سنگین غداری کیس کے خلاف پرویز مشرف کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

لاہور ہائی کورٹ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی سزا، خصوصی عدالت کی تشکیل اور حکومت کی جانب سے غداری کیس درج کیے جانے کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔پرویز مشرف کے وکیل اظہر صدیقی نے ڈان نیوز کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلہ آج (13 جنوری کو) سنائے جانے کا امکان ہے۔جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد امیر بھٹی اور جسٹس چوہدری مسعود پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پرویز مشرف کی درخواستوں پر دوبارہ سماعت کا آغاز کیا۔سماعت کے آغاز پر وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل(اے اے جی) اشتیاق اے خان پیش ہوئے اور وفاقی حکومت کی جانب سے خصوصی عدالت کی تشکیل سے متعلق سمری اور ریکارڈ پیش کردیا۔مزید پڑھیں: غداری کیس کیخلاف درخواست: وفاقی حکومت سے خصوصی عدالت کی تشکیل کی سمری طلبایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف کیس بنانے کا معاملہ کبھی کابینہ ایجنڈے کے طور پر پیش نہیں ہوا۔ جس پر جسٹس مسعود جہانگیر نے استفسار کیا کہ کابینہ کا اجلاس کس تاریخ کو ہوا تھا اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ اجلاس 24 جون 2013 کو ہوا تھا۔

پنجاب اسمبلی سے امریکی قونصل خانہ تک ،امریکہ مردہ باد ریلی،ٹریفک نظام درہم برہم

لاہور (جنرل رپورٹر)اتحاد امت فورم کے زیراہتمام لاہور میں پنجاب اسمبلی سے امریکی قونصل خانہ تک امریکہ مردہ باد ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت شیعہ علماءکونسل کے علامہ سبطین سبزواری، مجلس وحدت مسلمین سے علامہ حسن رضا ہمدانی، وفاق المدارس شیعہ پاکستان و جامعہ المنتظر کے علامہ نیاز حسین نقوی،جامعہ عرو الوثقی ٰ کے علامہ توقیر عباس،امامیہ آرگنائزیشن کے علی رضا نقوی،جامعہ المصطفیٰ مولانا
سین نجفی، تحریک تحفظ تشیع پاکستان سے علامہ امتیاز کاظمی،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر عارف حسین، جامعہ بعثت کے مولانا حیدر عباس نقوی،انجمن حسینیہ خواجگان نیاز حسین گھلو،جعفریہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ذیشان عباس شمسی نے کی۔ریلی کے شرکاءنے س±رخ پرچم، شہید قاسم سلیمانی کی تصویریں بینرز، پلے کارڈ زور امریکی صدر ٹرمپ کا پتلا اٹھا رکھے تھے جبکہ جگہ جگہ اسرائیلی اور امریکی پرچم سٹرک پر بچھائے گئے تھے، مقررین نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ اس دل خراش سانحہ پر رنجیدہ ہے، عالمی سامراج امریکہ نے بزدلانہ اور دہشت گردانہ کارروائی سے عالمِ اسلام پر حملہ کرکے مشرق وسطی ٰمیں اپنی پسپائی کو چھپانے کی مذموم کوشش کی ہے، اسلام کے عظیم مجاہد نے شام میں اسلام کے حقیقی چہرہ کو مسخ کرنیوالی قوتوں بالخصوص داعش جیسے فتنہ کو نیست و نابود کیا جس کے نتیجے میں امریکہ نے قاسم سلیمانی اور ابو مہدی مہندس کو شہید کر دیا۔ قاسم سلیمانی کسی ایک ملک کے نہیں بلکہ عالمی مقاومت کے سپہ سالار اور عالم اسلام کی تمام نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے محافظ تھے۔ انہوں نے کہا کہ استعماری طاقتیں مڈل ایسٹ میں گریٹر اسرائیل کے منحوس نقشہ میں رنگ بھرنے میں کوشاں تھیں جس کو شہید قاسم سلیمانی نے بہترین حکمت عملی سے چکنا چور کیا۔ امریکہ کے حالیہ انتہا پسندانہ واقعہ سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ امریکہ عالمی استعمار کسی ملک کا وفادار یا دوست نہیں ہو سکتا، اس لئے حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں استحکام کے نام پر افغانستان اور عراق میں فتنہ گری کرنیوالے شیطان بزرگ کی دوستی سے گریز کریں اور ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت قومی وقار اور قومی غیرت کا سودا ہرگز نہ کرے بلکہ عالمی استعمار امریکہ سے اپنا تعلق مکمل طور پہ ختم کر دے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سرزمین پاکستان کو امریکی مفاد کیلئے کسی صورت استعمال نہیں ہونے دیں گے۔امریکہ مردہ ریلی سے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا کہ عالمی استعمار امریکہ نے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی پامالی کی ہے اور عراق کی خود مختاری کو روندتے ہوئے حملہ کیا گیا، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے امریکہ نے بغیر کسی عدالتی کارروائی اور بغیر کسی ثبوت کے کئی انسانوں کی جان لی ہے۔مقررین نے مزید کہا کہ عالمی دہشت گر تنظیم داعش نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر خوشی کا اظہار کیا اور امریکی صدر ٹرمپ بھی اس قتل میں براہ راست ملوث ہے داعش اور اس کے اصل مالک ٹرمپ ایک پیج پر ہیں لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ نے اس عظیم ظلم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے مقررین نے مزید کہا کہ دوستی کے لبادے میں چھپا ہوا عالم اسلام کا سب سے بڑا دشمن امریکہ ہے۔ آستین کے اس سانپ سے جس قدر جلد ممکن ہو چھٹکارا حاصل کر لینا چاہیے۔ امام خمینی نے آج سے چالیس سال قبل واضح طور پر کہا تھا کہ امریکہ شیطان بزرگ اور مسلمانوں کا دشمن ہے۔ اس وقت اگر ہمارے حکمران ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے تو آج عالمی سامراج کے ہاتھوں ہمیں اسی طرح کی سنگین دھمکیوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔مقررین کا کہنا تھا کہ عالمی دہشتگرد گروہ داعش کے فتنہ کیخلاف امام ِ کعبہ سمیت عالَم ِاسلام کے تمام مفتیان ِکرام فتویٰ دے چکے ہیں تنظیم انبیاء کرام، اہلبیت عظام، صحابہ کرام اور بزرگان ِدین کے مزارات کے منہدم کرنے کے علاوہ بے گناہ مسلمانوں کو زندہ جلانے اور انسانی کھالیں اتارنے جیسے بہیمانہ جرائم کی مرتکب تھی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل قاسم س±لیمانی نے الٰہی بصیرت اور شجاعت سے اِس فتنہ کا مقابلہ کیا، جو درحقیقت ”اسلامی عسکری اتحاد” کے فرائض میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں داعش کے نفوذ کی شروعات سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ اگر شام و عراق میں جنرل س±لیمانی کی قیادت میں مجاہدین ان کا راستہ نہ روکتے تو پاکستان بھی بے گناہوں کے مقتل کا نقشہ پیش کر رہا ہوتا۔ جنرل قاسم سلمانی نے علم جہاد بلند کیا اور عراق کو داعش کے نجس وجود سے پاک کیا۔ مقدسات کی حفاظت کرنے والے قاسم سلیمانی امت مسلمہ کے عظیم سپاہی تھے۔

