں کیا۔ ماضی کے تجربات کے پیش نظر مجھے یقین ہے کہ نواز شریف ایک بار پھر تمام الزامات اور مقدمات سے بری ہو کر سرخرو ہوں گے اور اقتدار کا ہما ان پر یا ان کے اشارے پر ہی کسی کے سر پر براجمان ہو گا ۔جذباتی اور نا تجربہ کار بلاول بھٹو ان حالات سے مایوس ہو کر بیرون ملک جا بیٹھا ہے گو کہ پیپلز پارٹی کے کچھ اراکین کا کہنا ہے کہ وہ مایوس نہیں پارٹی پالیسی اور اپنے اصولی موقف کی ہار پر ناراض ہیں ۔ میری رائے میں انہیں اپے گھر میں موجود سیاست کی یونیورسٹی اور جہاندیدہ آصف علی زرداری کی معاملہ فہمی کو اپنے جذبات پر ترجیح دینی چاہیے۔ ان کا گلہ بجا ہے کہ ا ن کے والد آصف علی زرداری نے نوید قمر کو براہ راستہ ہدایات دےکر ترامیم واپس لینے کو کہا اور انہیں اعتماد میں لینا بھی گوارہ نہ کیا۔ مریم اور بلاول نے اگر سیاست کرنی ہے تو اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلناہو گا۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ عمران خان کی غیر مقبولیت اور ان کی نا اہل ٹیم کی وجہ اور بلاول بھٹو کی منہ زوری کی وجہ سے سٹیبلشمنٹ کو شاید ایک بار پھر نواز شریف جیسے آزمائے ہوئے گھوڑے پر ہی انحصار کرنا پڑے۔کوئی بعید نہیں کہ چوتھی بار بھی اقتدار کا ہما نواز شریف کے سربیٹھے۔ پیپلزپارٹی کو پنجاب، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں کچھ اضافی نشستیں مل سکتی ہیں۔ ان کا رول بھی سندھ کے علاوہ اپوزیشن میں ہی نظرآ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ سینیٹ میں بھی آنےوالے انتخابات میں پی ٹی آئی کی اکثریت نظرآ رہی ہے ۔ طاقت کا توازن ہر دو صورتوں میں ہمیشہ کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہو گا۔ لیکن اس بار نواز شریف کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اگر تمام معاملات طے شدہ امور کے مطابق طے پاتے ہیں تو بیٹی یا بھائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔
(کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭

‘شوہر 10 دن نہاتا نہیں، دانت بھی صاف نہیں کرتا‘، بیوی نے طلاق مانگ لی

بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ لڑکی نے شوہر گندا ہونے کی وجہ طلاق کا مطالبہ کردیا۔ڑکی نے شوہر سے طلاق لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کییا، 20 سالہ بھارتی لڑکی نے عدالت میں شکایت درج کراتے ہوئے کہا کہ اس کے شوہر میں طور طریقہ اور تمیز بھی نہیں ہے۔اسٹیٹ ویمن کمیشن (ایس ڈیبلیو سی) نے 20 سالہ سونی دیوی کی شکایت سننے کے بعد اس کے 23 سالہ شوہر منیش رام کو 2 ماہ کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ اگر 2 ماہ میں وہ اپنے آپ کو نہیں سدھارتے تو وہ اس شکایت کے خلاف ایکشن لیں گے۔20 سالہ بھارتی لڑکی نے درخواست دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا شوہر ایک پلمبر ہے، وہ 10،10 دن تک نہیں نہاتا، دانت بھی صاف نہیں کرتا، اس کے اندر طور طریقے اور تمیز بھی نہیں ہے۔شکایت درج کرنے والی لڑکی نے موقف اپنایا ہے کہ ’میں اپنے شوہر کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی، میں اب اسے برداشت نہیں کرسکتی مجھے اس شخص سے دور کردیں کیونکہ اس نے میری زندگی برباد کردی ہے‘۔بھارتی لڑکی سونی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اسے شوہر سے قیمتی زیورات بھی دلوائے جائیں جو کہ اس کے والد نے جہیز کے طور پر انہیں دیے تھے۔اس معاملے میں جب لڑکی کے شوہر کا مؤقف جانا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ ہم ساتھ رہنا چاہتے ہیں، اور وہ ان 2  ماہ میں اپنی بیوی کا اعتماد بحال کرنے کی بھی کوشش کرے گا