ڈیرہ غازی خان ،پنچایت کے حکم پر کم عمر بچی کے ساتھ درندگی کہاں کا انصاف ہے،ضیا شاہد

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیرہ غازی خا ن میںبھائی کے جرم کی سزا بہن کو دے دی گئی شادی شدہ لڑکی سونی مائی لڑکی کے بھائی کے ساتھ بھاگ گئی تھی بدلے میں پنچایت کے فیصلے پر لڑکے کی تیرہ سالہ بہن امیراں کو گھر میں گھس کر اغوا کے بعد بے آبرو کر دیا گیا مقامی پولیس کشوبہ تھانہ نے ملزمان سے ساز باز کر لی تاہم پولیٹیکل اسسٹنٹ سید موسی کے حکم پر پولیس نے مقدمہ درج کیا دوسرے کیس میںپتو کی میں چوہد ریوں کا بار بار تشدد جنسی ہراساں کرنے کی کوشش، خاتون شمیم بی بی نے چوکی انچارج کو درخواست دی لیکن پولیس رشوت مانگتی رہی تنگ آکر خاتون نے خود کو تھانے کے سامنے آگ لگا لی جسے تشویشناک حالت میں لاہور کے جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔شمیم بی بی سات بچوں کی ماں ہے۔ملزمان تاحال آزاد ہیں۔سینئر صحافی ضیا ءشاہد نے بتایا کہ کم عمر بچی کو اغوا کے بعد درندگی کا نشانہ بنانا سفاکانہ کھیل ہے بچی کا کیا قصور تھا اگر اسی کے بھائی نے جرم کیا تھا تو لڑکی کا کیا قصور تھا۔چینل فائیوہ کے پروگرام ہیومین رائٹس واچ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنچایت کے نام پر یہ جو ازخود عدالتیں بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اسمبلی میں اس پر بات کیوں نہیں کی جاتی۔کہا جاتا ہے علاقے کا اصول ہے جو قانون کے مطابق نہیں وہ کیسے اصول ہو گیا علاقائی قانون کیسے تسلیم کیا جاتا ہے لوگوں کو کیا حق تھا اس کے بھائی کے جرم کی سزا بہن کو دیتے۔یہ علاقائی قانون کی کیا حیثیت ہوتی ہے ایسے کیسز کا ہائیکورٹ میں کیا فیصلہ دیا جاتا ہے۔ لیگل ایڈوائزرآغا باقر نے بتایا کہ کس قدر جاہلانہ رسم ہے کہ جرم کوئی کرتا ہے بھگتنا کسی کوپڑتا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے بھائی کے جرم کی سزا کمسن تیرہ سالہ بہن امیراں کو دے دی گئی اگر لڑکی کے بھائی نے جرم کیا دیکھنا ہو گا کیا جرم تھا بھی بچی کے جس طرح کپڑے پھاڑے گئے برہنہ کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا یہ بہت بڑا جرم ہے ۔بچی کا کیا جرم تھا یہ کیسا رواج ہے ۔ریاست کیا کر رہی ہے جاگیر داری نظام کیوں نہیں ٹوٹتا۔دوسرے کیس میں لگتا ہے چوہدریوں نے غریب شخص کی بیوی پر بری نظر رکھی ہوئی تھی خاتون نے خود کو آگ لگا لی پولیس بے حس ہو گئی غریب جائے تو کہاں جائے۔جاگیر دار خدا بنے بیٹھے ہیں۔

امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سر زمین استعمال کرنا چاہتا ہے،سابق سفیر مشتاق اے مہر

اسلام آباد(انٹرویو ملک منظور احمد تصاویر نکلس جان) کویت میں پاکستان کے سابق سفیر اور ممتاز سفارتی امور کے ماہر مشتاق اے مہر نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ نہیں ہو گی ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان صلح ہو سکتی ہے ،سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ثالثی کروانے کے حوالے سے پا کستان کا کردار محدود ہے ۔پاکستان نے اب کسی جنگ کا حصہ نہ بننے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ ایک بہتر اور مثبت فیصلہ ہے ان خیا لا ت کا اظہا ر انہوں نے چینل فائیو کے پر وگرام ڈپلو میٹک انکلیو میں خصوصی ا نٹرویو کرتے ہوئے کہا کہ ہر ملک اپنے قومی مفادات کے لیے جدوجہدکرتاہے،امریکہ کے مقا صد ہیں کہ اگر جنگ ہو تو پا کستان کو استعمال کیا جائے ،پاکستا ن کی زمین کو استعمال کیا جائے ،کم از کم پاکستان ایران کی مدد نہ کرے ۔ سابق سفیر نے خطے کی صورتحال ،پاکستان کی امن کی کو ششیں ، ایران امریکہ کشیدگی ،اور مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیا ل کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بھی یہی کو شش ہے کہ حا لا ت جیسے بھی ہو ں پا کستان ایک بارپھر سے امریکہ کی گو د میں جا کر نہ بیٹھ جائے کیو نکہ ایران کا تجربہ کا ہے کہ ہم نے پچھلے تیس سال امریکہ کا ساتھ دیا ہے دونوں ملکو ں کے علیحدہ علیحدہ مقاصد ہیں اور وہ مقاصد یہ ہیں پا کستان کسی بھی ملک کی سا یئڈ نہ لے اگر پا کستان نیو ٹرل رہتا ہے تو ایران ،امریکہ خوش رہتے ہیں ۔لیکن پاکستان مسلم ملک ہے میر ے خیال سے ہمیں خاموشی سے تماشہ نہیں دیکھتے رہنا چاہیے اس لیئے پا کستان نے کو شش کی ہے کہ دونو ں سایئڈز کو علیحدہ علیحدہ کیا جائے اور امن کی طر ف لا یا جائے ۔ٹرمپ کے ذہن میں ہے کہ وہ دنیاکی بہت طاقتو ر حکو مت ہے اور اس کے ہا تھ میں سب پاور ہے ان حالات میں پا کستان کی کو شش رہے گی کہ وہ دونوں ملکوں کے حا لا ت میں تھوڑی بہتری آئے ۔کم از کم یہ جنگ کی طرف نہ جائیں اور غیر ضروری اکنامک پر یشر ،آئل اینڈ گیس کا پر یشر کم ہو جائے ۔کیونکہ پاکستان زیادہ اثر انداز ہوتا ہے ۔ایران کی خوشحالی سے ہمیں فائدہ تو نہیں ہو گا لیکن اس کی غربت سے ہمیں نقصان ضرور ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ سعودی عریبیہ اور ایران کی صلح ہو سکتی ہے اس کے لئے گروپ چاہیے جیسے پاکستان ،مصر ،انڈونیشیا اور اسلامک ممالک اکٹھے ہو کر کو ئی میکنزیم بنائیں او آئی سی کے ذریعے یا ڈائریکٹلی ،سعودی عریبیہ اور ایران میں بہت زیا دہ مشکلا ت نہیں ہیں،ایران اپنے وسائل شیعہ ازم پر زیادہ خرچ کرتا ہے وہ ان ملکوں پر خرچ کرتے ہیں جہاں مشکلا ت زیا دہ ہیں جیسے کہ اعراق ،کویت ،یمن اور پا کستان ہیں۔اگر وہ صرف اسلامک آیئڈیا لوجی کو پھیلائیں تو سعودی عریبیہ اور ایران میں اچھے حالا ت ہو سکتے ہیں ۔ایران کی مشہور شخصیت جنرل سلیمان کی امریکہ کی جانب سے ڈرون حملے میں شہادت پر سابق سفیر کا کہنا تھا کہ دنیا ٹرمپ سے ڈرتی ہے کیونکہ وہ کہتاہے کہ دنیا کی سب سے پاور فل فو ج میرے پا س ہے میں اس کا کمانڈر ہوں ،دنیا میں کو ئی ایسا ملک نہیں جہا ں ایسا کما نڈر ہو ۔ٹرمپ نے بھی اپنی طاقت دکھانے کی کو شش کی ہے ،کہ وہ اپنے دشمنو ں کو مارسکتے ہیں امریکہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر آپ کو ئی کام ہمارے خلا ف کریں گے تو ہم آپکے گھر گھس کر مارسکتے ہیں ۔یہ فیصلہ غلط ہے اور انٹر نیشنل لا ءاور ہیومین رائٹس کے خلا ف ہے ہم اس کی شدید مزمت کرتے ہیں لیکن امریکہ کی عوام میں بہت سارے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اسے اچھا اقدام مانا ہے اور اس فیصلے کو سراہا ہے ۔ایران پر امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران کی تاریخ بہت پرانی ہے ایران بہت بڑا ملک ہے اتنا بڑا انقلا ب اس نے دیکھا ہے اور بہت ساری کا میابیاں حاصل کیں ہیں ایران کے دوسرے مما لک کے ساتھ تعلقات کسی بھی قسم کے لالچ سے نہیں ہیں بلکہ وہ سیا سی تعلقات استعمال کرتا ہے ایگریکلچر اس کے پا س ،آئل اور ٹیکنالوجی ایران کے پا س ہے، اگر امریکہ ایران جنگ ہوتی ہے تو غربت ایران میں ضرور لوٹ آئے گی ۔ لیکن ایران بھوکے نہیں مریں گے۔ایک سوال کے جواب میں سابق سفیر نے کہا کہ یورپ نے جنگ دیکھی ہے لاکھوں لوگ اس میں مارے گئے ہیں اس سے زیا دہ ضروری بات یہ ہے کہ ویسڑن یورپ میں نے بہت بڑا گیم کیا ہے جو کمیو نسٹ یو رپ کو ختم کیا ہے اب یو رپ اختلا فات ختم کر کے ترقی کی جانب بڑھنا چاہتا ہے ،وہ نہیں چا ہتا کہ کوئی بیرونی اثرات اس کا میا بی پر اثرانداز ہو ں اور وہ کسی قسم کے اکنا مک پر یشر میں آئے ۔اس وقت یو رپ کو ترقی کی ضرورت ہے اسے مدد او ر امن کی ضرورت ہے اس نے چائنہ اور رشیا ءسے سیکھا ہے کہ جنگ تباہی کا پیش خیمہ ہو تی ہے اس سے ٹیکنا لو جی ختم ہو جاتی ہے ملک غربت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا صدر بش نے غیر ضروری طور پر جنگ کی ویتنا م میں بغیر ضرورت کے جنگ ہو ئی انیس سو پنتالیس کے بعد کسی بھی جنگ میں امریکہ کو فائدہ نہیں ہوا،امریکہ کا دنیا میں اچھا تاثر پیدا نہیں ہو ا،اس لیے کہا گیا کہ جتنے بھی فیصلے ہو ئے ہیں اگر وہ سینیٹ اور کا نگرس کی اجازت کے بغیر کے ہو ئے ہیں تو غلط کیے گئے ہیں ۔جبکہ اس کے مقابلے میں امریکہ کے دشمن رشیاء،چائنہ نے امن کی پا لیسی اختیار کر کے غربت کو دور کیا ۔اور آج وہ ٹیکنالو جی اور خوشحالی میں بہت آگے تک جارہے ہیں ۔لیکن فوج کا کنٹرول امریکہ کے صدر کے پا س ہی رہے گا کیونکہ ٹرمپ کہتا ہے کہ دنیا کی سب سے مضبو ط فو ج میر ے پا س ہے میں اس کا کمانڈر ہوں دنیا میں کو ئی ایسا ملک نہیں جہاں ایسا کما نڈر ہو ۔یہ فرق ہے سسٹم میں ۔ایک سوال کے جواب میں انہو ں کہا کہ امریکہ کی عوام کی پڑھی لکھی اور بہت صحیح فیصلے کرتی ہے وہا ں کی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ٹرمپ کو گراکر امریکہ کو کمزور کرنا چاہتی ہے جیسے پہلے سوشل ڈیموکریٹک کر مسلہ تھا وہ ابامہ نے حل کردیا ،اب ایک پھر امریکن پبلک چاہتی ہے کہامریکہ ایک بار پھر انیس سو پینتالیس جیسا مضبو ط ملک ہو۔اس کے لیے ٹرمپ جیسا مضبو ط شخص چاہیے جو فیصلہ کرنے والا ہو،شور مچا نے والا ہو،جو لوگوں کو ڈرا سکے ۔اگر زیا دہ حا لا ت خراب ہوئے تو امریکہ ایک ٹرمپ اور آنے کی امید ہے ۔سابق سفیر کا کہنا تھا کہ اعراق نہیں چا ہتا کہ امریکن فو ج کو وہاں سے ختم کیا جائے ۔اگر اعراق میں فوجیں رہیں گیں تو وہاں امن رہے گا اگر اعراق سے فوجیں نکلتیں ہیں تو وہا ں سول وار کا خطرہ بھی ہو گا ،کردوں کے مسائل بھی اٹھ سکتے ہیں جھگڑا فساد ہو گا ،جہاں پر آئین اور جمہوریت نہیں وہاں پر امریکن فورسز ضروری ہے کو شش کی جائے گی کہ امریکن فورسز کو رکھا جائے یا ٹوکن فورسز کو رکھا جائے گا۔جیسے پا کستان نے امریکہ کے ساتھ ایگری منٹ کیا ہوا ویسے اگر اعراق بھی کرتا ہے تو اس کے بارڈر محفو ظ رہے گے ۔ہر ملک چاہتا ہے کہ امریکن فورسز اس کے پا س آ جائے جیسا کہ قطر نے کیا ہے انہوں نے کا فی حد تک سعودی فورسز کو اپنے ہا ں جگہ دی ہے کویت نے امریکن فورسز کو اپنے ہا ں جگہ دی ہوئی ہے ۔امریکہ تیا ر ہے کہ وہ اپنی فوجیں دنیا بھر سے نکال کر چند ممالک تک محدود رکھے ۔اس کے بعد وہ اپنی اکنامک اور ٹیکنالو جی کو بہتر کرے گا کیونکہ وہ پروڈکشن میں بہت زیادہ پیچھے رہ گیا ہے۔سابق سفیر نے کہا کہ افغانستان کے اند ر ان کی اپنی اندرونی صورتحال بہت اہمیت کی حامل ہے ،یہ تین سو سال کا ملک ہے تا جک اور افغان دو حصوں میں تقسیم ہیں کوشش کرنی چاہیے کہ ان کو اکٹھا کیا جائے سعودیہ عریبیہ ،ایران اور پا کستان نے بیس سال صلح کروانے میںکوشش کی لیکن ناکام رہے طالبان کا مسلہ ہم نے اٹھا یا ہے اور ہم ہی اسے ختم کرسکتے ہیں ۔اگر وہ آپس میں لڑنا چاہتے ہیں تو ان دونوں کو اگلے بیس سے تیس سال تک چھوڑ دینا چاہیے۔آخری سوال کا جواب کا دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پا کستان کی فارن پا لیسی میں بہت زیادہ تبدیلی کی ضرورت ہے ،پاکستان پچھلے بیس سال سے ایک sleeping partnerبنا رہا ہے پا کستان کو چاہیے اس وقت جارحانہ قسم کی پا لیسی اختیار کرے ۔اور سعودی عریبیہ ،ایران اور اعراق کی مدد کرے اور ان سے مدد حاصل کرے ۔