‘عہد وفا’ کو سائن کرکے ایسا لگا جیسے پاؤں پر کلہاڑی مارلی، زارا نور

پاکستان کی نامور اداکارہ زارا نور عباس اس وقت مقبول ہونے والے ڈرامے ‘عہد وفا’ میں اپنے کردار کے لیے مداحوں کی خوب تعریفیں بٹور رہیں ہیں۔29 سالہ زارا نور عباس ہم ٹی وی کے اس ڈرامے میں نوری نامی گاؤں کی لڑکی کا کردار نبھارہی ہیں جبکہ عثمان خالد بٹ نے ان کے شوہر کا کردار نبھایا ہے۔اس ڈرامے کی کہانی چار دوستوں پر مبنی ہے جو اسکول میں ہوئے ایک جھگڑے کے بعد ایک دوسرے سے دور تو ہوجاتے ہیں لیکن ہمشیہ ساتھ گزارے لمحات کو یاد کرتے ہیں۔عثمان خالد بٹ کے علاوہ اس ڈرامے میں احد رضا میر، احمد علی اکبر اور وہاج علی اہم کردار نبھارہے ہیں جبکہ علیزے شاہ بھی اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ڈرامے کے چند ایسے کردار ہیں جو اس وقت انٹرنیٹ پر بےحد مقبول ہورہے ہیں جن میں ایک گلزار حسین کا ہے جبکہ دوسرا زارا نور عباس کا کردار ‘رانی’ ہے۔یسے تو اس ڈرامے میں اداکاروں کے کردار زیادہ اہم ہے البتہ زارا نور عباس اپنی کردار کے باعث کافی داد وصول کررہی ہیں۔ڈرامے میں کاسٹ کے حوالے سے زارا نور عباس نے حال ہی میں برطانوی خبر رساں ادارے انڈیپینٹنڈ کی اردو سروس کو ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے عہد وفا کے ساتھ ساتھ اپنی فلمز ‘چھلاوا’ اور ‘پرے ہٹ لو’ کے حوالے سے بھی بات کی۔زارا نور عباس عہد وفا کا حصہ کیسے بنی، یہ شیئر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میں پرے ہٹ لو کی تشہیر کررہی تھی جب میرے دوست نے مجھے عہد وفا کا بتایا، سیفی حسن اس کی ہدایت کررہے تھے، میں ذاتی طور پر سیفی حسن کے ساتھ کام کرنے کی خواہشمند تھی’۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں نے پھر شہریار منور سے اجازت لی جو پرے ہٹ لو کے پروڈیوسر بھی تھے، تاکہ میں فلم کی تشہیر کو چار روز کے لیے چھوڑ کر اس ڈرامے پر کام کرسکوں’۔

پی سی بی میں ایک اور اہم تبدیلی، چیف فنانشل آفیسر مستعفی

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) میں استعفوں اور نئی تقرریوں کا سلسلہ جاری ہے اور بورڈ کے چیف فنانشل آفیسر بدر محمد خان نے 8سال بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ میں گزشتہ شروع ہونے والی تبدیلیوں کا سلسلہ نئے سال بھی جاری ہے اور 8سال سے بورڈ میں چیف فنانشل آفیسر کی ذمے داریاں انجام دینے والے بدر محمد خان نے بھی بورڈ کو خیرباد کہہ دیا ہے۔بدر محمد خان نے کہا کہ جولائی 2011 سے پانچ پی سی بی چیئرمین کے ماتحت کام کرنے کے بعد اب آگے بڑھنے اور دیگر مواقع تلاش کرنے کا وقت آ گیا ہے۔انہوں نے پی سی بی میں کام کرنے کو اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے صرف کمپنی کی مالی اور کمرشل ترقی میں اپنا کردار ادا نہیں کیا بلکہ اس دوران مجھے بہترین پیشہ ورانہ قابلیت کی حامل شخصیات سے ملنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا بھی موقع مل