دہلی ،ممبئی کے بعد چنائی میں بھی کشمیر کو آزاد کرو کے بینرز لہرا دئیے گئے ،مودی کے خلاف مظاہرے

چنئی‘ نئی دہلی (اے پی پی‘ آن لائن) بھارت میں پیش آنے والے ایک کے بعد دوسرے واقعے سے ظاہرہوتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی کی جدوجہد مودی کی فسطائی حکومت کے زیرتسلط رہنے والے بھارتی عوام خصوصا اقلیتوں کے لئے ایک علامت بن چکی ہے اوربھارت کے طول و عرض میں جاری مظاہروں کے دوران اب ”فری کشمیر“ کے پوسٹر کثرت سے دیکھے جاتے ہیں۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ماضی قریب میں ایسے پوسٹر اٹھانے والے لوگوں کے خلاف غداری کے مقدمات درج کئے جانے کے باوجود چنئی میں متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ایک مظاہرے کے دوران ’فری کشمیر‘کا پوسٹر دیکھا گیا۔اس سے قبل نئی دہلی اور ممبئی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران بھی اسی طرح کے پلے کارڈز دیکھے گئے تھے۔چنئی میںیہ پوسٹر نئی دہلی میںجواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباءاور اساتذہ پر تشددکے خلاف احتجاج کرنے والی ایک خاتون نے اٹھایا تھا۔دہلی کے بعد 6 جنوری کو ممبئی کے ایک مظاہرے کے دوران بھی ایک لڑکی کو ’فری کشمیر‘ کا پوسٹر تھامے ہوئے دیکھا گیا تھا۔5 جنوری کی شام کولاٹھیوں اور ہتھوڑوں کے ساتھ نقاب پوش مردوں اور خواتین کا ایک ہجوم نئی دہلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل ہوگیااور یونیورسٹی کے اندر موجود طلباءاور اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنایااور املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس واقعے میں اساتذہ اور طلبہ بری طرح زخمی ہوئے تھے جبکہ واقعے کے بعد 30 سے زائد طلباءکوٹروما سنٹر لے جانا پڑاتھا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ شہریت کا ترمیمی بل ان اقلیتوں کے لیے ہے جن پر پاکستان میں مظالم ہوئے اور اب پاکستان کو جواب دینا ہو گا کہ گذشتہ 70 برسوں میں وہاں اقلیتوں پر ظلم کیوں کیا گیا۔ اپنے دورہ مغربی بنگال کے دوسرے دن طلبا ءسے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر شہریت کے ترمیمی قانون (سی اے اے) پر بی جے پی حکومت کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون کسی کی شہریت ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ دینے کے لیے ہے۔ نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’اتنی وضاحت کے باوجود کچھ سیاسی وجوہات کی بنا پر سی اے اے کے بارے میں مسلسل ابہام پھیلایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں جس طرح دوسرے مذاہب کے لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے اس پر آواز ہمارا نوجوان ہی اٹھا رہا ہے۔ اگر ہم شہریت کے قانون میں یہ ترمیم نہ کرتے تو نہ تو یہ متنازع ہوتا اور نہ ہی یہ معلوم ہوتا کہ پاکستان میں اقلیتوں پر کیسے مظالم ہوئے۔‘ انھوں نے کہا کہ اب پاکستان کو جواب دینا ہو گا کہ گذشتہ 70 برسوں میں اقلیتوں پر ظلم کیوں کیا گیا؟ ’مہاتما گاندھی نے جو کہا تھا ہم وہی کر رہے ہیں۔ ہم نے شمال مشرقی انڈیا کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں تاکہ ان کی بنیاد متاثر نہ ہو۔‘ وزیر اعظم مودی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ قانون راتوں رات نہیں بنایا ہے۔ یہ قانون شہریت چھیننے کے لیے نہیں بلکہ دینے کے لیے ہے۔ سی اے اے ان اقلیتوں کے لیے ہے جن پر پاکستان میں مظالم ہوئے۔ کیا ہمیں انہیں شہریت نہیں دینی چاہیے؟ کیا ہم انھیں مرنے کے لیے پاکستان بھیج دیں؟‘ ۔

ایرانی حملے میں امریکی فوجی ،ہیڈ کوارٹرز تباہ ،متعدد ہلاک ہوئے ،سی این این کا اعتراف

نیویارک (نیٹ نیوز) امریکی ٹی وی چینل سی این این نے اعتراف کیا ہے کہ عراق کے عین الاسد فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے سے کم ازکم 10 مقامات تباہ ہیں۔ عراق میں امریکہ کی جانب سے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کا انتقام لینے کیلئے ایران کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارروائی میں عراق کے عین الاسد فوجی اڈے پر متعدد میزائل داغے گئے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے میزائل حملے کی بعد آل از ویل کا ٹوئٹ کیا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ حملے میں فوجی اڈے کو معمولی نقصان ہوا ہے جبکہ حقائق اس کے بر عکس ہیں اور خود سی این این کی رپورٹر نے جنہیں کافی مشکلات کے بعد عین الاسد فوجی اڈے جانے کی اجازت ملی تھی کہا کہ فوجی اڈے پر تباہ کاری کے مناظر کچھ اور ہی کہانی بتا رہے ہیں اور اڈے پر تباہی کے مناظر سے غیرمعمولی صورتحال کا اشارہ ملتا ہے۔ ایرانی حملے میں امریکی فوجیوں کے رہائشی کوارٹرز بھی تباہ ہوچکے ہیں ۔واضح رہے کہ امریکا کی دہشت گرد فوج نے جنرل قاسم سلیمانی کے کارواں پر دہشت گردانہ فضائی حملہ ایسی حالت میں کیا تھا کہ وہ حکومت عراق کی دعوت پر سرکاری دورے پر بغداد گئے تھے۔ دہشت گرد امریکی فوج کے اس دہشت گردانہ فضائی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھ ہی عراق کی عوامی رضا کار فورس کے ڈپٹی کمانڈر جنرل ابو مہدی الہمندس اور آٹھ دیگر افراد بھی شہید ہوگئے تھے۔ اس کھلی جارحیت کے جواب میں، عراق میں دہشت گرد امریکی فوج کے اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں میں کم سے کم اسی دہشت گرد امریکی فوجی ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ امریکی ٹی وی کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ فوجی اڈے پر تباہ کاری کے مناظر کچھ اور ہی کہانی بتا رہے ہیں اور اڈے پر تباہی کے مناظر سے غیر معمولی صورتحال کا اشارہ ملتا ہے۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق ایرانی حملے میں امریکی فوجیوں کے رہائشی کوارٹرز بھی تباہ ہوچکے ہیں۔ متاثرہ فوجی اڈے تک رسائی پانے والی صحافی نے کہا کہ فوجیوں نے انہیں بتایا ہے کہ حملے سے کئی گھنٹے قبل جان گئے تھے کہ کچھ نہ کچھ ہونے جا رہا ہے اس لیے احتیاطی تدابیراختیار کی گئی تھیں جبکہ کچھ فوجی بنکرز میں موجود تھے، زیادہ تر چیک پوسٹوں پر تعینات تھے۔ ایک امریکی فوجی نے بتایا کہ رات ایک بج کر 34 منٹ پر ایرانی میزائل حملے شروع ہوئے، حملے کا منظر بیان کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ ایک انتہائی خوفناک حملہ تھا تاہم احتیاطی تدابیر اور محفوظ مقامات پر منتقلی سے کافی جان بچ گئی۔

ایران،مظاہروں میں شرکت پر برطانوی سفیر گرفتارو رہا

واشنگٹن، لندن، تہران، ٹورنٹو، سڈنی (نیٹ نیوز) ایرانی پولیس نے حکومت کے خلاف نکالے گئے ایک جلوس میںشرکت کرنے پرتہران میں متعین برطانوی سفیر روب مکائیر کو حراست میں لے لیا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق برطانوی سفیر کوایک ریلی میں شرکت کے بعد گرفتار کیا گیا ۔ان سے تہران حکومت کے خلاف نکالے گئے جلوس میں شرکت کے بارے میں پوچھ تاچھ کی گئی۔ بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا۔ادھربرطانوی حکومت نے تہران میں اپنے سفیر کی گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی قرار یا ۔برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک ریپ نے ایک بیان میں کہاکہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران میں برطانوی سفیر روب مکایر کو حراست میں لیا گیا۔ وہ ایک ایسی ریلی میں شریک تھے جس میں یوکرین کے مار گرائے گئے مسافر طیارے کے مہلوکین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا رہا تھا۔ کسی ایسی پرامن ریلی میں شرکت پر سفیر کو حراست میں لینا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔برطانوی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اس وقت فیصلہ کن موڑ میں ہے۔ عالمی سطح پر ایرانی پرعاید کردہ پابندیوں کی وجہ سے تہران سیاسی، اقتصادی اور معاشی طور پرتنہا ہو رہا ہے۔ اسے مزید تنہائی کو بڑھانے یا عالمی سفارتی اصولوں کی پاسدارای کو یقینی بنانے میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ادھر امریکا نے بھی تہران میں برطانوی سفیر کی گرفتاری کو سفارتی آداب کی توہین قراردیتے ہوئے ایران پر زور دیا کہ وہ اس اقدام پر برطانیہ سے معافی مانگے۔ ایران میں یوکرینی مسافرطیاراگرنے کے واقعے کے حکومتی اعتراف کے بعد لوگ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، اورپاسداران انقلاب کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ان کے خلاف اے ڈکٹیٹر تم ایران کے داعشی ہو کے نعرے لگائے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں اس وقت لوگوں کی بڑی تعداد حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی جب ایران نے سرکاری سطح پر اعتراف کیا کہ حال ہی میں یوکرین کا ایک مسافر جہاز میزائل حملے کے نتیجے میں حادثے کا شکار ہوا تھا۔ مظاہرین سخت مشتعل اورغم وغصے میں تھے۔ انہوں نے پاسداران انقلاب کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ان کے خلاف اے ڈکٹیٹر تم ایران کے داعشی ہو کے نعرے لگائے۔ایرانی اپوزیشن کے ترجمان ٹی وی چینل ایران انٹرنیشنل کی طرف سے تہران میں نکالے جانے والے جلوس کی فوٹیج دکھائی گئی جس میں لوگوں کو پاسداران انقلاب کے خلاف داعشی کے نعرے لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ایران میں مظاہرین نے جہاں پاسداران انقلاب کے خلاف شدید نعری بازے کی وہیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ اور دیگر ایرانی عہدیداروں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔مظاہرین نے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی اور دیگر لیڈروں کی تصاویربھی پھاڑ کر پھینکیں۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے اپنے یوکرینی ہم منصب وولودیمیر زیلینسکی کو ٹیلیفون کر کے یقین دہانی کرائی ہے کہ یوکرین کے طیارے کو غلطی سے مار گرانے کے لئے ذمہ دار تمام لوگوں کی ذمہ داری طے کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔یوکرین کے صدر دفتر کی پریس سروس نے ہفتہ کو دونوں رہنماﺅں کے درمیان ٹیلیفون پر ہوئی بات چیت کے بعد یہ معلومات دی۔وولودیمیر زیلینسکی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران اپنی غلطی قبول کرے گا اور سرکاری طور پر معافی مانگنے کے بعد اس کے لئے ذمہ دار لوگوں کو سزا دے گا۔دریں اثناء ایران کے صدر حسن روحانی نے یوکرین طیارہ حادثے کے سلسلے میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سے فون پر بات چیت کی۔ ایرانی صدر دفتر کی جانب سے ایک پریس بیان جاری کر کے یہ معلومات دی گئی۔ حسن روحانی نے کہا کہ ایران اس حادثے کے سلسلے میں صورتحال کو واضح کرنے کے لئے بین الاقوامی قانون کے دائرے میں کسی بھی قسم کے بین الاقوامی تعاون کا خیر مقدم کرتا ہے اور اس مقصد کے لئے تمام قونصلر سہولیات فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر ایران اور کینیڈا کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت جاری رہے ۔جسٹن ٹروڈو نے ایک پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یوکرین طیارہ حادثے کی جانچ میں ایران نے کینیڈا کو تعاون کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ جسٹن ٹروڈونے کہا کہ جلد ہی کینیڈا کی ایک ٹیم اس حادثے کی جانچ کے لئے ایران پہنچے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید قتل عام نہ کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کے اعتراف کے بعد ایران میں ہونے والے مظاہروں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرائے جانے کے اعتراف کے بعد تہران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مظاہرین اور اخبارات کی جانب سے ملک کی قیادت پر دبا ڈالا جا رہا ہے۔امریکا کی خفیہ ایجنسی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے ایران کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی پر لگائے گئے الزامات مسترد کر دیئے۔امریکی ٹی وی کے مطابق امریکی صدر نے اپنی نیوز کانفرنس میں قاسم سلیمانی کو دنیا کا نمبر ون دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قاسم سلیمانی کی دہشت کا راج اب ختم ہو چکا، امریکی افواج نے ایک درست کارروائی میں انہیں قتل کیا۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو امریکا کی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے مسترد کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا علم نہیں کہ بغداد ائیرپورٹ پر حملے میں مارے گئے جنرل سلیمانی امریکا کے چار سفارتخانوں پر حملوں کی سازش کر رہے تھے۔اہلکاروں نے امریکی اخبار کو بتایا کہ صرف بغداد میں امریکی سفارتخانے کے خلاف سازش کا علم تھا لیکن وہ بھی غیر واضح تھا۔آسٹریلیا کے سیکڑوں طلبا نے جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کو شہید کرنے کے امریکا کے دہشت گردانہ اقدام کی مذمت میں ایک احتجاجی اجتماع کیا۔آسٹریلیا کے سیکڑوں طلبا نے سڈنی میں امریکی قونصل خانے کے باہر اجتماع کرکے جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کو شہید کرنے کے امریکا کے دہشت گردانہ اقدام کی مذمت کی اور امریکا سے شدید نفرت و بیزاری کا اعلان کیا۔ امریکا مخالف اس اجتماع کے شرکا نے آسٹریلیا کی حکومت سے کہا کہ وہ عراق سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بارے میں عراقی پارلیمنٹ کے بل کا احترام کرتے ہوئے اپنی فوج عراق سے واپس بلائے۔ امریکا کی دہشت گرد فوج نے تین جنوری کی علی الصبح بغداد ہوائی اڈے پر سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی الہمندس نیز ان کے کئی ساتھیوں کو دہشت گردانہ حملہ کرکے شہید کردیا تھا جس کے بعد پوری دنیا میں امریکا کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔

بارشوں ،بر فباری سے تباہی ،11افراد جاں بحق ،متعدد لاپتہ

لاہور، کوئٹہ، پشاور، کراچی، گلگت، استور، اسلام آباد، راولپنڈی (نمائندگان خبریں) بلوچستان حکومت نے متاثرہ اضلاع زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، کچھی، کولپور ہرنائی سمیت دیگر علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق پشین میں بارش اور برفباری کے باعث ایک گھر کی چھت گرنےسے 3 افراد جاں بحق اور ایک خاتون سمیت 3 بچے زخمی ہوئے، جن کو ریسکیو کرکے ڈی ایچ کیو منتقل کیا گیا جہاں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ژوب کے کلی شہابزئی میں برفباری کے باعث مکان کی چھت گرنے ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔ لاشوں کو سول ہسپتال ژوب منتقل کر دیا گیا ہے۔ ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کا کہناہے کہ صوبے کے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز اور دیگر اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورت سے نمٹنے کے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں برفباری سے نظام زندگی متاثر ہے۔ شہر کا زمینی رابطہ دیگر علاقوں سے مکمل طور پر منقطع جبکہ بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہے۔ کئی فٹ برف پڑنے سے کوئٹہ چمن شاہراہ بھی بند پڑی ہے۔ بین الاقوامی شاہراہ بھی ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہے جس سے افغان ٹریڈ ٹرانزٹ سمیت تمام ٹرانسپورٹ معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ اس صورتحال کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی انتظامات نہیں کئے گئے۔ حکومت بلوچستان شدید ترین برفباری کے پیش نظر صوبے میں سنو ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کا نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ ایمرجنسی زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، کچھی، کولپور اور ہرنائی سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں نافذ کی گئی ہے۔ ادھر بولان، بھاگ ناڑی، ڈھاڈر، بالا ناڑی اور گردونواح میں صبح سے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ بارش کے باعث فیڈر ٹرپ کرنے سے کئی علاقوں کی بجلی غائب ہے۔ اس صورتحال میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مچھ اور کولپور میں شدید برف باری سے راستے بند ہو چکے ہیں جنھیں انتظامیہ بحال کرنے میں مصروف ہے۔ راستے بند ہونے سے کئی گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ سبی اور گردونواح میں بارش کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ انتظامیہ نے اس صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے صوبے میں شدید برفباری اور اس ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کیلئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ جام کمال کا کہنا تھا کہ شدید برفباری کے باعث کچھ شاہراہیں بند تھیں جنھیں کھول دیا گیا ہے۔ حکومت بلوچستان برفباری کی صورتحال کے پیش نظر تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک آرمی بھی سٹینڈ بائی ہے۔ نوکنڈی، کیچ اور دیگر اضلاع میں ضلعی انتظامیہ اور فورسز عوام کی بحالی میں مصروف ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے پاس راشن اور دیگر سامان بھی موجود ہے۔ قومی شاہراہوں پر خوراک اور دیگر سامان کی ترسیل کا عمل گزشتہ روز سے جاری ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ سیلاب اور برفباری میں خطرے کے پش نظر عوام رات میں سفر کرنے سے گریز کریں۔ برفباری کی صفائی کے لیے خریدی گئی مشینری جلد پہنچ جائے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی گئی ہے کہ این ڈی ایم اے اور دیگر محکموں کو مزید فعال بنایا جائے۔ ملک کے بالائی علاقوں کی بات کی جائے تو وہاں برفباری کے باعث نظام زندگی مفلوج ہے۔ ہنزہ کا شاہراہ قراقرم اور بالائی علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ گلگت میں بھی رابطہ سڑکیں بند ہیں، جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سکردو میں بھی زندگی کا پہیہ جام ہے۔ شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ ٹریفک بھی معطل ہے۔ شدید برفباری کے ماعث قومی ائیر لائن کی پروازیں بھی منسوخ ہو گئی ہیں۔ شگر میں بھی برفباری کے باعث مقامی لوگ پریشانی سے دوچار ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا گلگت بلتستان اور پنجاب کے مختلف علاقے مغرب سے داخل ہونے والے سسٹم کے باعث بارشوں اور برفباری کی لپیٹ میں ہیں جب کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں آج شام بارش کا امکان ہے۔ برفباری کے باعث کوئٹہ کراچی شاہراہ مستونگ کے مقام پر بند ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں مسافر پھنس گئے ہیں، کوژک ٹاپ پر شدید برفباری کی وجہ سے کوئٹہ چمن شاہراہ اور کان مہترزئی کے مقام پر کوئٹہ اسلام آباد شاہراہ بند ہوگئی۔ پشاور، ہزارہ و مالاکنڈ ڈویژنز، کوہاٹ، اورکزئی اور چترال سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ شانگلہ کے میدانی علاقوں میں بارش پہاڑوں پربرفباری جاری ہے۔ دیرلوئر کے بالائی علاقے شاہی، بن شاہی، لڑم، کلپانی، لواری ٹنل، کمراٹ، عشیرئی درہ میں گزشتہ روز سے اب تک تین فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ بارش اور برفباری کے باعث لوگ اپنے گھروں تک محصور ہوکر رہ گئے ہیں جب کہ بجلی اور گیس کی بندش نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی گزشتہ روز سے شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ جس کی وجہ سے بلتستان ڈویژن کے تمام بالائی علاقوں کا زمینی رابطہ بدستور منقطع ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں جب کہ شدید سردی اور برف باری سے درخت بھی پھٹنے لگے، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید برفباری کا یہ سلسلہ 3 روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ بارش اور برفباری کا باعث بننے والا سسٹم بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاوہ سندھ پر بھی اثر انداز ہے تاہم اس کی شدت انتہائی کم ہے۔ کراچی سمیت مختلف علاقوں میں موسم ابر آلود ہے اور بیشتر علاقوں میں یخ بستہ ہواں کا راج ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں اتوار کی رات تک ہلکی بارش ہوسکتی ہے تاہم سردی کی شدت میں اصل اضافہ 13 جنوری کے بعد ہوگا، 15 اور 17 جنوری کے درمیان راتوں کو درجہ حرارت 5 سے 7 ڈگری تک گر سکتا ہے۔ اس سے قبل 2014 میں جنوری کا مہینہ اس قدر سرد ہوا تھا ، اس وقت بھی کم سے کم درجہ حرارت 7 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش اور برفباری کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔بلوچستان، خیبر پختونخوا گلگت بلتستان اور پنجاب کے مختلف علاقے مغرب سے داخل ہونے والے سسٹم کے باعث بارشوں اور برفباری کی لپیٹ میں ہیں۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت شمال مغربی بلوچستان میں گزشتہ روز سے بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ اور گرد و نواح میں گزشتہ روز سے اب تک ایک فٹ تک برفباری ہوچکی ہے، اس کے علاوہ چمن، زیارت، مستونگ، دشت اور کولپور میں بھی شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے، زیارت میں ہفتے کی دوپہر سے اتوار کی صبح تک 2فٹ سے زائد برفباری ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ گوادر، پنجگور اور دیگر علاقوں میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔برفباری کے باعث کوئٹہ کراچی شاہراہ مستونگ کے مقام پر بند ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں مسافر پھنس گئے ہیں، کوژک ٹاپ پر شدید برفباری کی وجہ سے کوئٹہ چمن شاہراہ اور کان مہترزئی کے مقام پر کوئٹہ اسلام آباد شاہراہ بند ہوگئی۔پشاور، ہزارہ و مالاکنڈ ڈویژنز، کوہاٹ، اورکزئی اور چترال سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ شانگلہ کے میدانی علاقوں میں بارش پہاڑوں پربرفباری جاری ہے۔ دیرلوئر کے بالائی علاقے شاہی، بن شاہی، لڑم، کلپانی، لواری ٹنل، کمراٹ، عشیرئی درہ میں گزشتہ روز سے اب تک تین فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ بارش اور برفباری کے باعث لوگ اپنے گھروں تک محصور ہوکر رہ گئے ہیں جب کہ بجلی اور گیس کی بندش نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔قلات شہر اور گردونواح میںبرف باری درختوں اور پہاڑوں نے سفید چادر اوڑ لی شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی برف سے لطف اندوز ہونے کے لیئے پہاڑوں کی طرف نکل پڑے قلات کے سیاحتی مقام کوہ ہربوئی پر دو فٹ سے زیادہ برف پڑی جس سے ہربوئی کا واحد زمینی راستہ متقطع ہو گیا ۔دالبندین سمیت چاغی بھر میں دو روزمسلسل بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی پاک ایران ریلوے ٹریک متاثر ماشکیل کے راستے میں متعدد گاڑیوںمیں مسافر پھنس گئے تفصیلات کے مطابق ضلع چاغی کے تحصیل دالبندین، یک مچھ ،نوکنڈی، تفتان سمیت ضلع بھر کے تمام علاقوں میں شدید موسلدھار بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی گلی محلوں میں بارش کا پانی سیلاب کا منظر پیش کرنے لگے۔

دورہ ایران حسن روحانی جواد ظریف سے ملاقاتیں ،کشیدگی کم کرنے کا مشورہ ،پرائی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،شاہ محمود قریشی

تہران‘ مشہد (مانیٹرنگ ڈیسک‘ نیوز ایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایران پہنچ گئے جہاں انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی اور ایران امریکا کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔تفصیل کے مطابق حالیہ ایران امریکا کشیدگی میں کمی لانے کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایران پہنچ گئے جہاں انہوں نے ایرانی صدر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ایران، امریکا اور پاکستان کے تعلقات پر بات چیت کی گئی۔وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ گہرے aذہبی، تاریخی اور ثقافتی تعلقات ہیں، پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، ایران امریکا کشیدگی کا معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان خطے میں کسی بھیجنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔اعلامیے کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ایران امریکا کشیدگی، خطے میں امن و امان کی صورتحال اور پاک ایران کثیرالجہتی، تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے مابین گہرے، تاریخی، مذہبی اور ثقافتی برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان ،ایران کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ نے حالیہ صورتحال پر پاکستان کا موقف ایرانی صدر کے سامنے رکھتے ہوئے، خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے معاملات کو سفارتی ذرائع بروئے کار لا کر افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے پاکستان کی طرف سے قیام امن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کشیدگی میں اضافے کا متمنی نہیںپاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے تہران میں ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمدجواد ظریف سے اہم دو طرفہ علاقائی اور عالمی مسائل پر بات چیت کی۔پاکستانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا کی حساس صورتحال کے پیش نظر پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی تہران کے دورے پر آئے ہیں۔ قبل ازیں پاکستانی وزیرخارجہ نے اپنے دورہ ایران کا آغاز مشہد مقدس میں امام رضا علیہ السلام کی زیارت سے کیا۔ انہوں نے اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر کی زیارت سے دورے کا آغاز میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ شاہ محمود قریشی نے مشہد مقدس میں پاکستانی زائرین کے لئے بہترین سہولیات فراہم کرنے پر صوبہ خراسان رضوی کے گورنر اور حرم مطہر کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ شاہ محمود قریشی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت انجام پایا ہے جب خطے میں امریکا کے دہشت گردانہ اقدامات اور مداخلت پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ پاکستانی وزیرخارجہ پیر کو تہران کا دورہ مکمل کرکے سعودی عرب کے دورے پر ریاض جائیں گے۔ ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے پانچ جنوری کو بھی اپنی ٹیلی فونی گفتگو میں اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات چیت کی تھی۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے صوبہ خراسان کے گورنر جنرل علی رضا رزم حسینی سے اتوار کو ملاقات کی۔گورنر جنرل نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور ان کے وفد کو مشہد تشریف آوری پر خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے زیارت کیلئے تشریف لانے والے سالانہ تیس لاکھ زائرین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں ۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پر تپاک استقبال پر گورنر جنرل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اپنے حالیہ دورے کا آغاز اس مقدس مقام کی زیارت سے کرنا ،باعث سعادت سمجھتا ہوں ،پاکستان سے زائرین کی ایک بڑی تعداد ہرسال روضہ امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے یہاں آتی ہے۔وزیر خارجہ نے پاکستانی زائرین کے لئے بہترین انتظامات کرنے پر گورنر کا شکریہ ادا کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشہد میں امام رضا کےروضہ مبارک پر بھی حاضری کے بعد وہ تہران روانہ ہو گئے۔ایران روانگی سے قبل شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ خطے میں تنا کی کیفیت کو اعتدال پرلانے کی ضرورت ہے، ضرورت ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔ایران کے بعد شاہ محمود قریشی پیر کو سعودی عرب جائیں گے جہاں وہ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان بن عبد اللہ سے ملاقات کریں گے۔

ایران نے یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرلیا

ایران نے یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ارادی طور پر ’انسانی غلطی‘ کی وجہ سے طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔برطانوی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج نے سرکاری نشریاتی ادارے پر جاری بیان میں کہا کہ رواں ہفتے کے آغاز میں تباہ ہونے والا یوکرینی طیارہ پاسداران انقلاب سے وابستہ حساس ملٹری سائٹ کے قریب پرواز کررہا تھا اور اسے انسانی غلطی کی وجہ سے غیر ارادی طور پر نشانہ بنیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ ذمہ دار فریقین کو فوج کے اندر جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا جائ گا اور ان کا احتساب ہوگا۔ایرانی فوج نے سرکاری نشریاتی ادارے پر نشر کیے گئے بیان میں طیارے حادثے میں ہلاک متاثرہ افراد کے خاندان سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔مزید پڑھیں: ایران میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، 176 افراد ہلاکایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی اِرنا کی رپورٹ کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے بیان میں کہا کہ ’ بدھ کی صبح (8 جنوری) کے ابتدائی گھنٹوں میں ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے المناک حادثے کی وجوہات کیتحقیقات کے لیے فوری طور پرتکنیکی اور آپریشن ماہرین پر مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی‘۔بیان میں طیارہ حادثے کے بعد سے ہونے والے تحقیقات کی تفصیلات بتائی گئیں کہ ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد امریکی فورسز کے جنگی طیاروں نے ایران کے گرد فضائی حدود میں پرواز میں اضافہ کردیا تھا جن میں سے کچھ کے دفاعی اہداف کی جانب حرکت کرنے کی رپورٹس بھی سامنے آئی تھیں، اس کے ساتھ ہی ریڈار پر ایسے کیسز بھی دیکھے گئے تےھے جن کے لیے ایرانی ایئرفورس یونٹس کے مزید چوکس رہنے کی ضرورت تھی۔یہ بھی پڑھیں: ایران کا جوابی وار، عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل ملےان میں کہا گیا کہ ایسی نازک اور پیچیدہ صورتحال میں یوکرین ایئرلائنز کی پرواز 752 جس نے امام خمینی انٹرنیشنل رپورٹ سے اڑان بھری تھی وہ پاسداران انقلاب سے وابستہ حساس فوجی مقام سے بہت نزدیک پرواز کررہا تھا